پاکستان کے اصل دشمن کون ہیں؟
چند دن پہلے خبر پڑھنے کو ملی کہ ایک خاتون آسٹریلین سیاح کی شکایت پر اس سے 12000 ڈالرز ہتھیانے کے الزام میں ملتان کے علاقے قاسم بیلہ سے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بڑی اچھی بات ہے کہ پولیس نے اس کی شکایت سنی اور فوری ایکشن بھی لیا۔ اب آگے کیا ہوتا ہے، ابھی اس کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ہمارے پاکستانی بھائیوں نے غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ اس قسم کے ”حسن سلوک“ سے ہماری یعنی اسلامی جمہوریۂ پاکستان المعروف ”ریاست مدینہ“ کی نیک نامی کو چار چاند نہ لگائے ہوں۔ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے ایک آسٹریلوی سیاح (Luke Damant) سے اپنے ایک مری والے پاکستانی بھائی نے گھڑ سواری کے بعد طے شدہ معاوضے سے زیادہ وصول کرنے کی کوشش کی۔ وہ سیاح کے ساتھ ساتھ یوٹیوبر بھی ہے۔ وہ اس پاکستانی کے مکروہ فعل کی ویڈیو بھی بنا رہا تھا۔ لیکن اس پاکستانی بھائی کو کوئی شرم، ڈر یا خوف محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ جب پوری دنیا میں پاکستان کے نام کے ساتھ یہ ویڈیو دیکھی جائے گی تو اس ملک کی عزت پر کتنا حرف آئے گا۔ ہمیں ان چیزوں کی کب پروا ہے؟ پروا ہے تو صرف اپنے پیٹ کو حرام اور ناجائز منافع خوری سے بھرنے کی۔
یہاں پر بس نہیں ہوئی۔ یہی سیاح جب کراچی کے ساحل سمندر پر بھی گھڑ سواری کی غلطی کر بیٹھا تو وہاں والے پاکستانی بھائی بھی اسی غلیظ حرکت کے مرتکب ہوئے۔ طے شدہ معاوضے سے کئی گنا زیادہ کا مطالبہ کر دیا اور انتہا درجے کی بدتمیزی پر اتر آیا۔ اتفاق سے ملتان سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان بھی ادھر سیر کو آیا ہوا تھا۔ اس غیر ملکی نے اس ملتانی بھائی سے مدد مانگی۔ بالآخر اس پاکستانی نے اپنی جیب سے ادائیگی کر کے اس کی جان چھڑوائی۔
اس یوٹیوبر نے ویڈیو یوٹیوب پر ڈالی کہ پاکستان کے شہر کراچی کے ساحل پر اس گھڑسوار سے بچ کے رہنا۔ بدنامی کس کی ہوئی؟ پاکستان کی۔ اس ظالم نے یہ نہیں سوچا کہ ویڈیو بھی بن رہی ہے۔ اس کو پوری دنیا میں لاکھوں لوگ دیکھیں گے اور سر دھنیں گے کہ واہ کیسا شاندار ملک ہے پاکستان۔ شکر ہے یہاں بھی پولیس ویڈیو دیکھ کر حرکت میں آئی، اس گھڑسوار کو گرفتار کیا، اس کی جیل کی سلاخوں کے پیچھے کھڑے کر کے ویڈیو بنائی۔ شاید اس سے زائد پیسے وصول بھی کیے۔
اس طرح اس غیر ملکی سیاح کی تھوڑی بہت اشک شوئی ہو گئی۔ یاد رہے کہ یہ وہ سیاح ہے جو تھوڑے سے وقفے کے بعد دوبارہ پاکستان آیا تھا۔ اس کی ویڈیوز میں آپ کو بے شمار ایسے واقعات مل جاتے ہیں جہاں پاکستانیوں نے اس کی ناقابل یقین مہمان نوازی کی۔ اس سے ہوٹل والوں نے ناشتے اور کھانے کے پیسے نہیں لیے۔ ایک دو موقعوں پر اس کے کھانے وغیرہ کے بل عام پاکستانیوں نے زبردستی ادا کیے۔ ان شاندار مثالوں میں کراچی، ملتان اور مری جیسے واقعات ایک بد نما دھبے سے کم نہیں ہیں جنہوں نے بطور پاکستانی ہمارے سر شرم سے جھکا دیے ہیں۔
کراچی کے اس واقعے کی گونج ابھی فضاؤں میں موجود تھی کہ ٹھیک اسی جگہ پر سکاٹ لینڈ کے ایک سیاح (Dale Philip) کے ساتھ بالکل ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ اس کی بھی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس نے بروقت کارروائی کی، لیکن جو پاکستان کے امیج کی بربادی ہونی تھی وہ اس ویڈیو کے وائرل ہونے سے ہو کر رہی۔ ایک روسی سیاح خاتون کے ساتھ مبینہ بدتمیزی کا واقعہ بھی سننے کو ملا۔ دو سال پہلے کراچی ائرپورٹ پر نیوزی لینڈ کے ایک سیاح (Nick Fisher) کو موبائل سم انتہائی مہنگے داموں بیچی گئی۔
اصل صورت حال معلوم ہونے پر اس نے اس موبائل شاپ کے سامنے کھڑے ہو کر ویڈیو بنائی کہ یہ ہے وہ دکان دار جس نے مجھے میرے غیر ملکی ہونے کی وجہ سے سم انتہائی مہنگے داموں بیچی، اس دکان اور اس کے مالک سے بچ کر رہنا۔ اس ویڈیو کو لاکھوں لوگوں نے دیکھا۔ ویڈیو وائرل ہونے کی بعد اس کی تلافی بھی کی گئی اور اس سے معذرت بھی، لیکن ملک کی ساکھ کا نقصان جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔ اس پر عاجز نے اس وقت ”ہم سب“ میں بلاگ بھی لکھا تھا۔
جو لوگ پاکستان میں سیاحت کے لیے آتے ہیں وہ حقیقت میں ہمارے محسن ہیں۔ وہ اپنی حکومتوں اور اداروں کی پاکستان کے بارے میں منفی رپورٹوں کے باوجود پاکستان آتے ہیں۔ ان میں سے جو یوٹیوبرز ہیں، وہ ویڈیوز میں پاکستان کا مثبت امیج اجاگر کرتے ہیں۔ پاکستانیوں کی شاندار میزبانی کے مظاہرے دکھا کر دنیا بھر کے لوگوں کو خوش گوار حیرت میں مبتلا کرتے ہیں۔ بہت سے لوگ ان کی بنائی ہوئی ویڈیوز کو دیکھ کر پاکستان کے لیے رخت سفر باندھ لیتے ہیں یا ارادہ کر لیتے ہیں۔ یہاں پہنچ کر اپنے اپنے ملک کے میڈیا اور اداروں کی رپورٹس کے برعکس حالات دیکھتے ہیں، حیران ہوتے ہیں، اپنے مشاہدات اور تجربات دوسروں کو دکھا کر ہمارے امیج کو بہتر بناتے ہیں۔
تصویر کے اس خوب صورت رخ کے دوسری طرف ان گندے لوگوں کی پھیلائی ہوئی گندگی کے وہ بدصورت چھینٹے ہیں جو ہمارے بیرونی امیج کو بدنما بناتے ہیں اور ہم ایسے واقعات سے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار لیتے ہیں۔ یہی وہ گندے لوگ ہیں جو پاکستان کے اصل دشمن ہیں۔


