لاہور میں آرمی افسر پر تشدد کے واقعے کا جائزہ
گزشتہ روز لاہور میں لڑائی جھگڑے کے واقعہ کو خصوصی کوریج دی جانے کی وجہ اس میں با اثر شخصیات کا مبینہ طور پر ملوث ہونا ہے۔ سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں چند افراد کوایک گاڑی کی توڑ پھوڑ کرتے دیکھا جا سکتا ہے گاڑی میں بیٹھا شخص ڈرائیونگ سیٹ کے متقابل دروازے سے باہر نکل کر سڑک پر لیٹ جاتا ہے، آس پاس لوگوں کا ہجوم بیچ بچاؤ کرانے کی کوشش کرتا ہے اور اسی اثنا میں تشدد کرنے والے نا معلوم افراد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر موقع واردات سے فرار ہو جاتے ہیں۔
اس پورے واقع کو پاکستان مسلم لیگ نون کے ممبر سابق صوبائی وزیر ہیلتھ کیئر خواجہ سلمان رفیق اور ان کے سٹاف کے ساتھ منسوب کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی تفصیلات کے مطابق موقع واردات سے موصول ہونے والی ویڈیوز میں خواجہ سلمان رفیق موجود نہیں ہیں۔ مگر اپنی پریس کانفرنس میں انہوں نے اس واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے ان نا معلوم افراد کو اپناتے ہوئے یہ کہا ہے کے ان کے سٹاف کو انہوں نے قانونی چارہ جوئی کا صحیح اور ذمہ دار طریقہ اپنانے کی نصیحت کی تھی۔
ساتھ ہی انہوں نے مبینہ آرمی افسر حارث سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا ہے کے وہ ان کی عیادت کے لیے جانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔ اس پورے واقعہ کو سوشل میڈیا پر مختلف سیاسی، نفرت انگیز اور اشتعال انگیز گروپس کی مدد سے بغیر کسی قومی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے بھرپور طریقے سے تبصروں میں شامل کیا گیا۔ سوشل میڈیا پر ہم خیال صارفین کی مدد سے اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی طاقت کا مظاہرہ بھی خوب رہا۔ مگر جن تفصیلات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے شاید انہی تفصیلات کے بارے میں سوال و جواب کرنے سے ہم اصلاحی نظام کے نفاذ کی طرف ایک کامیاب قدم بڑھا سکتے ہیں۔
اس واقعہ سے متعلق چند اہم سوالات ہمارے معاشرے کے نظام کے دوہرے معیار کو ختم کرنے میں انتہائی مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔ میں نے اس واقعے کی سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز کا جائزہ لیا اور اس بات سے متفق ہونے میں مجھے کافی وقت لگا کے آرمی افسر حارث جیسے ہو سکتے ہیں۔ یہ ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے اس میں میجر تو کیا فیلڈ مارشل بھی ایسے ہی ہو سکتے ہیں۔ خیر جذبات پر قابو رکھتے ہوئے میں نے یہ تسلیم کر لیا کے یہ ایک میجر پر تشدد کا واقعہ ہے۔
دوسرا نکتہ جو بعید العقل ہے وہ یہ ہے کے یہ سلمان رفیق کا کون سا اسٹاف ہے جو سڑکوں پر دادا گیری کرتا پھر رہا ہے۔ کہیں یہ روایتی مبینہ کارروائیوں میں ملوث لا قانونیت کی تشہیر کے لیے کرائے پر حاصل کیا جانے والا سٹاف تو نہیں؟ کیا یہ سیاسی کارکن ہیں؟ کیا یہ پارٹی کے جانثار ہیں؟ اگر صرف ویڈیو کو دیکھا جائے اور باقی تمام تفصیلات کو نظر انداز کیا جائے تو یہ ویڈیوز دماغ میں حالات حاضرہ کے حوالے سے سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ استعمال اور اشتعال انگیزی کے نتیجے میں نکالی جانے والی بھڑاس کے منظر کی عکس بندی لگتی ہے جس میں حارث سیاسی پارٹی کے سوشل میڈیا نمائندہ کا کردار نبھا رہا ہے اور تشدد کرنے والے افراد لالی وڈ فلموں کے غنڈوں کی شبیہ پیش کر رہے ہیں۔
خبروں کا کاروبار کرنے والے اداروں نے اس خبر کو حسب معمول بغیر تصدیق کے نشر کر دیا اور ان کی ساکھ بچانے کے لیے خود خواجہ سلمان رفیق اپنے ہمنوا حافظ نعمان کے ساتھ پریس کانفرنس میں پیش ہوئے جس میں وہ اپنے ساتھ قرآن بھی لائے۔ ان کا قرآن پر ہاتھ رکھ کر بیان حلفی دینا غالباً پنجاب کے سیاسی کلچر اور یہاں کے معتبر طبقے کے اس وتیرہ کی تصویر پیش کرتا ہے جسے نئی نسل کسی طور قبول نہیں کر سکتی اسے اب بدل دینا چاہیے۔
ماضی میں بھی سابق صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات فیاض الحسن چوہان کا قرآن پر ہاتھ رکھ کر بیان حلفی دینا اور پھر سوشل میڈیا پر اس کی تشہیر کرنا دیکھا جا چکا ہے۔ جو ان مبینہ طور پر پیش کی جانے والی خبروں، بغیر تصدیق کے با اثر شخصیات کے سکینڈلز بنا دینا، چھوٹے میڈیا ہاؤسز میں موجود غیر تربیت یافتہ صحافیوں کو پناہ دینا اور بلیک میلنگ کے دھندے کو فروغ دینے جیسے ان تمام کاموں کو قانونی اور سیاسی سرپرستی دینے کی واضح مثالیں ہیں۔ انہوں نے تو فحش زبانی کے بھی تمام ریکارڈ توڑ دیے تھے۔
”مجھ سے قسم اٹھوا لو“ والے کلچر نے پاکستان کی آبادی کے ساٹھ فیصد حصے کے تدبر، تشخص اور تعظیم کی دھجیاں اڑا دی ہیں اور یہ ظاہر کیا ہے کے جیسے پنجاب غیر سنجیدہ اور جاہل افراد کا گڑھ ہے۔ اگر اتنے با اثر افراد ایسا رویہ اپنائیں گے تو عوام کو تحفظ فراہم کرنے والے اداروں کو اپنی ذمہ داریوں سے با آسانی راہ فرار میسر آ جائے گی۔ اس کلچر کو بدلنے کے لیے ہمیں چند بنیادی اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ضرورت ہے۔
با اثر سیاسی شخصیات کو بد تہذیبی اور گالی گلوچ سے اجتناب کی واشگاف الفاظ میں تلقین کرنی چاہیے۔ تھڑے باز سیاست کے بجائے علمی اور ادبی بیٹھک کے فروغ کے لیے کام کرنے پر لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ بجائے 5 فیصد بدمعاش طبقے کی نمائندگی کے پنجابی شعراء، داستان نویس اور پنجابی زبان کے فروغ کے لیے مصروف عمل رہنے کے لیے لوگوں کو متحرک کرنا چاہیے۔ یہ ”قسم چکا لو“ والا طبقہ مقامی سطح پر ”رنگ باز“ جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے اور عمومی طور پر یہ صیغہ ہتک عزت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ایک با اثر شخصیت اگر کسی رنگ باز طبقے کی حوصلہ افزائی کے لیے ان جیسی زبان اور ان جیسے ذومعنی اشارے استعمال کر کے ان کے جرائم پیشہ اور سماجی تخریب کاری جیسے عزائم سے اظہار یکجہتی کرے تو یہ انتہائی شرمندگی کی بات ہے۔ پنجاب میں چند صاحب اسرار لوگ بھی ہیں جو لیگی رہنما کو پسند کرتے ہیں مگر اس طرح کے افعال سے یقیناً پسندیدگی کا گراف گر جاتا ہے۔


