قومی اسمبلی کے بعد پنجاب اسمبلی میں بھی ہنگامہ آرائی


آج جب خدا خدا کر کے لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے انعقاد کا موقع آیا تو تحریک انصاف اور اتحادی پارٹیوں کی طرف سے طے شدہ منصوبے کے مطابق ہنگامہ آرائی، دھکم پیل، دھینگا مشتی، مار دھاڑ اور غنڈہ گردی شروع کروا دی گئی۔ پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری پر لوٹے پھینکے گئے، ان کے بال نوچے گئے، ان پر لاتیں اور مکے برسائے گئے اور انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس موقعے پر پنجاب پولیس ایوان میں داخل ہو گئی اور یہ پہلا موقع ہے کہ پولیس ایوان میں داخل ہوئی۔ اس ہنگامہ آرائی اور غنڈہ گردی کا سرغنہ ایم پی اے رانا شہباز تھا۔ اس کے ساتھ ان کے بہت سے پی ٹی آئی کے ایم پی ایز شامل تھے۔ سب جانتے ہیں کہ اس وقت پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے ووٹ زیادہ ہیں اور حمزہ شہباز ایک سو ننانوے ووٹ لے کر وزیراعلی منتخب ہو رہے ہیں۔

اس انتشار اور خلفشار اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے پیچھے عمران خان کی فاشسٹ اور آمرانہ سوچ ہے۔ عمران خان نے جب دیکھا کہ وہ قومی اسمبلی میں اکثریت کھو چکے ہیں تو انہوں نے مہذب اور جمہوری طریقہ اختیار کر کے اسمبلی اجلاس بلا کر ووٹنگ کروانے کے بجائے ملک میں ایسے مخدوش اور غیر یقینی حالات پیدا کر دیے کہ مارشل لا لگنے کے سنگین خطرات پیدا ہو گئے تھے۔ وہ تو بھلا ہو آرمی چیف، عدالت عظمٰی اور دوسرے اداروں کا کہ جو اس موقعے پر جمہوریت کے ساتھ کھڑے نظر آئے اور عدم اعتماد کا مرحلہ رات بارہ بجے کے بعد پایۂ تکمیل کو پہنچا اور شہباز شریف جمہوری انداز میں نئے وزیراعظم منتخب ہو گئے۔

دریں اثنا پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری زخمی ہونے کے باوجود پر عزم ہیں کہ انہوں نے آج ہی عدالت کے حکم پر ووٹنگ کرانی ہے چاہے پی ٹی آئی کے گماشتے کچھ بھی کر لیں۔ پی ٹی آئی اور اتحادی پارٹیوں نے غنڈہ گردی اور خون خرابے کا باقاعدہ پروگرام بنا رکھا ہے تاکہ وہ ووٹنگ کے عمل کو سبوتاژ کر سکیں۔

اس موقعے پر ہمیں مشرقی پاکستان کی اسمبلی کا ایک خونچکاں واقعہ یاد آ رہا ہے۔ 21 ستمبر 1958 میں مشرقی پاکستان کی اسمبلی کے اسپیکر عبدالحکیم نے چھ حکومتی اراکین کی رکنیت معطل کردی۔

اس پر اراکین ان پر چڑھ دوڑے اور پیپر ویٹ، گملوں، پردوں کے ڈنڈوں سے ان پر حملہ آور ہو گئے مگر اسپیکر صاحب کسی نہ کسی طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس کے بعد ڈپٹی اسپیکر شاہد علی پٹواری نے جب دوبارہ اجلاس شروع کروایا تو کچھ اراکین نے اسپیکر عبدالحکیم کے خلاف قرار داد پیش کی کہ وہ پاگل ہو گئے ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر نے یہ قرار داد فوراً منظور کر لی جس پر اپوزیشن اراکین بپھر گئے اور انہوں نے فوراً ڈپٹی اسپیکر کے ڈائس کا گھیراوٴ کر لیا اور انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنانے لگے۔

اسی دوران میں کسی نے ان کے سر پر کرسی، پیپر ویٹ یا گملا دے مارا جس کی وجہ سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ انہیں فوراً ہسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ دو روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد چل بسے تھے۔ اس واقعے کے بعد صدر سکندر مرزا نے عوامی لیگ کی حکومت ختم کردی تھی۔ یاد رہے کہ اس خونیں واقعے کے ایک سال بعد جنرل ایوب نے مارشل لا نافذ کر دیا تھا۔ اس مارشل لا کے مسلط کرنے میں مشرقی اسمبلی کا یہ خونچکاں واقعہ بھی بہت بڑا سبب قرار دیا گیا تھا۔

بد قسمتی سے آج بھی کسی کے اشارے پر پنجاب اسمبلی میں اس سے ملتا جلتا واقعہ پیش آ سکتا ہے جو پھر کسی مارشل لا پر منتج ہو سکتا ہے کیونکہ عمران خان اقتدار سے نکالے جا چکے ہیں اور ان کے سیاسی اتحادی پنجاب کے سابقہ ”ڈاکو“ اور موجودہ وزارت اعلٰی کے امیدوار عمران خان کے حکم پر اپنا اقتدار جاتا دیکھ کر کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہیں۔ عمران خان نے جس طرح سیاست کو نفرت، ذاتی عداوت و انتقام اور اختلاف رائے کو بدترین دشمنی، حق و باطل کا معرکہ اور حسینیت و یزیدیت کے درمیان جنگ بنا دیا ہے اس کے نتیجے میں ملک انارکی کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں بھی شاید لاہور ہائی کورٹ کو خود مداخلت کر کے عدم اعتماد کی تحریک کو نمٹانا پڑے گا ورنہ وہاں بھی کوئی خونچکاں سانحہ رونما ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments HS