امریکی سازش اور حکمت عملی

سپر پاور کی سرشت میں یہ شامل ہوتا ہے کہ ساری دنیا اس کی مرضی کے مطابق چلے۔ فی زمانہ یہ قوت اور بدمست ہاتھی امریکہ ہے جو ساری دنیا پر تہذیبی، سیاسی، معاشی اور فوجی غلبہ چاہتی ہے اور اس کے لئے اس کی باقاعدہ منصوبہ بندی ہے اور ایک ہمہ پہلو لائحہ عمل رکھتی ہے۔ طاقت کا استعمال اس کا ایک کھلا مظہر ہوتا ہے وگرنہ وہ زندگی کے تمام تر دائروں میں نفوذ کر کے منظم انداز میں آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ مختلف ممالک کے اعصابی مراکز، مقتدرہ اور حکمران طبقہ تک رسائی، اس کی ذہن سازی اور اسے ہر صورت قابو کر کے اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے استعمال کرنا حکمت عملی کا موثر حصہ ہے۔ دنیا میں جو بھی اس کی مفادات کی راہ میں حائل ہونا چاہتا ہے اس کے راستے مسدود کرانا اور راستے ہٹانا اور اقتدار من پسند آلہ کاروں کو حوالہ کرانے میں ہر قسم کا حربہ استعمال کرنا کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں
اسی حقیقت کی روشنی میں بظاہر جناب عمران کا یہ بیانیہ بڑا خوش کن ہے کہ ان کی خودداری اور آزاد خارجہ پالیسی اور امریکی ڈکٹیشن نہ ماننے کی سبب، امریکہ نے اس کے خلاف سازش کر کے اقتدار سے ہٹایا لیکن اس حوالے سے ہمارا نقطہ نظر بالکل برعکس ہے کہ دراصل جناب عمران خان کے ذریعے ”تبدیلی“ تحریک کی تشکیل ہی بیرونی سازش ہے۔ الیکشن سے پہلے 2017 میں اس حوالے سے ایک تجزیہ اور تبصرہ ہم نے پیش کیا تھا بعنوان، فواد چوہدری کی تشویش
گھاٹ گھاٹ کا پانی پی پی کر ”سیراب“ نہ ہونے والے فواد چوہدری کو اس خطرے کا شدید احساس ہے کہ
”اگر ہم نہ آئے تو داڑھی والے آ جائیں گے“
یہ فواد چوہدری کے منہ سے بے ساختہ نکلنے والی کوئی معصوم سی ”بکواس“ نہیں ہے بلکہ یہ باقاعدہ ایک نفسیات، سوچ، فکر اور احساس کی ترجمانی ہے۔
ملکی اور بین الاقوامی طور پہ اسی نفسیات کی تناظر میں بہت گہرائی کے ساتھ منصوبہ بندی کی جا رہی ہے کہ
”کس طرح (داڑھی والوں ) اسلامی تحریکات کا راستہ روکا جائے“
لائحہ عمل یہ ہے کہ
”بنیاد پرستوں“ یعنی اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے، پر یقین رکھنے والے اور غلبہ دین کی نظریہ کے حاملین کو ہر صورت قابو کیا جائے، ان کے راستے مسدود کیے جائے اور انھیں منظر نامے سے ہٹایا جائے۔
※سیکولرسٹوں و لبرلز کو پروموٹ اور سپورٹ کر کے
※روشن خیالوں اور ماڈریٹوں کو تمام تر مواقع فراہم کر کے
※صوفی اسلام اور روایت پسندوں یعنی اسلام کو صرف رسوم و عبادات تک محدود تصور کرنے والوں کو قبول کر کے۔
استعمال طاقت کا بھی ہو،
پروپیگنڈا بھی ہو،
ترغیبات بھی ہوں،
اور ”شدت پسندی“ کی بجائے ”اعتدال پسندی“ کو بادل ناخواستہ برداشت کرنا بھی ہو۔
ایک صاحب علم محترم نے فرمایا کہ
”سیاسی میدان میں تحریک انصاف اور فکری میدان میں مکتب فراہی نے جماعت اسلامی کے ووٹ بینک کو بڑی حد تک متاثر کیا ہے۔ جماعت کے مستقبل کا انحصار ایک حد تک ان دونوں چیلنجز سے نمٹنے پر موقوف ہے“
جناب نے درست نشاندہی فرمائی ہے اور جماعت اسلامی کو موثر حکمت عملی کے تحت سیاسی اور فکری دونوں محاذوں پر چومکھی لڑائی لڑنی ہوگی۔
سیاسی ماہرین اور حالات کی مد و جذر پر گہری نگاہ رکھنے والے سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی اور فوجی حکومتوں کی مسلسل اور بری طرح ناکامی سے عوام میں مایوسی، فرسٹریش، اضطراب اور ردعمل عمل کے طور پر عوامی غصہ انتہا کو پہنچ چکا تھا، ایک لاوا تھا جو پھٹنے کو تھا، مسلسل ایک خلا تھا جو بن رہا تھا اور ہر نئی ناکامی سے گہرا ہوتا جا رہا تھا اور قریب تھا کہ یہ لاوا پھٹ جاتا اور سب کچھ کو بہا کر ایک بڑے انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو جاتا۔ خدشہ یہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ اس خلا کو پر کرنی والی قوتیں مذہبی اور خاص طور پر جماعت اسلامی ہی ہو سکتی ہے۔
تبدیلی کے اس رخ کو موڑنے اور لوگوں کے جذبات کی تسکین کے لئے ایک روشن خیال لیکن لبرل تبدیلی کے لئے منصوبہ بندی کی گئی۔ مقتدر قوتوں کی مکمل آشیرباد اور میڈیا کے سر پھرے گھوڑے پر اس ”تبدیلی“ کو بٹھا کر فرش سے عرش تک پہنچا دیا گیا اور واحد نجات دہندہ کے طور پر پیش کرایا گیا۔
فی الوقت صاف نظر آ رہا ہے کہ اس ننگی، بھوکی قوم کے ہاتھوں میں نیلی آنکھوں والی خوشنما گڑیا تھما کر دل لبھانے کے لئے ”تبدیلی“ اور آزادی کے مارچ پر لگا دیا گیا ہے جو بہت ہی جوش، جذبے اور معصومیت کے ساتھ مستقبل کے سہانے خوابوں کو آنکھوں میں سجائے رقص و سرور میں مدہوش ایک بڑی ”دل آویز“ شخصیت کے آگے سجدہ ریز ہے!
کاٹھ (ٹرائے ) کے گھوڑے کے گرد ناچ گانے میں مدہوش اس انقلابی قوم کے انجام کو دیکھ کر خوف بھی ہونے لگتا ہے اور ترس بھی آتا ہے۔
سیاسی و فکری دونوں میدانوں میں اسلامی تحریکات کا راستہ روکنے کے لیے لبرل یا کم ازکم روشن خیال و ترقی پسندوں کو لا کھڑا کرنا، اسے پروان چڑھانا، پروجیکٹ کرنا اور مکمل سرپرستی کرنا امریکہ اور اس کے گماشتوں کا کھیل ہے!
آج کے حالات یہ تصدیق کرنے کے لئے کافی ہے کہ پاکستانی عوام ”ریاست مدینہ“ کے قیام کے آرزو مند ہے اور امریکہ کے سامنے ڈٹ جانے اور ”ابسلوٹلی ناٹ“ کہنے پر خوشی کے شادیانے بجاتے نظر آتے ہیں لیکن کسی اسلامی تحریک کے سنگ نہیں بلکہ ایک روشن خیال سیاسی لیڈر عمران خان کے پہلو۔ وہ تحریکات جو درحقیقت دینی، فکری، نظریاتی اور انقلابی ہیں فی الوقت وہ سیاسی منظر نامے میں جگہ پانے کے لیے یعنی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔
جناب عمران خان جو باقاعدہ حکمران بنا اور ”ریاست مدینہ“ کے قیام، اسلامی معاشرے کی تشکیل، تہذیب مغرب سے بچاؤ، اسلامی تہذیب کی احیاء اور امریکہ و مغرب کی چنگل سے آزادی کی جانب کوئی ایک قدم تک نہیں اٹھایا اور جنرل مشرف کی امریکہ نواز تشکیل کردہ امریکہ نواز خارجہ پالیسی پر عمل پیرا رہا، ملک کو آئی ایم ایف، ایف اے ٹی ایف اور بین الاقوامی ساہوکاروں کے رحم وکرم پہ چھوڑے رکھا اور باقاعدہ ان کی ڈکٹیشن پر ان کی سہولت کاری کی خاطر قانون سازی تک کروائی مگر وہ بدستور ”مسلم امہ کے لیڈر“ ایک ”نجات دہندہ“ اور امریکہ مخالف مزاحمت کے استعارے کی صورت مقبول اور قبول ہے۔
ہمارا خیال ہے کہ بات بہت حد تک واضح ہوئی ہوگی۔

