خواتین کے خلاف وہ جرائم جن کی ایف آر نہیں ہوتی!


پاکستان سمیت پوری دنیا میں خواتین کے حقوق کے خلاف بہت جرائم ہو رہے ہیں، لیکن بالخصوص پاکستان میں ان کو جرائم سمجھا نہیں جاتا اور نہ ایف آئی آر درج کی جاتی ہے۔

1:کسی عورت کی قرآن پاک سے شادی

پاکستان کے صوبہ سندھ میں سنا جاتا ہے کہ لڑکیوں کے حقوق بخشوائے جاتے ہیں۔ سوال یہ کہ جو حقوق اللہ نے بندوں کو دیے ہیں اس کے بعد ریاست نے دستور کی صورت میں لکھے ہیں تو وہ حق کون بخشوا سکتا ہے اور یہ ایسا جرم ہے جس کی پاکستان پینل کوڈ نشاندہی کرتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی عورت کو قرآن پاک سے شادی کرنے پر مجبور کرے یا ساتھ دے تو ایسے شخص کو سات سال یا کم سے کم 3 سال کی قید کی سزا کے ساتھ 5 لاکھ جرمانہ ہو گا۔

کسی عورت کو وراثتی ملکیت سے محروم نہیں رکھا جاسکتا

کسی بھی عورت کو وراثت کے وقت ملکیت حاصل کرنے سے نہیں روکا نہیں جاسکتا اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس کو دس سال قید جو کہ 5 سال سے کم نہیں ہو گا اور دس لاکھ جرمانہ ہو گا۔

زبردستی شادی

کسی عورت کو اگر کوئی شخص، زبردستی شادی کرنے پر کوئی مجبور کرے گا تو ایسے شخص کو سات سال اور کم سے کم 3 سال سزا اور ساتھ 5 لاکھ جرمانہ بھی ہو گا۔ اور اگر کوئی کسی چھوٹی عمر لڑکی یا غیر مسلم عورت کو زبردستی شادی کرنے ہر مجبور کرے گا تو ایسا کرنے والو کو 10 سال قید جو کہ 5 سال سے کم نہیں ہو گا اور ساتھ میں دس لاکھ جرمانہ ہو گا۔

ایسے کیسز رپورٹ کم ہو رہے ہیں، ان کی ایف آئی آر نہیں ہوتی کیونکہ ایف آئی آر درج کروائے کون، ورثا خود اپنے خلاف مدعی نہیں ہوسکتے اور لڑکی خود سیدھی سادی اس کو قانون و کورٹ کا علم نہیں ہوتا اور کافی کیسز میں لڑکیاں انتہائی قدم اٹھاتی ہیں، یا خودکشی یا پھر کورٹ میرج، ان اقدام کے ذمے دار، ان لڑکیوں کے سرپرست بھی ہوتے ہیں، جو کہ جرم کرتے بھی ہیں لیکن ان کو لگتا نہیں کہ یہ جرم ہے!

ایک لڑکی جس کا تعلق سکھر شہر سے تھا جو کہ باپ کی جائیداد سے کوئی 100 ایکڑ زمین کی مالک بن رہی تھی اس لڑکی کی شادی اس کی مرضی کے خلاف کروائی جا رہی تھی جہاں وہ راضی نہیں تھی اور اس لیے کروائی جا رہی تھی جہاں پراپرٹی بھی ان کے سرپرست اپنے پاس رکھتے، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لڑکی گھر چھوڑ کر نکلی۔

یہ ایسے جرم ہیں جو بغیر خوف کے ہو رہے ہیں اور ایف آر نہیں ہوتی۔
اس کا سبب اپنے حقوق سے لاعلمی ہے۔

Facebook Comments HS