ڈس انفارمیشن یا فیک نیوز : ہتھیار سے زیادہ خطرناک
فیک نیوز یہ ایک ایسی اصطلاح ہے جو سوشل میڈیا کی وجہ سے سب کے لیے ایک جانی پہچانی ’چیز‘ بن گئی ہے۔ جی ہاں، سماجی دانش ور اسے ’عالمی اور مقامی منڈی کی حکمت عملی‘ سمجھتے ہیں۔ غلط معلومات، جعلی خبریں یا انگریزی اصطلاح میں ڈس انفارمیشن ان کا مطلب یہ ہے کہ وہ خبریں یا معلومات جو کسی شخص، سماجی گروپ، تنظیم یا ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے جان بوجھ کر غلط افواہیں پھیلائی جاتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں یہ اصطلاح خاص طور پر سوشل میڈیا پر ”فیک نیوز“ کے پھیلاؤ سے منطقی سیاسی مہم چلانے کی حکمت عملی کے طور پر وابستہ ہو گئی ہیں۔
اس قسم کی فیک نیوز یا یوں کہہ لیں غلط معلومات پھیلانے کے پیچھے کوئی نہ کوئی ایجنڈا ضرور ہوتا ہے جس کے تحت حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ سننے اور پڑھنے والوں کا اعتماد حاصل کیا جا سکے یا انہیں شکوک و شبہات میں مبتلا کیا جا سکے اور اس کے پیچھے کسی کا نقصان اور کسی کا مفاد ضرور وابستہ ہوتا ہے اور اس قسم کی ساری مہم باقاعدہ پلاننگ کے تحت کی جاتی ہیں اور ایک اچھی خاصی رقم اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے خرچ کی جاتی ہے۔
اگر ہم پرانے وقتوں کی بات کریں جب پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اتنا ایڈوانس نہیں تھا اس وقت جھوٹ صرف منہ سے پھیل سکتا تھا جس کا معاشرے پہ اثر محدود ہوتا تھا۔ لیکن اب اس جدید اور ٹیکنالوجی بھرے زمانے میں یہ کام آسان ہو گیا ہے سوشل میڈیا یعنی کہ فیسبک، ٹویٹر، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور دیگر سوشل سائٹس کی ایجاد کے بعد تو جھوٹ روشنی کی رفتار سے بھی زیادہ برق رفتاری کے ساتھ دنیا کے کونے کونے میں موجود لوگوں تک آسانی سے پہنچ جاتا ہے۔
ہم ایک ایسی دنیا میں جی رہے ہیں جہاں لوگ اب سوشل میڈیا کو صرف انٹرنیٹ کا دروازہ نہیں سمجھتے، بلکہ ’خبر‘ کا ایک اہم ذریعہ بھی سمجھتے ہیں اور ویسے بھی انسان کے سامنے ایک چیز بار بار دہرائی جائے تو انسان اسے سچ سمجھنے لگتا ہے خواہ وہ جھوٹ ہی کیوں نہ ہو اس قسم کی جعلی خبروں کے نتائج سنگین بھی ہو سکتے ہیں معاشرے میں افراتفری پھیل سکتی ہے۔ جو 2017 میں بھارت میں ہونے والے واقع سے صاف ظاہر ہے کہ یہ کتنی خطرناک حکمت عملی ہے۔
بھارت میں جھاڑکھنڈ میں گاؤں والوں نے سات لوگوں کو تشدد کر کے ہلاک کر دیا تفتیش کرنے پر پولیس کو پتا چلا کہ اس کی وجہ واٹس ایپ کا ایک پیغام تھا جو وائرل ہوا تھا اور اس میں لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اجنبیوں سے ہوشیار رہیں کیونکہ وہ بچوں کو اٹھانے والے گینگ سے تعلق رکھتے ہیں اس جھوٹے پیغام کا خطرناک نتیجہ نکلا۔ فیک نیوز کی مختلف اقسام ہیں جن کو پھیلانے والے اپنی ترجیحات کی بنیاد پر استعمال کرتے ہیں پہلی اقسام جس میں کسی فرد یا ادارے یا ملک کے طرف سے دیے گے بیان کو ایک غلط زاویے میں پیش کرنا شامل ہے تاکہ ان کی ساخت کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ دوسری اقسام جس میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے اس کے پیچھے بھی زیادہ تر سیاسی مفاد وابستہ ہوتے ہیں۔ تیسری اقسام ٹوٹل جھوٹ پر مبنی ہوتی ہے جس میں کسی بھی فرد یا ادائے یا ملک کے متعلق تمام تر باتیں یا خبریں بے بنیاد یا حقیقت کے منافی ہوتی ہیں جس میں کہیں کوئی صداقت نہیں ہوتی۔
پاکستان میں زیادہ تر تیسری قسم کی جعلی خبریں یا غلط معلومات سادہ لوح عوام تک پہنچائی جاتی ہیں جس پر بنا کسی تحقیق کے ہم اسے سچ مان کر ردعمل بھی شروع کر دیتے ہیں اور اپنی اپنی پولیٹکل پارٹی کے اس پروپیگنڈے کا شکار ہو کر انتہا تک پہنچ جاتے ہیں اور ہماری سیاسی جماعتیں جب چاہتی ہیں ہمیں اس کے ذریعے استعمال کرتی ہیں۔ عمران خان صاحب کی سابقہ حکومت میں اس تکنیک کا بڑی فروغ دلی سے اپنے سیاسی حریفوں کے خلاف استعمال کیا گیا مثلاً
یکم جولائی 2019 کو اے این ایف نے پاکستان مسلم لیگ نواز پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ کو 15 کلو ہیروئن کے الزام میں موٹروے پر گرفتار کیا اور شہریار آفریدی جو اس وقت نارکوٹکس کنٹرول کے منسٹر تھے اللہ کو حاضر ناظر جان کر یک بعد دیگرے تین پریس کانفرنس کر ڈالی اور کہا کہ ہمارے پاس رانا ثنا اللہ کے خلاف ویڈیو ثبوت موجود ہیں جو ہم عدالت میں پیش کریں گے رانا ثناءاللہ 6 ماہ جیل میں رہے لیکن حکومت کوئی ثبوت پیش نہ کر سکی جس کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔
اس سارے حربے کا مقصد صرف اپنے سیاسی حریف کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا کیوں کہ ہماری عوام کے دلوں میں جب کوئی بات کسی شخص کے متعلق اتر جاتی ہے تو پھر اس شخص کو فرشتے بھی آ کر بے گناہ ثابت کر دیں ہم نے نہیں ماننا ہوتا۔ رانا ثناءاللہ والے معاملے میں پریس کانفرنس پوری دنیا میں مشہور ہوئی اور پاکستان اور پاکستانی پارلیمنٹیرینز کی بدنامی ہوئی صرف اس جھوٹی خبر کی بنیاد پر۔
اسی حکومت کی ایک اور فیک نیوز کی بات کریں تو عمران خان صاحب نے 24 جون 2020 کو قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر دعوی کیا کہ پاکستان کے تیس فیصد پائلٹس کی ڈگریاں اور لائسنس جعلی ہیں پاکستان میں اس وقت ٹوٹل 860 کمرشل پائلٹ تھے اور حکومت نے ان میں سے 262 کو مشکوک قرار دے دیا۔
یہ خبر پوری دنیا میں بریکنگ نیوز بن گئی اور پاکستانی ائر لائن کی ساخت بری طرح متاثر ہوئی آدھی دنیا نے پی آئی اے پر پابندی لگا دی اور غیر ملکی ائرلائن نے پاکستانی پائلٹ گراؤنڈ کر دیے جس سے قومی ائرلائن کو آٹھ ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا بعد میں یہ معاملہ بھی فیک نیوز نکلا اب سوال یہ ہے کہ اس فیک نیوز کا بھی ذمہ دار کون تھا اور پیکا آرڈیننس کے تحت کس کو سزا ملنی چاہیے؟ اس قسم کی بہت سی چولیں پاکستان تحریک انصاف کے دور میں ماری گئیں اور ان کے فالورز اور ہماری بہت سی سادہ لوح عوام بنا کسی کراس چیک کے ان پر یقین بھی کرتی رہیں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر آگے شیئر کرتی رہیں جس سے پاکستان کی دنیا میں جگ ہنسائی ہوئی۔
اگر ہم اسی حکومت کی اور فیک نیوز کی بات کریں تو فیصل واوڈا نے اپریل 2019 میں ایک میڈیا ٹاک شو میں بیٹھ کر کہا تھا کہ پاکستان میں اتنی نوکریاں آنے والی ہے کہ ہر بندہ خوشحال ہو جائے گا اور ٹھیلے والا بھی کہے گا کہ مجھ سے ٹیکس لیں اور عوام نے اس بیان کے بعد ان کی بھی واہ واہ کار کی لیکن اب ان کی حکومتیں ختم ہو چکی ہے اور یہ بیان بھی غلط ثابت ہوا۔ اس قسم کی کھچوں کا سلسلہ ایک یا دو فیک نیوز سے بند نہی ہوتا بلکہ حکومت اپنے تقریباً چار سالہ دور میں وقفے وقفے سے غلط معلومات کے ذریعے پاکستانی عوام کا منورنجن کرتی رہی اور عوام بھی دھرہ دھر کسی تحقیق کے ان کی ہر معلومات کو ٹویٹر کے ذریعے آگے پہنچاتی رہی۔
جیسا کہ 2019 میں فواد چوہدری جو وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی تھے نے دعوی کیا کہ دنیا کے سب سے بڑی ٹیلی سکوپ ہیبل اسپارکو نے خلا میں بھیجی ہے جبکہ یہ کارنامہ ناسا کا تھا۔ شہریار آفریدی نے بھی ایک اور فیک نیوز پھیلائی کے اے این ایف کے 97 سے 98 فیصد مقدمات کا فیصلہ ہو چکا ہے اور حوالے میں یو این او ڈی سی کی رپورٹ کا ذکر کیا جب کہ اس ادارے نے کوئی رپورٹ نشر ہی نہیں کی۔ اس کے بعد علی زیدی نے بھی اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ میں مقبوضہ کشمیر میں پولیس کے لاٹھی چارج کی تصویر شیئر کر دی جسے دو لاکھ لوگوں نے دیکھا اور چھ ہزار لوگوں نے آگے شیئر کیا بعد میں وہ تصویر ہریانہ میں پولیس لاٹھی چارج کی نکلی جسے لوگوں نے حق سچ سمجھ کے شیئر کیا تھا۔
اس کے علاوہ مراد سعید نے دعوی کیا کے گورنر نیویارک نے پاکستان کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی تعریف کرتے ہوئے اس سے نیویارک کے لیے بھی تجویز کیا ہے بعد میں یہ دعویٰ بھی غلط ثابت ہوا یہ بھی فیک نیوز نکلی۔ اگر ہم حالیہ سیاسی بحران کی بات کریں تو اس میں بھی سابقہ حکومت نے اپنا بیانیہ سچ ثابت کرنے کے لیے جعلی دستاویزات اور جھوٹے مضامین کا سہارا لینا شروع کیا۔
وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بینظیر بھٹو سے منسوب جعلی خط میں دعویٰ کیا کہ سابق وزیراعظم نے پاکستان کا جوہری پروگرام روکنے کے لیے امریکا کو امداد روکنے کا مشورہ دیا تھا۔ وفاقی وزیر شیریں مزار نے جعلی خط پر اپنے تبصرے میں کہا کہ اس جماعت نے ماضی میں ایسا کیا اور اب پی پی پی ہر وقت اقتدار میں آنے کے لیے بیتاب مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مل کر پھر بیرونی قوتوں کو اپنے کھیل کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
اس طرح حکومت نے ایک بار پھر اپنے سیاسی حریفوں کو عوام کی نظر میں مجرم بنا دیا اور عوام نے بھی من و عن اسے تسلیم کر لیا بنا کسی تحقیق کے بعد میں شیریں مزاری کا ٹویٹ کیا گیا خط جعلی نکلا، ایک صحافی نے 2011 میں امریکی سینیٹر پیٹر گلبرائتھ کے خط کے بارے میں بتایا کہ امریکی سینیٹر کے نام سے پھیلایا جا رہا یہ خط جعلی ہے بعد میں شیریں مزاری نے وہ ٹویٹ ڈیلیٹ کر دیا۔ یہ تو پچھلے چار سالوں میں سیاست کے حوالے سے کچھ فیک نیوز تھیں جن کو صرف اور صرف اپنے سیاسی حریفوں کو غدار اور مجرم اور ان کی اپنے ملک کی عوام میں عزت کم کرنے کے لئے پھیلایا گیا۔
اس کی علاوہ ملکی سطح پر بھی ایک ملک دوسرے ملک کے خلاف اس قسم کے ہتھکنڈوں کا استعمال کرتا ہے تاکہ انٹرنیشنل لیول پر اس ملک کی ساخت کو نقصان پہنچایا تھا جا سکے جیسا کہ اگر ہم ماضی قریب کی بات کریں تو بھارت کی طرف سے پاکستان پر الزام لگایا گیا کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردوں کو مدد فراہم کرتا ہے اور دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہے اور سارے پروپیگنڈے میں انڈین میڈیا نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس کے علاوہ انڈین صحافیوں اور عوام کی طرف سے پاکستان میں خانہ جنگی کے حوالے سے بھی فیک نیوز پھیلائی گئیں جو سراسر بے بنیاد تھیں۔ اگر ہم تفصیل سے مطالعہ کریں تو فیک نیوز اور غلط معلومات کے ذریعے پوری دنیا میں جس جس طرح ملکوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف جو محاذ کھولے گئے اس پر پوری کتاب لکھی جائے۔
کیوں کہ جعلی خبریں ہوں یا غلط معلومات ہوں جدید دور میں ہتھیاروں سے بھی زیادہ خطرناک ہیں کیوں کہ ہتھیار صرف اس فرد یا گروہ کو نقصان پہنچاتا ہے جس کے خلاف استعمال کیا گیا ہو لیکن غلط معلومات کا پھیلاؤ معاشرے میں افراتفری اور سنسنی پھیلا دیتا ہے اور پڑھنے والے کو اس قسم کے جھوٹ پھیلانے والے کے دماغ کے مطابق سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے اور عوام نا چاہتے ہوئے بھی اس جھوٹی سازشوں کا حصہ بن جاتی ہے جس کی گراؤنڈ ریالٹی اسے خود نہیں پتہ ہوتی۔
لہذا ہمیں چاہیے کہ ہمارے تک جو بھی انفارمیشن پہنچے اگر وہ ٹویٹر کے ذریعے کسی آفیشل کے اکاؤنٹ سے پہنچے تب بھی اسے مختلف سورس سے کراس چک کر لیں اور اگر واٹس ایپ کے ذریعے پہنچے تو سینڈ کرنے والے سے اس کے متعلق معلومات لیں کہ اسے یہ انفارمیشن کہاں سے ملی یہ بھی شعور کی علامت میں آتا ہے کہ آپ سنی سنائی باتوں کو بنا تصدیق کے آگے ڈلیور نہ کریں اگر پاکستان کی عوام ان دونوں طریقوں پر عمل پیرا ہو جائے تو شاید کسی حد تک فیک نیوز کو روکا جا سکتا ہے


