منزل ابھی نہیں آئی

2022 کا سال پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی کا سال ہے۔ یعنی پچھتر سال ہو گئے پاکستان کو وجود میں آئے، ایک لمبا عرصہ ہے، انسان پیدا ہو کر بڑھاپے کے سنہری دور میں داخل ہوجاتا ہے لیکن شاید ہم وہ واحد ملک ہیں جو پچھتر سال میں ایک بھی جمہوری وزیراعظم ایسا نہیں پیدا کرسکے جو اپنی پانچ سال کی مدت پوری کرسکے۔ ایسا کیوں ہے کیا ہم جمہوریت کے اہل نہیں یا پھر اب تک سیاسی شعور ہی نہیں پیدا ہوا ہے ہم میں۔ لیاقت علی خان سے لے کر عمران خان تک کیا کوئی بھی سیاستدان اس قابل نہیں تھا کہ اپنی حکمرانی کی مدت پوری کر سکے، جبکہ ان پچھتر برسوں میں چار، پانچ مرتبہ مارشل لاء لگا اور کامیاب رہا اور صدارتی نظام میں بدل کر چلتا رہا، بہت سے بزرگ اب بھی کہتے ہیں ایوب خان کا دور زبردست تھا کوئی مشرف کے دور کے گن گاتا ہے لیکن کسی کو جمہوری حکومت کی تعریف کرتے نہ سنا بلکہ ہر اتارے گئے وزیراعظم کو چور ڈاکو کا خطاب ملا۔
کیا پاکستان کو جمہوریت راس نہیں، کیونکہ الیکشن کے نتائج آتے ہی دھاندلی کا شور مچ جاتا ہے ۔ اگر آپ ہار گئے تو خندہ پیشانی سے اپنی ہار قبول کریں اور جیتنے والے کو اپنے جوہر دکھانے دیں لیکن ایسا نہیں ہوتا الیکشن نتائج کو رد کر کے مظاہرے، لغو نعرے اور بد زبانی کے مقابلے شروع ہو جاتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں نے آج تک اپنے ورکرز کی تربیت ہی نہیں کی یہ شعور ہی نہیں پیدا کیا کہ جمہوریت کیا ہے۔ سیاسی ورکرز کو سیاسی کام کرنا سکھائیں انھیں جان دینے والے سپاہی نہ بنائیں، نہ انھیں ان کی حد کراس کرنے دیں۔
آپ کا حق ہے اپنے لیڈر کے حق میں نعرے لگائیں، کام کریں لیکن دوسرے کی آزادی میں دخل نہ دیں اسے بھی اتنا ہی حق ہو تحریر اور تقریر کا۔ جان لیوا نعرے اور دل شکن جملوں سے گریز کریں تب ہی جمہوریت کا حسن نظر آئے گا۔ آپ اور ہم ملک ہی کام کر سکتے ہیں، جب سب مل کر کام کرین گے تب ہی جمہوریت کا پودا مضبوط تناور درخت بنے گا لیکن آج تک کسی سیاسی لیڈر نے اپنے کارکنوں کو یہ نہیں سکھایا بلکہ اپنی دکان چمکانے کے لی کبھی سچ نہیں بولا بلکہ سہانے خواب دکھا کر انھیں لبھایا اس لیے جب خواب ٹوٹتا ہے تو یہی کارکن اور عوام لیڈر کی ایسی تیسی کر دیتے ہیں یہ عمومی رویہ ہے۔
سیاست کو جدی پشتی جاگیر بنا لیا ہے، آپ کی جگہ آپ کا بیٹا، بھائی جیتے ضروری نہیں ہے اس طرز کو بدلنا چاہیے۔ قابل اور محنتی فرد کو آگے آنے دیں، دوسرے کی جیت کو ناک کا مسئلہ نہ بنائیں کھلے دل سے قبول کریں شاید اس سے کچھ افاقہ ہو۔ آج کل ایک فقرہ بہت مشہور ہوا ہے ”جمہوریت بہترین انتقام ہے“ ، بے شک جمہوریت بہترین انتقام ہے صرف اس صورت میں جب بات جمہوریت تک رہے کسی کے گریبان یا گردن تک نہ پہنچے۔
سیاست دانوں کا بھی وتیرہ ہے کہ جب حکومت میں ہوتے ہیں تو کارکردگی پر نظر نہیں رکھتے، عوام کو اتنے سبز باغ دکھائے جاتے ہیں کہ جب وہ حکومت میں آئیں گے تو سب کچھ بدل کر رکھ دیں گے، جھوٹے سچے وعدے کر کے ووٹ تو لے لیتے ہیں اور کام کے وقت مفادات عزیز ہو جاتے ہیں حالانکہ یہ لوگ اچھی طرح ملک کے حالات جانتے ہیں لیکن عوام کی آنکھوں میں بڑے بڑے دعوی اور وعدے کر کے ایسے دھول جھونکتے ہیں جیسے ان کے منتخب ہوتے ہی کایا پلٹ جائے گی اور سب ٹھیک ہو جائے گا۔ کیوں نہیں سچ بولتے ووٹر سے کیوں نہیں عوام کی آنکھیں کھولتے حقائق بتا کر، کیوں نہیں کہتے کہ ہم سے اتنے کام نہیں ہو سکیں گے اور جو کر سکتے ہیں وہ کریں گے۔
ملک کے متوسط طبقے سے اسمبلی میں کسی کو نہیں آنے دیتے جبکہ مسائل کا ادراک متوسط طبقے کو زیادہ ہوتا ہے اور ان کے پاس ان مسائل کا حل بھی ہوتا ہے، سیاسی جماعتیں بھی متوسط طبقے کو منہ نہیں لگاتیں نہ اہمیت دیتیں ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں صرف ایک جماعت جو چند شہروں سے تعلق رکھتی تھی اس نے یہ غلطی کی تھی اور اس کی سزا بھی بھگتی کیونکہ موروثی، جاگیرداروں، وڈیروں، پیروں، شاہوں، چوہدریوں کو گوارا نہیں کہ ان کے ساتھ اسمبلیوں میں ان کے برابر ایک مزدور کا بیٹا، ایک ٹیچر، ایک ڈاکٹر بیٹھے یہ مائنڈ سیٹ ختم نہیں ہو گا تب تک پاکستان میں جمہوریت کامیاب نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی وزیراعظم اپنی مدت پوری کرسکے گا۔
اس ڈائمنڈ جوبلی سال آزادی میں ہم آج بھی زیرو میل پر کھڑے ہیں اور آج پھر جمہوریت کے لیے سڑکوں پر خوار ہو رہے ہیں۔ ایک نیا دور سیاست میں سوشل میڈیا کا آ گیا ہے فوٹو شاپ، ایڈیٹنگ، کمنٹس، مکسنگ، ممکریز، ٹیوٹر، یو ٹیوب، ٹک ٹاک ہر حربہ آزمایا جا رہا ہے مخالف کے خلاف، چاہے اس کے لیے جھوٹ کے آسمان میں اڑن طشتریاں اڑانی پڑیں، یا بغض کے بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے پڑیں مزے لیں سب جائز ہے۔ دوست دوست نہ رہا، بابا کی ڈول خرانٹ ہو چکی ہے، ایک دوسرے کو لائک اور نیک نیتی کے کمنٹس کرنے والے سیاسی بھڑاس نکال رہے ہیں، اپنے مخالف کے برے برے نام رکھے جا رہے ہیں، بلاک مارے جا رہے ہیں یہ ہے سائبر سیاست جی ہاں ہر ایک دوسرے کا دشمن بنا ہوا ہے غصے والا ایموجی ٹاپ پر ہے، جلسوں میں موبائل لائٹس سے گنتی کا اندازہ لگایا جا رہا ہے، ہے نا عجب دور اب خیر کی خبر کہاں سے آئے شاید بہار کا موسم ہم پاکستانیوں کی پہنچ سے دور ہے، مستقل خزاں کا ڈیرہ ہے، دعا ہے سیاسی ماحول سدھر جائے اور ملک سنوارنے کی بات ہو۔
ان عوامل کا خاتمہ ہو جو جمہوریت نہیں چلنے دیتے، ملک کو ہم سب مل کر ہی مضبوط بنا سکتے ہیں اب تو کبھی مارشل لا نہ لگنے کی نوید بھی سنا دی گئی ہے، ملک کا ہر ستون اپنا کام کرے تاکہ تعمیر وطن ہو۔ سیاستدان راست بازی اور سمجھداری سے کام لیں بہت کچھ ڈبو دیا اب کچھ نہیں ڈبونے کو بس اب تو کام کام اور صرف کام میرے ہم وطنو۔
خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فضل گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو

