فوج بھی بول پڑی


بالآخر فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر نے دھواں دھار پریس کانفرنس کر ڈالی۔ پچھلے ایک ماہ کے دوران ملکی سیاست میں ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے بعض حلقوں کی جانب سے فوج پر گند اچھالا جا رہا تھا لیکن فوج نے خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔ ممکن ہے۔ فوجی قیادت نے سوچا ہو کہ اس بارے میں اٹھائی جانے والی انگلیاں وقت کے ساتھ خود بخود غیر موثر ہو جائیں گی لیکن ایسا نہیں ہوا اسے فوج کی کمزوری تصور کیا گیا اور ایک طے شدہ پلان کے تحت حوصلہ افزائی کی گئی نہ صرف سوشل میڈیا پر فوج کے خلاف مہم چلائی گئی بلکہ کل تک فوج کے گیت گانے والی سیاسی جماعت کے جلسوں میں قابل اعتراض نعرے لگائے گئے تو پھر فوج نے بحیثیت ریاستی ادارہ اس صورت حال کا نوٹس لے لیا۔ اب تک ایسے متعدد افراد دھر لئے گئے ہیں جو سوشل میڈیا میں نا قابل برداشت مہم چلا رہے تھے۔

میں نے دیکھا ہے جوں ہی ریاستی ادارے حرکت میں آئے برے بڑے طرم خان اپنے اکاؤنٹس بند کر دبک کر بیٹھ گئے ہیں۔ کچھ تو اپنی تمام پوسٹیں ڈیلیٹ کر کے زیر زمیں چلے گئے فوج کی طرف سے ریاستی اداروں کی توہین کا نوٹس لینا خوش آئند ہے۔ ایک سیاسی جماعت جو تازہ تازہ زخم خوردہ ہے۔ اس کا سوشل میڈیا پر موثر سیٹ اپ موجود ہے۔ آج کل اس کے بے لگام میڈیا ایکسپرٹس کا دھن بھی بگڑا ہوا جنہیں لگام دینے کی اشد ضرورت ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار بہت کم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بیان جاری کرنے کا شوق نہیں اس لئے جب وہ ضروری سمجھتے ہیں۔ صحافیوں کو بلا لیتے ہیں۔ پاکستان کے دشمنوں نے بھی ریٹائرڈ جرنیلوں کی جعلی وڈیوز بنا کر مارکیٹ میں فلوٹ کی ہیں۔ اس طرح پاکستان کی فوج کو بدنام کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس وقت سیاسی مارکیٹ میں فوج کے کردار کے حوالے سے کئی افواہیں گردش کر رہی ہیں چونکہ کسی جانب سے اس کی تردید یا تصدیق نہیں ہو رہی تھی اس لئے ایک کنفیوژن کی فضا میں میجر جنرل بابر افتخار کی پریس کانفرنس سے فوج کے بارے اٹھائے جانے والے بعض سوالات کا جواب مل گیا اور کچھ کی تو بولتی بند ہو گئی ہے۔ 27 مارچ 2022 ء کے جلسہ عام میں عمران خان نے جو ایک پاکستانی سفارت کار خط لہرایا تھا جس میں ان کو آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرنے پر سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ اس خط تک کسی کی کوئی رسائی نہیں تھی۔ اب تو یہ خط ”ڈی کلاسیفائی“ کر دیا گیا ہے۔

انہوں اس خط کے مندرجات کو اپنے اقتدار سے نکالے جانے کی ”سازش“ قرار دے دیا یہ ان کی سیاست کا سرپرائز تھا۔ انہوں نے بارہا قومی سلامتی کی کمیٹی کے اجلاس کے اعلامیہ کا بھی حوالہ دیا لیکن اس بارے میں خاموشی کا انہوں نے سیاسی فائدہ اٹھایا عمران مخالف سیاسی قوتوں کی جانب سے بھی مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ اس بارے عسکری قیادت صحیح صورت حال بیان کرے متحدہ اپوزیشن نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے عسکری ارکان عمران خان کے بیان کی وضاحت اور اپنی پوزیشن واضح کریں، پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ معاملہ تحریک عدم اعتماد تک نہیں رہا اب ملکی سلامتی کا ہے۔ تاخیر نقصان دہ ہوگی، پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اداروں کو سوچنا ہو گا۔ پاکستان کی وفادار قیادت کو غداری کے الزام میں دھکیلنے کے کیا نتائج ہوں گے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ترجمان پاک فوج وضاحت کرے کہ کیا قومی سلامتی کی کمیٹی نے 197 ارکان کو بیرونی سازش کا حصہ قراردیا ہے؟ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان اور اس کے حواریوں نے آئین کی واضح خلاف ورزی و آئین شکنی کی ہے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ عمران خان ایک خط کے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس خط کے بارے میں نیشنل سکیورٹی کونسل کے ارکان یہ کہہ چکے ہیں کہ اس میں بیرونی سازش کے کوئی شواہد نہیں ملے تاہم عمران خان ہر روز سکیورٹی کونسل کے عسکری ارکان کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ میری طرف سے مطمئن تھے؟ لہٰذا اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے سکیورٹی کے عسکری ارکان کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے

یہ الگ بات وزیر اعظم شہباز شریف نے مسند اقتدار پر بیٹھتے ہی اس خط کی حقیقت جاننے کے لئے قومی سلامتی کی کمیٹی کو تحقیقات کرانے ٹاسک دے دیا ہے۔ بند کمرے میں ہونے والی تحقیقات کے نتیجہ میں عمران خان کی بات درست ثابت ہونے پر وزارت عظمیٰ سے استعفا دینے کی پیش کش کی ہے۔ جنرل بابر نے دو ٹوک الفاظ میں اس بات کی وضاحت کر دی ہے کہ ”قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے اعلامیے میں“ سازش ”کا لفظ شامل نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی میں زیر بحث آنے والے نکات پر بات نہیں کر سکتا، لیکن میرا خیال ہے کہ اجلاس کے اعلامیے میں“ سازش ”کا لفظ شامل نہیں ہے۔

ڈیمارش صرف سازش پر نہیں دیے جاتے اور بھی وجوہات ہوتی ہیں۔ اعلامیے میں لکھا ہوا ہے کہ غیر سفارتی زبان استعمال کی گئی۔ امریکہ کی جانب سے فوجی اڈوں کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ اگر مطالبہ ہوتا تو فوج کا بھی وہی موقف ہوتا جو سابق وزیراعظم کا تھا۔ پریس کانفرنس میں این آر او دینی کی بھی بات ہوئی جنرل بابر افتخار نے اس بارے میں فوج کی پوزیشن کی وضاحت کی اور کہا کہ ”فوج کسی کو این آر او دینے کی پوزیشن میں نہیں، عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ نے کوئی آپشن نہیں دیا تھا بلکہ انہوں نے سیاسی بحران حل کرانے کے لئے فوجی قیادت سے رابطہ کیا اور اپوزیشن سے تین آپشنز پر بات کرنے کے لئے کہا“ ۔ انہوں نے کہا کہ ”فوج مستقبل میں بھی آئینی کردار ادا کرتی رہے گی۔“

انہوں نے نے تمام سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ ”فوج میں کسی قسم کی تقسیم نہیں اسے سیاست میں نہ گھسیٹا جائے“ پچھلے 74 سال میں تمام سیاسی جماعتوں کا ایک ہی مطالبہ رہا ہے کہ فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں، انہوں نے کہا ہے کہ ”ان شاء اللہ پاکستان میں کبھی مارشل لاء نہیں آئے گا۔ آرمی چیف مدت میں توسیع کے خواہشمند ہیں اور نہ ہی قبول کریں گے۔ آرمی چیف 29 نومبر 2022 میں ریٹائر ہوجائیں گے۔ آرمی چیف کی اپوزیشن سے پاکستان یا بیرون ملک ملاقاتوں کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں“ میجرجنرل بابر افتخار نے کہا کہ ”سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے۔ آرمی چیف جس ادارے کے سربراہ ہیں۔ وہ حکومت کے ماتحت ہے۔ فوج کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال ملکی مفاد میں نہیں“ ادارے کے سربراہ کے خلاف کوئی بات ہوئی تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کارروائی کرے ہماری فوج ڈس انفارمیشن مہم کا بہت بڑا ٹارگٹ ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 9 اپریل 2022 ء کی رات وزیراعظم ہاؤس میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی اس وقت کے وزیراعظم عمران خان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔

آج حکومت اور اپوزیشن میجر جنرل بابر افتخار کی پریس کانفرنس سے اپنے اپنے مطالب نکال رہے ہیں اور کچھ رہنما دانستہ سیاسی ماحول میں اشتعال انگیزی کر رہے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں چیزیں بہت واضح کردی ہے۔ مراسلہ کا جہاں تک ذکر ہے۔ سیاسی مداخلت کا ہمارا جو موقف ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس کی تائید کی ہے۔ آج کی پریس کانفرنس سے ہمارے موقف کو تقویت ملی ہے جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاک فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس جمہوریت کے لئے تازہ ہوا کا ایک جھونکا تھی۔ پاکستان کے تمام مسائل کا حل جمہوریت، جمہوریت اور مزید جمہوریت ہے۔ اگر ہم جمہوری راستے پر گامزن رہے تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کی ترقی کو نہیں روک سکتی۔

فوج کے ترجمان کی پریس کانفرنس پالیسی بیان ہے۔ اس پریس کانفرنس میں بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کے جواب مل گئے ہیں۔ انہوں نے پریس کانفرنس کسی خاص موضوع تک محدود نہیں رکھی بلکہ ”کھلی ڈلی“ پریس کانفرنس تھی جس میں انہوں نے پریس کانفرنس کے شرکاء کو ”صلائے عام“ دی کہ وہ ہر قسم کا سوال کر سکتیں انہوں ان اخبار نویسوں کے سوالات کا بھی جواب دیا تو سوال کا بوجھ اٹھائے پریس کانفرنس میں آئے تھے۔

ان کو بھی مایوس نہیں کیا سیاسی نوعیت کے سوالات پر ”نو کمنٹس“ کہنے کی بجائے تسلی بخش جواب دیے جنرل بابر افتخار کی پریس کانفرنس کے بعد آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع اور ریٹائرمنٹ کے بارے سوالات کا جواب مل گیا ہے۔ اب اس باب کو بند کر دینا چاہیے جب پل آئے گا تو پھر اس کو عبور کرنے کا مرحلہ آئے گا۔ فوج کے ترجمان کی کم و بیش 80 منٹ کی پریس کانفرنس سے لوگوں کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کا جواب مل گیا ہے۔

Facebook Comments HS