لہو وجود ریاست اور پاکستان کا ہٹلر۔۔۔2/2


اب آئیے دیکھتے ہیں کر پشن کے بیانیے کا حقیقت میں اقتدار میں آنے کے بعد عمران خان نے کیا حشر کیا؟ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل، برلن جرمنی میں قائم ایک پرائیویٹ ادارہ ہے جو تمام دنیا میں کرپشن اور بد عنوانی پر ریسرچ کرتا ہے اور اس ریسرچ کے نتیجے میں اقوام عالم کی درجہ بندی کرتا ہے۔ کرپشن اور بدعنوانی کی درجہ بندی کی رپورٹ کو ’کرپشن پرسیپشن انڈیکس‘ کہا جاتا ہے۔ کرپشن اور بدعنوانی پر یہ رپورٹ ساری دنیا میں معتبر ترین رپورٹ شمار ہوتی ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ کے مطابق 180 ممالک کی درجہ بندی میں پاکستان عالمی درجہ بندی میں شفافیت میں 180 میں سے 140 نمبر پر ہے۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں پاکستان میں کرپشن اور بدعنوانی میں کافی تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور تحریک انصاف کی حکومت پاکستان کی بدعنوان ترین حکومت تھی۔ اس رپورٹ کے مطابق پاکستان 2018 میں شفافیت میں 117 ویں نمبر پر تھا اور آج 2021 میں پاکستان شفافیت میں 140 نمبر پر ہے۔ دوسرا بیانیہ ریاست مدینہ جیسی ریاست بنانے کا تھا۔ بد قسمتی سے عمران خان کے سیاسی مشیروں نے اسے دلفریب نعروں کی منظرکشی سے خواب بیچنا اور لوگوں کے مذہبی جذبات کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا سکھایا۔

ریاست مدینہ، ساری دنیا کے کمزور طبقات کی امید ہے۔ لیکن عمران خان نے پاکستان کے عوام کے مذہبی جذبات کے پیش نظر اسے اپنی سیاست اور ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کیا۔ ریاست مدینہ کے والی ساڑھے تین سو کنال کے محل میں نہیں ایک کچے کمرے کے مکان میں رہتے تھے۔ ریاست مدینہ میں شیخ رشیدوں، حسن نثاروں اور ثاقب نثاروں کی پرورش اور حوصلہ افزائی نہیں ہوتی تھی، ریاست مدینہ میں کھربوں کی بدعنوانیوں کی داستانیں نہیں تھیں۔ ریاست مدینہ میں بدترین معاشی پگھلاؤ کے باوجود سب خیر ہے کا نعرہ مستانہ بلند نہیں ہوتا تھا۔ ریاست مدینہ میں طاقتور اور کمزور کے لئے الگ قانون نہیں تھا۔

ریاست مدینہ کے دعویداروں کی کارکردگی ملاحظہ ہو۔ عمران خان صاحب کے ساڑھے تین سال بدترین معاشی استحصال کا دور ہے۔ معیشت سکڑ چکی۔ پاکستانی روپیہ اپنی قدر روزبروز کھو رہا ہے۔ ایک امریکی ڈالر 190 روپے تک جا پہنچا۔ ادویات کی قیمتوں میں 5 گنا اضافہ، بجلی کی قیمت میں چار گنا اضافہ، پٹرول اور گیس کی قیمتیں بالترتیب 150 روپے اور 200 روپے ہیں۔ آٹا 80 روپے کلو، اور چینی سو روپے کلو بک رہی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے سے صرف ایک ارب ڈالر لینے کے لیے ناک سے لکیریں تک کھینچ دیں۔ ریاست کا مالیاتی نظام عملی طور پر عالمی مالیاتی ادارہ براہ راست چلا رہا ہے اور ریاست کو مداخلت کی بھی اجازت نہیں ہے۔

ریاست مدینہ کے دعویداروں کے دور حکومت میں ملک کی ایک بیٹی کی عصمت اس کے معصوم بچوں کے سامنے قومی شاہراہ پر تار تار کردی جاتی ہے اور قانون کے رکھوالے نے فرمایا، رات کے وقت اکیلے گھر سے نہیں نکلنا چاہیے تھا غلطی اسی خاتون کی ہے۔ قانون کے محافظ، ساہیوال میں قومی شاہراہ پر ایک بے گناہ پاکستانی کو اس کے بچوں سمیت گولیوں سے بھون دیتے ہیں، مری میں تفریح کے لیے نکلنے والے پاکستانی فیملیز، لاوارثوں کی طرح سڑکوں پر تڑپ تڑپ کر اپنی جانیں گنواتے رہے اور ریاست کے جوں تک نہ رینگی۔ آٹا، چینی، ادویات، پٹرولیم اور گیس کی مد میں سرمایہ دار طبقات غریب عوام کا خون نچوڑتے رہے۔ غربت، بے روزگاری، اور مہنگائی سے تنگ آئے غریب عوام بچے بیچتے رہے اور خودکشیاں کرتے رہے اور ان کو نکالنے کی سازش امریکہ نے کی؟

ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں!

تیسرا بیانیہ احتساب کا تھا، سابقہ بد عنوانیوں کے احتساب کی نوبت تو جب آتی، جب ان کو خود مال بنانے سے فرصت ملتی۔ جسٹس (ر) وجیہہ الدین، اکبر ایس بابر، محسن بیگ، چوہدری سرور، علیم خان، عون چوہدری، عظمیٰ کاردار، عامر لیاقت اور دوست مزاری کی گواہیاں تو ابتدا ہیں آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟

احتساب کے دعویداروں سے پاکستان کے عوام پوچھتے ہیں کیا فارن فنڈنگ کا احتساب ہو گا؟ کیا پشاور بی آر ٹی کرپشن کا احتساب ہو گا؟ کیا بلین ٹری سونامی سکینڈل کا احتساب ہو گا؟ کیا ڈالر 190 روپے تک پہنچنے کا احتساب ہو گا؟ کیا آٹا، چینی، گندم اور ایل این جی اسکینڈل میں بدعنوانی کا احتساب ہو گا؟ کیا بشریٰ بی بی، فرح گوگی اور عمران خان کی مبینہ بدعنوانیوں کا احتساب ہو گا؟ کیا ملکی معیشت کو عالمی مالیاتی ادارے کے آگے گروی رکھنے کا احتساب ہو گا؟

کیا ریاستی اداروں کو اپنے ذاتی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا احتساب ہو گا؟ کیا کرونا امداد فنڈ میں 350 ارب کی بد عنوانی کا احتساب ہو گا؟ کیا راولپنڈی رنگ روڈ سکینڈل کا احتساب ہو گا؟ کیا نئے نصاب کی آڑ میں، مذہب میں کی گئی تحریفات کا احتساب ہو گا؟ کیا ایک ایک ٹرانسفر پوسٹنگ کی مد میں تین سے چار کروڑ روپے لی گئی رشوت کا احتساب ہو گا؟

صاحبان علم! کرپشن اور احتساب کے دلفریب نعرے کے ساتھ اقتدار میں آنے والا کیا آج مجسم کرپشن اور بدعنوانی نہیں نظر آ رہا؟ تینوں بیانیے بری طرح پٹنے کے بعد جب ہاتھ پاؤں پھولے تو فارن پالیسی اور امریکی سازش کا بیانیہ لے آیا۔ کیا اتنی بری کارکردگی والے کو کسی بین الاقوامی سازش کی ضرورت ہے؟ سوال یہ ہے کہ امریکی صدر کے فون کی بھیک مانگنے والا، امریکہ کی سوچ کے مطابق سی پیک کو بند کرنے والا، سی پیک کے سیکرٹ معاہدے، چائنہ کے ساتھ وعدہ خلافی کرتے ہوئے امریکی اخبارات، نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن پوسٹ میں چھپوا نے والے کو امریکہ کیوں نکالے گا؟ کیا باشعور پاکستانی اس بہروپیے کو اب بھی نہیں پہچانیں گے؟

سنہرے خواب دکھانے میں خوب ماہر ہے
وہ بیوقوف بنانے میں خوب ماہر ہے
وطن چلانا تو اس آدمی کے بس کا نہیں
مگر وہ باتیں بنانے میں خوب ماہر ہے!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

محمد سجاد آہیر

محمد سجاد آ ہیر تعلیم، تدریس اور تحقیق کے شعبے سے ہیں۔ سوچنے، اور سوال کرنے کا عارضہ لاحق ہے۔ بیماری پرانی مرض لاعلاج اور پرہیز سے بیزاری ہے۔ غلام قوموں کی آزادیوں کے خواب دیکھتے اور دکھاتے ہیں۔

muhammad-sajjad-aheer has 37 posts and counting.See all posts by muhammad-sajjad-aheer

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments