عمران خان کی سیاسی غلطیاں



خان صاحب سلیبریٹی تھے اور سیلیبریٹ کبھی بھی اچھے سیاست دان ثابت نہیں ہوئے۔ سلیبریٹی کے ساتھ لوگ ضرور ہوتے ہیں لیکن سیاست ایک الجھی ہوئی چیز ہے۔ سیلیبریٹ سمجھتے ہیں کہ لوگ ہر حال میں اس کے ساتھ ہیں لیکن ایک اچھا سیاستدان ہواؤں کا رخ اپنی طرف موڑے رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیا خان صاحب یہ سمجھتے تھے کہ آزاد خارجہ پالیسی رشین بلاک کے زیر سایہ رہ کر تشکیل دی جا سکتی ہے۔ تو یہ سوچ ان کے انتہائی غلط تھی آزاد خارجہ پالیسی کے لیے آپ کو کسی بلاک کا حصہ بننے کی ضرورت نہیں تھی اور خصوصاً وہ بلاک انڈین بلاک ہو۔

آزاد خارجہ پالیسی کے لیے ٹی وی پر بیٹھ کر انڈیا کی تعریف کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ آزاد خارجہ پالیسی کے لیے اپنے ہی ایک سفیر کے لکھے ہوئے مراسلے کو خط بنانے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ اگر آپ اس کو خط تشکیل دے رہے تھے تو یقیناً آپ اپنی کرسی بچانے کے لئے کر رہے تھے۔ خان صاحب آپ نے ساڑھے تین سالوں میں جو غلطیاں کی تھی اس کا خمیازہ آپ کو بھگتنا تھا۔ عثمان بزدار جیسے نا اہل شخص کو وزارت اعلیٰ جیسے اہم عہدے پر تعینات رکھا۔

چینی، بجلی اور ادویات کے سکینڈل دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ آپ نے تمام وزراء اور ان کے حواریوں کو گویا کرپشن کی کھلی چھٹی دے دی، آپ نے جو منشور دیا تھا اس کے مطابق ایک بھی کام نہ کیا، آپ نے تھانہ کچہری کی سیاست کو درست نہ کیا، آپ نے عدالتوں کے نظام پر 1 ٪ بھی کام نہ کیا، آپ نے مہنگائی کنٹرول کی نہ لوٹا ہوا پیسہ آپ واپس لائے۔ چوروں کو باہر آپ نے خود جانے دیا آئی ایم ایف کے پاس آپ خود گئے۔ اسٹیٹ بینک کو گروی آپ نے رکھا دیا۔ کشمیر انڈیا نے اپنا حصہ بنا لیا اس پر آپ کی سفارتکاری صفر تھی۔

میڈیا پر آپ نے شہباز گل، فواد چوہدری جیسے نا اہل اشخاص کو تعینات کرتے ہوئے گالم گلوچ کو فروغ آپ نے دیا۔ کوئٹہ میں جب تسلی کے دو لفظ کہنے ہیں تو آپ نے کہا وزیراعظم لاشوں سے بلیک میل نہیں ہو گا۔ سفیر کے معاملے میں آپ نے کہا کہ ہماری معیشت تباہ ہو جائے گی اور آپ کھل کر امریکہ کے خلاف بیانات دے رہے ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کے قول و فعل میں تضاد ہے۔

سندھ سے مراد علی شاہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جنازے میں شامل ہوا آپ اسلام آباد میں بیٹھ رہے آپ ان کے جنازے میں شامل نہ ہوئے۔ یہاں تک کہ آپ اپنے قریبی ساتھی نعیم الحق کے جنازے میں بھی شامل نہ ہوئے۔ آپ نے اپنے پرانے وقت کے دوستوں جہانگیر ترین اور علیم خان کی چھٹی کروا دی! یہ سب کچھ تاریخ کا حصہ ہے۔ آپ اس سے منہ نہیں موڑ سکتے۔ عوام آپ کے ساتھ تھی عوام آپ کے ساتھ ہیں اور شاید عوام آپ کے ساتھ رہے گی لیکن یہ عوام ایک اچھے سیاستدان کے ساتھ نہیں ایک سلیبرٹی کے ساتھ کھڑی ہے۔ سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں لیکن آپ ایک اچھے سیاستدان نہیں ہے۔ اسی لئے شاید آپ کا سورج غروب ہو چکا ہے۔ ورلڈ کپ اور کینسر ہاسپیٹل آپ کے ماتھے کا جھومر ہے لیکن بیڈ گورننس آپ کے ماتھے کا ایک بد نما داغ بھی ہے۔

Facebook Comments HS