روسی جنگی جہاز ڈوب گیا، یوکرین کا ڈبونے کا دعویٰ، روس کا الزام سمندر پر
یہ میزائل بردار بحری جہاز عملے کے 510 ارکان پر مشتمل تھا اور روس کی بحری قوت کی علامت تصور کیا جاتا تھا۔ یہ یوکرین کے خلاف روس کے بحری حملوں میں بھی صفِ اول رہا اور بحیرہ اسود میں روسی بحری بیڑے کا پرچم بردار جہاز تھا۔
یوکرین کا کہنا ہے کہ یہ جہاز اس کے میزائلوں کے باعث ڈوبا ہے تاہم ماسکو نے کسی حملے کا ذکر نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ جہاز آگ لگنے کے باعث ڈوبا ہے۔
روس کا کہنا ہے کہ آگ کی وجہ سے اس پر لدا ہوا دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا جس کے بعد پورے عملے کو بحیرہ اسود میں موجود قریبی کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
پہلے تو روسی وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ یہ جہاز اب بھی تیر رہا ہے تاہم بعد میں انھوں نے اعلان کیا کہ یہ ڈوب گیا ہے۔
یہ جہاز 12 ہزار 490 ٹن وزنی تھا اور دوسری عالمی جنگ کے بعد دورانِ جنگ ڈوبنے والا سب سے بڑا روسی بحری جہاز ہے۔
روسی وزارتِ دفاع نے بتایا ‘جب اس جہاز کو کشتیوں سے کھینچ کر بندرگاہ تک لے جایا جا رہا تھا تو اس نے اپنا توازن کھو دیا کیونکہ آگ لگنے کے باعث اسلحے میں ہونے والے دھماکے سے اس کے ڈھانچے کو نقصان پہنچا تھا۔ بپھرے ہوئے سمندر کے باعث یہ ڈوب گیا۔’
یوکرینی فوجی حکام نے کہا کہ اُنھوں نے موسکوا نامی اس جہاز کو یوکرینی ساختہ نیپچون میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا تھا۔
یہ میزائل یوکرین نے سنہ 2014 میں جزیرہ نما کرائمیا پر روسی قبضے کے بعد تیار کیا تھا کیونکہ بحیرہ اسود میں یوکرین کے لیے بحری خطرہ بڑھنے لگا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
دو مرتبہ کراچی آنے والا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ روسی حملے میں تباہ
کیا روس پر یوکرین میں نسل کشی کرنے کے الزامات درست ہیں؟
’شام کا قصائی‘ کہلائے جانے والے روسی جنرل اب یوکرین میں روسی فوج کی قیادت کریں گے
مغربی خفیہ ایجنسیوں نے روس یوکرین جنگ سے متعلق معلومات عام کیوں کیں؟
اس جہاز کے ڈوبنے کو امریکہ کی جانب سے ‘بڑا دھچکا’ قرار دیا گیا ہے تاہم امریکی حکام یہ تصدیق نہیں کر پائے کہ اس کے ڈوبنے کی وجہ یوکرین کے نیپچون میزائل ہی ہیں۔
پینٹاگون کے ترجمان جان کربی نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ ‘یہ واقعتاً ممکن اور قابلِ فہم ہے کہ [یوکرین نے] درحقیقت اسے نیپچون یا کسی اور میزائل سے نشانہ بنایا۔’
ایک سینیئر یوکرینی عہدیدار نے کہا کہ موسکوا پر عملے کے تقریباً 510 اہلکار تھے۔
یوکرین پر روس کے حملے کے پہلے دن یعنی 24 فروری کو موسکوا عالمی طور پر اس وقت نمایاں ہوا جب اس نے بحیرہ اسود میں موجود ایک جزیرے کی حفاظت پر مامور یوکرینی فوجیوں سے ہتھیار ڈالنے کے لیے کہا تھا تاہم اُنھوں نے مبینہ طور پر مغلظات سے بھرے ایک ریڈیو پیغام میں اس حکم کو مسترد کر دیا تھا۔
سوویت دور میں تیار ہونے والا یہ جہاز 80 کی دہائی میں بحریہ میں شامل ہوا اور اسے پہلی بار سمندر میں یوکرین کے جنوبی شہر مائیکولائیف میں اتارا گیا تھا جسے اب روس کی سخت بمباری کا سامنا ہے۔
گائیڈڈ میزائلوں سے لیس اس جہاز کو اس سے پہلے ماسکو نے شام میں تعینات کیا تھا جہاں یہ ملک میں موجود روسی فوجوں کو بحری حفاظت فراہم کرتا تھا۔
یوکرین جنگ کے آغاز سے یہ اب تک ڈوبنے والا دوسرا اہم روسی جہاز ہے۔
برطانیہ کے سابق چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل لارڈ ویسٹ نے کہا کہ بحری جہاز کا نقصان ‘بہت شرمناک’ ہے۔
اُنھوں نے بی بی سی ریڈیو 4 سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘پوتن بحریہ سے محبت کرتے ہیں۔ جب وہ اقتدار میں آئے تھے تو سوویت فورسز میں سب سے پہلے اُنھوں نے بحریہ کی بحالی پر توجہ دی تھی۔ اُن کے دل میں بحریہ کے لیے ہمیشہ سے نرم گوشہ تھا۔’

