میرے پاس خط ہے


سابق وزیر اعظم عمران خان کی سیاست کا محور اب ایک خط رہ گیا ہے۔ قوم یوتھ بھی تبدیلی کے نعرے کو بھول چکی ہے۔ وہ تبدیلی جو کبھی آ نہ سکی۔ کیونکہ کھاری چشمے سے آب شیریں کا حصول ناممکن ہے۔ عمران خان سے اختلاف رکھنے والے بھی ان کی ایک صلاحیت کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ بیانیہ بنانا اور اس پر ڈٹے رہنا خوب جانتے ہیں۔

ظفر اقبال کا ایک مشہور شعر ہے :
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر
آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہیے

تین سال آٹھ ماہ کی حکومت کے بعد عمران خان کے پاس کارکردگی کے نام پر کچھ بھی نہیں، نہ کسی تبدیلی کا نعرہ باقی بچا ہے، نہ ’میں انہیں رلاؤں گا، نہیں چھوڑوں گا‘ کی بازگشت ہے، لے دے کے بس خط کا سہارا ہے۔ یہ خط لہرا لہرا کر وہ قوم کو یقین دلاتے رہے ہیں کہ ان کے خلاف سازش کی گئی ہے۔ پہلے وہ ایک جلسے میں خط لہرا کر جیب میں ڈالتے ہیں اور تفصیل سے گریز کرتے ہوئے قوم کو سسپنس میں ڈالتے ہیں کہ آخر اس خط میں کیا لکھا ہے، پھر ایک تقریر میں اسے عالمی طاقتوں کی سازش قرار دیتے ہیں، اس کے بعد امریکا کا نام لیتے ہیں۔ سپیکر صاحب مستعفی ہونے سے پہلے عمران خان سے محبت کا اقرار کرتے ہوئے خط لہرانا ضروری سمجھتے ہیں، ڈپٹی سپیکر بھی ووٹنگ سے پہلے خط کی نمائش کرتے ہیں۔ یعنی عمران خان کی پوری ٹیم یہ ثابت کرنے میں لگی ہے کہ امریکا نے سازش کر کے ان کی حکومت پر عدم اعتماد کروا دیا اور وہ اقتدار سے محروم ہو گئے۔

اول تو عدم اعتماد ایک ایسے وزیراعظم سے جو اکثریت کھو چکا ہو، جان چھڑانے کا جمہوری اور پارلیمانی طریقہ ہے۔ دوئم یہ کہ خط کے علاوہ ان کے پاس ایسے کارہائے نمایاں موجود نہیں ہیں جن کی بنیاد پر عوام یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ ان کی وزارت عظمیٰ سے سبکدوشی سے ملک و قوم کو کوئی ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ بلکہ یہاں تو الٹا فائدہ دکھائی دیتا ہے۔ نئی حکومت کے آتے ہی چند روز میں روپے کی قدر میں اضافہ ہوا۔ ڈالر کی قیمت میں آٹھ روپے تک کمی ہو چکی ہے۔ سٹاک مارکیٹ میں تیزی جاری ہے۔

عمران خان اور پی ٹی آئی کی میڈیا ٹیم نے جھوٹ اور فیک نیوز کی جو بنیاد رکھی ہے ان کی نظیر نہیں ملتی۔ پی ٹی آئی کے لیڈر علی احمد خان نے حال ہی میں ہونے والے پشاور کے جلسے کی تصویر شیئر کی مگر فوراً ہی جھوٹ پکڑا گیا در حقیقت وہ تصویر امریکی خلائی ادارے ناسا کی تھی اور چند سال پرانی تھی۔

شاید ان کا خیال یہ ہے کہ اتنا جھوٹ بولو کہ عوام کے ذہن میں نا اہلی، اقربا پروری، مہنگائی، کرپشن اور بید گورننس کا خیال تک نہ آئے۔ ان کی مخالف سیاسی پارٹیاں تو ان کی حکومت کے قیام کے بعد ہی سے ان کو ہٹانا چاہتی تھیں، لانگ مارچ اور مہنگائی مارچ اسی لیے کیا گیا۔ لیکن جب انہوں نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کی تو عمران خان نے امریکی سازش کا بیانیہ بنا لیا جس کی بنیاد ایک خط پر قائم کی گئی۔ اس سے پہلے انہوں ’ایبسولوٹلی ناٹ‘ کا بیانیہ دیا کہ امریکا کو فوجی اڈے مانگنے پر کہا تھا۔ عدم اعتماد کی تحریک کے بعد یہ بھی کہا کہ سیاسی بحران کے حل کے لیے فوج نے ان کے سامنے تین حل رکھے تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں ان کی تینوں باتوں کی تردید کر دی۔ پہلا یہ کہ امریکا کی طرف سے کوئی سازش نہیں ہوئی، دوسرا یہ کہ اسٹیبلشمنٹ نے گزشتہ حکومت کو کوئی آپشن نہیں دیا تھا۔ عمران خان نے خود آرمی چیف سے رابطہ کر کے اپنی طرف سے بیچ بچاؤ کے حل پیش کیے لیکن آرمی چیف نے غیر آئینی مدد سے انکار کر دیا تھا۔ اور عمران خان کے تیسرے دعوے کو رد کرتے ہوئے بتایا کہ امریکا نے اڈے مانگے ہی نہیں تھے۔

ان مثالوں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ان کے کتنے بیانیے جھوٹ پر مبنی ہوں گے۔ پہلے چور چور کا شور مچاتے تھے۔ اب غدار غدار کی تکرار کر رہے ہیں کہ خط کے مطابق اپوزیشن نے ان کی حکومت امریکی سازش کے نتیجے میں گرائی ہے۔ اور اس کی وجہ وہ دورہ روس کو قرار دیتے ہیں۔ اب نئی حکومت کے قیام پر وزیراعظم شہباز شریف کو سب سے پہلے روس اور ترکی سے ہی مبارک باد کا فون آیا۔ اس کا مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ روس بھی امریکی سازش میں شامل ہے۔ سادہ لوح اور نیم خواندہ عوام میں امریکا مخالف جذبات بھڑکا کر وہ نہ صرف حکومت بلکہ فوج کے لیے بھی مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

پونے چار سال کی ناکام ترین حکومت کے بعد ان کے پاس نہ مہنگائی اور بیروزگاری کا جواب ہے نہ بیڈ گورننس کا کوئی جواز ہے۔ توشہ خانے کے ہار اور گھڑی کا معاملہ ہے، فارن فنڈنگ کیس بھی ہے۔ مبینہ طور پر فرح خان کی کروڑوں روپے کی کرپشن کے معاملات بھی ہیں۔ کورونا امداد اور ڈیم فنڈ، بی آر ٹی پشاور۔ اس کے باوجود انصافی دوست مصر ہیں کہ کپتان کے خلاف سازش ہوئی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ عمران خان کی آئندہ سیاست ایک خط کے گرد ہی گھومے گی۔ جب وہ عوام سے ووٹ مانگنے جائیں گے تو عینک لگا کر جیب سے کاغذ نکال کر کہیں گے، مجھے ووٹ دیں کیوں کہ میرے پاس خط ہے۔

Facebook Comments HS