گوالیار قلعہ : ایک تاریخی قلعہ جہاں شیخ احمد سرہندی کو جہانگیر نے قید کیا
1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔
دہلی سے چلتے وقت رنبیر صاحب نے ہمیں ریلوے سٹیشن کے ایک سٹال سے انڈین ریل کا ایک ٹائم ٹیبل لے کر دیا۔ جب انھوں نے ہمارے لیے یہ ٹائم ٹیبل خریدا تو مجھے یاد آیا کہ ہم اپنے بچپن میں کبھی کبھار ایسا ہی ٹائم ٹیبل خریدتے تھے جو پاکستان ریلوے شائع کرتا تھا۔ اب کیا صورت حال ہے؟ وہ معلوم نہیں۔ اس میں مختلف ٹرینوں کی آمدو رفت سے متعلق لکھا ہوتا تھا۔ جب میں نے انڈین ریل کے ٹائم ٹیبل کو دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ ہماری ٹرین رات دو بج کر بتیس منٹ پر گوالیار میں تین منٹ کے لیے رکے گی۔ میں نے سوچا کہ دو ڈھائی گھنٹے کی نیند کے بعد میں سٹیشن پر کچھ دیر کے لیے اتروں گا۔
اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ شیخ احمد سرہندی جنھیں مجدد الف ثانی بھی کہتے ہیں، کو جہانگیر نے گوالیار کے قلعے میں قید کر دیا تھا۔ اس لیے میں اس شہر کو دیکھنا چاہتا تھا۔ اس قید کی وجہ جہانگیر کو تعظیمی سجدہ نہ کرنا تھا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ جہانگیر کے دربار میں اہل تشیع کا خاصہ اثر و رسوخ تھا۔ جہانگیر کی ایک بیوی کا تعلق بھی شیعہ مسلک سے تھا۔ شیخ احمد سرہندی اہل تشیع کے نظریات کے خلاف تھے۔ کہتے ہیں کہ جہانگیر کی بیوی اور کچھ دوسرے لوگوں کے کہنے پر شیخ احمد سرہندی کو دربار میں بلوایا گیا اور انھوں نے جہانگیر کو سجدہ نہیں کیا۔ اس جرم کی پاداش میں انھیں گوالیار کے قلعے میں قید کر دیا گیا۔ گوالیار اس لحاظ سے بھی ایک تاریخی شہر ہے۔
دوسری وجہ یہ تھی کہ جناب شیخ احمد، ریاست پٹیالہ کے شہر سرہند، جو اس وقت موجودہ بھارت کے صوبہ پنجاب میں واقع ہے میں پیدا ہوئے، اسی لیے انھیں سرہندی کہتے ہیں۔ میرے آبا و اجداد کا تعلق بھی اسی شہر سے تھا۔ میرے والد صاحب بھی سرہند میں ہی پیدا ہوئے تھے۔ شیخ احمد سر ہندی صاحب کا ہم پرایک بہت بڑا احسان ہے۔ سرہند ریاست پٹیالہ کا ایک اہم شہر تھا۔ اس علاقے کے بہت سے لوگوں کو شیخ احمد سر ہندی اور ان کے خاندان کی وجہ سے مسلمان ہونے کی توفیق ملی۔
بہت وثوق سے کہنا تو مشکل ہے لیکن گمان یہی ہے کہ ہم ہندو یا سکھ مذہب سے مسلمان ہوئے ہیں۔ اس کا میرے پاس کوئی تاریخی ثبوت تو نہیں ہے لیکن جس طرح ہمارے علاقہ کے لوگ شیخ احمد سرہندی سے عقیدت رکھتے ہیں اور ہر سال ان کے عرس پر سرہند جاتے ہیں اس سے مجھے یہی لگتا ہے کہ سرہند شہر کے بیشتر مسلمان ان ہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
سرہند سے جن لوگوں نے پاکستان ہجرت کی ان کی اکثریت ٹوبہ ٹیک سنگھ میں آباد ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ تقسیم ہند کے وقت سرہند شہر اور اردگرد سے مسلمان شہر میں واقع شیخ احمد سرہندی کے مزار کے پاس بنائے گئے ایک کیمپ میں رہے۔ اس دوران ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہند وؤں اور سکھوں کے لیے غلہ منڈی میں عارضی کیمپ بنائے گئے۔ جب امن و امان ہو گیا تو لوگوں کے تبادلے کا وقت آیا۔
جیسے سامان ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جاتا ہے اسی طرح ہنستے بستے لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال کر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا گیا۔
نقل مکانی یا ہجرت تقسیم ہند کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھی۔ ایسا کیوں ہوا۔ کس نے اسے ایجنڈے کا حصہ بنایا۔ یہ بات کبھی تو ظاہر ہوگی۔
ٹوبہ ٹیک سنگھ سے جو ٹرین ہندوؤں اور سکھوں کو لے کر ہندوستان گئی ان میں سے اکثر لوگ دہلی میں آباد ہوئے۔ میرے بھارت کے آخری دورے پر میری ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اس گھر کے ساتھ والے گھر میں رہتے تھے جہاں میری پیدائش ہوئی تھی۔ اسی طرح سرہند شہر سے ایک ٹرین چلی جس میں ہمارا خاندان اور شہر کے باقی لوگ بھی سوار تھے۔ یہ ٹرین ٹوبہ ٹیک سنگھ آ کر ر کی۔ اس سے یہ ہوا کہ ایک ہی شہر کے لوگ ہجرت کر کے بھی ایک ہی شہر میں رہنے لگے جس سے انھیں کوئی اجنبیت محسوس نہیں ہوئی۔ اکثر لوگ ایک دوسرے کو جانتے تھے اور ان کی آپس میں رشتہ داریاں بھی تھیں۔
سر ہند سے محبت کے اظہار کے لیے ٹوبہ ٹیک سنگھ میں انھوں نے ایک کالونی بنائی جس کا نام سر ہند کالونی رکھا گیا۔ ابھی بھی ہمارے خاندان کو لوگ سرہندی ہی کہتے ہیں۔ ہمارے اکثر گھروں پر نام کے ساتھ سرہندی بھی لکھا ہوتا ہے۔ وہ شخص جس کی وجہ سے ہمارا خاندان مسلمان ہوا وہ ہمارے لیے انتہائی قابل احترام ہے اور گوالیار وہ جگہ تھی جہاں اس نے اپنے دین کی سربلندی کے لیے قید کاٹی۔
ایک لمبے عرصے کی قید کے بعد جہانگیر نے انھیں رہا کر دیا اور بڑی عزت دے کر اپنے ساتھ دربار میں بٹھایا۔ جہانگیر کے بعد بھی آنے والے مغل بادشاہ شیخ احمد سرہندی کی بہت عزت کرتے تھے۔
اس اچانک رہائی پر تاریخ میں دو مختلف باتیں ملتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ بہت ساری کرامات شیخ احمد سرہندی سے منسوب تھیں جس کی وجہ سے جہانگیر کے ذہن میں خوف پیدا ہو گیا اور اس نے آپ کو رہا کر دیا۔ دوسری بات یہ کہی جاتی ہے کہ گوالیار کے قلعے میں بہت سارے ہندو قیدی آپ کے ہاتھوں مسلمان ہو گئے۔ اس کے بارے شیخ احمد سرہندی نے کہا کہ اگر مجھے قید نہ کیا جاتا تو یہ لوگ اسلام کی برکت سے محروم رہتے۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے مسلمان ہو جانے کی وجہ سے ہندوؤں میں یہ خوف پیدا ہو گیا کہ کہیں آپ کی تعلیمات کی وجہ سے مزید ہندو بھی مسلمان نہ ہو جائیں۔ اس لیے انھوں نے جہانگیر سے کہہ کر گوالیار کے قلعے سے آپ کو رہائی دلوائی اور واپس سرہند بھیج دیا۔ کون سی بات سچ ہے اور کون سی نہیں یہ تو معلوم نہیں لیکن تاریخ میں یہ دونوں باتیں ملتی ہیں۔ شیخ احمد سرہندی کے بارے میں بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ایک کتاب Yohanan Friedmann نے
Shaykh Ahman Sirhindi: An Outline of His Thought
and a Study of His Image in the Eyes of Posterity
کے نام سے لکھی ہے جسے 1971 ء میں میگیل یونیورسٹی پریس نے چھاپا ہے۔ یہ کتاب بہت سی ان کہی باتیں بھی بتاتی ہے۔
یہ وہ وجہ تھی جس کے لیے میں گوالیار میں اترنا چاہتا تھا۔ رات کا وقت تھا لہذا زیادہ چیزیں بھی نہیں دیکھی جا سکتی تھیں۔ دوسرا یہ کہ ٹرین کا اسٹاپ بھی صرف تین منٹ کا تھا لیکن میں پھر بھی اتر گیا۔ صرف اس سرزمین سے ایک رشتہ جوڑنے کے لیے جس سرزمین نے ہمارے محسن شیخ احمد سر ہندی کو پناہ دی تھی۔ میں نے ایک سٹال والے سے پوچھا کہ یہاں پر گوالیار کا قلعہ کس طرف ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ یہاں سے پانچ میل کے فاصلے پر پہاڑی کے اوپر یہ قلعہ موجود ہے۔ میں نے اس قلعے کی سمت پوچھی تو اس نے شمال کے طرف اشارہ کیا۔ میں نے شمال کی طرف منہ کر کے قلعہ دیکھنے کی کوشش کی جو رات کی وجہ سے ممکن نہ تھا۔ لیکن اس طرف منہ کر کے ہمارے محسن کے لیے دعا تو مانگی جا سکتی تھی۔ جو میں نے مانگی اور پھر تیزی سے ٹرین میں سوار ہو گیا۔


