خدارا جمہوریت کو پنپنے دیں!


حضور ایسا نہ کریں، جمہوریت کو پنپنے دیں، اسے کسی دو، تین، چار جماعتوں کی اجارہ داری نہ بنائیں، غلطیاں کس سے نہیں ہوئیں، کس نے نہیں کیں، وقت نے مگر سب کو کچھ نہ کچھ مثبت ضرور سکھایا، ملک کی بڑی سیاسی پارٹیوں کا تحریک انصاف کے ورکرز کو

” کھڈے لائن“ لگانا کسی طور بھی دانشمندی نہیں، پاکستانی جمہوریت کی طرح، تحریک انصاف بھی ارتقائی دور سے گزر رہی ہے، عاجزانہ گزارش ہے جس طرح باہمی اختلاف جمہوریت کا حسن سمجھا جا تا ہے، ”قوم یوتھ“ کے بیانیہ کو صحیح یا غلط مگر حقارت سے مت دیکھیں، آپ سیاسی طور پر زیادہ میچور ہوں گے اچھی بات ہے مگر اس زوم میں حریف کو اتنی سپیس دیں کہ وہ آزادانہ طور پر کچھ سوچ سکے۔

یہاں واضح کر دوں کہ فدوی کبھی بھی تحریک انصاف کا سپورٹر نہیں رہا، فدوی ہمیشہ آئین کو سپریم مانتا آ رہا ہے اور مانتا رہے گا اور اس ضمن میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کاوشوں اور قربانیوں کا ہمیشہ سے معترف رہا ہے۔

اپنے آپ کو ایک انتہائی مہذب سیاسی جماعت کا سپورٹر سمجھنے والا مگر پچھلے دو دن سے بے چین ہے، سوشل میڈیا دیکھ کر دل بجھ سا گیا، آئین کی بالا دستی کی جو مبہم سی امید دل میں جاگ جاتی ہے، یکسر مگر دھندلا گئی۔ عجب جمہوریت پسندی ہے کہ اہم ”ریاستی ادارے“ کا مخالف پارٹی کو سپورٹ کر نا تو ”سلیکشن“ ہے، مگر وہی ”ادارہ“ جب آپ کو سپورٹ کرے تو وہ جمہوریت کی جیت کیسے ہو سکتی ہے؟

تمام سیاسی پارٹیوں کی قیادت، عہدیداران اور ورکرز سے ہاتھ جوڑ کر التجا ہے کہ اس ”قوم یوتھ“ جس کو آپ ”گالم گلوچ“ برگیڈ کہتے ہیں کو موقع دیں، انہیں اپنے حقیقی جمہوری رویے سے باور کروائیں کہ یہ کہاں کہاں غلطیاں کرتے ہیں، امپائر کی انگلی ان کی مٹھی سے نکل کر آپ کی مٹھی میں آ جانے کو جمہوریت نہیں کہتے! جہاں تک گالم گلوچ کا تعلق ہے سوشل میڈیا پر ذرا ورکرز لیول پر جا کر دیکھیں کچھ زیادہ فرق بھی نہیں سب میں، یہ کلچر بھی تبدیل ہونے کی ضرورت ہے۔

آخر میں صرف یہ گزارش ہے کہ ”مقتدر حلقوں“ کو آئینی حدود میں رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ تمام جماعتوں میں ڈائیلاگ پراسس اور رابطے ہونے چاہیے۔ اصولوں پر سیاست کریں، اختلاف رائے رکھیں مگر اس اختلاف سے ریاست کے دائمی اداروں کو تقویت فراہم نہ کریں کہ وہ جمہوری نظام کو سبوتاژ کر سکیں، خدارا نہ کریں۔

آج تمام سیاسی جماعتیں نیوٹرل نیوٹرل ”کھیل“ رہی ہیں، کیا یہ تمام جماعتیں کم از کم آئندہ الیکشن کے بعد تک اس ”نعرے“ پر قائم رہنے کا عہد اٹھا سکتی ہیں؟ سابق ہو چکے وزیر اعظم کا پارلیمانی اقدام کے خلاف جانا کسی طور بھی جسٹیفائی نہیں، مگر جو اس سے پہلے ہو چکا اس میں جمہور پسند قوتیں کسی ”تیسری قوت“ کو نہ تلاش پائیں یہ ہو نہیں سکتا۔ کیونکہ سب کو حصہ بقدر جثہ ملنا تھا سو مل بانٹ کر آنکھیں موند لی گئیں۔

تحریک انصاف کی قیادت اب تک اپنے ورکرز کو کامیابی سے یہ باور کرا چکی کہ ”امپائر“ سمیت سب ایک پیج پر تھے اور یہ کہ میچ فکس تھا۔ یہی میچ فکسنگ اگر 2017 کے الیکشن میں جمہور پسند قوتوں کے لئے غلط تھی تو اب ٹھیک کیسے؟ یہ اگر آئینی طریقہ تھا تو پچھلے دو وزراء اعظم کو کسی مارشل لاء نے نہیں بلکہ ”آزاد عدلیہ“ نے ہی ہٹایا تھا، وہ غلط عدلیہ تھی تو یہ ٹھیک کیسے؟ خدارا جمہوریت کو پنپنے دیں اسے اپنی مرضی کا چغہ مت پہنائیں اور آئین اور پارلیمان کی بالا دستی ہی ہم سب کو متحد رکھ سکتی ہے۔

Facebook Comments HS