عمران خان اور نئی حکومت


پاکستان بننے کے بعد اگر پاکستان کی خارجہ پالیسی پر نظر دوڑائی جائے تو اس میں بہت سے اتار چڑھاؤ آئے ہیں۔ اس وقت عمران خان کے دورہ روس کے بعد حالات تبدیل ہوئے اگرچہ عمران خان کی حکومت اب نہیں رہی مگر نئی حکومت اور عوام کے لئے بہت سے سوالات چھوڑ گئی۔ کچھ مبصرین کے نزدیک عمران خان ایک آزاد خارجہ پالیسی چاہتے تھے۔ جبکہ کچھ کے نزدیک عمران خان امریکی کیمپ سے نکل کر روسی کیمپ میں شامل ہونا چاہتے تھے۔ اگرچہ وہ کہتے رہے کہ ہم امریکہ سمیت تمام ممالک کے ساتھ برابری کے تعلقات چاہتے ہیں۔

مگر عمران کی تقاریر سے یہ بات واضح ہوتی ہے وہ شروع سے امریکہ سے شکایات کرتے رہے کہ افغان مسئلہ ہو یا دہشت گردی ہم نے امریکہ کے لئے جانیں قربان کیں مگر امریکہ نے پاکستان کی قدر نہیں کی تو اب پاکستان کو بھی ضرورت تھی کہ وہ روس کے ساتھ اچھے تعلقات بنائے جس میں پاکستان کے مفادات کا تحفظ ہو۔ دورہ روس کے بعد حالات یکسر تبدیل ہوئے اور امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر کی طرف سے ایک دھمکی آمیز سفارتی مراسلے کا معاملہ پیش آیا جس میں عمران خان کی حکومت گرانے کے لئے تحریک عدم اعتماد کا معاملہ تھا۔

اس مراسلے والے معاملے کو عمران خان نے ہر جگہ پر اٹھایا کہ حکومت گرانے کے پیچھے امریکی سازش ہے مگر پھر بھی ان کی حکومت نہ بچ سکی اور حکومت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اب اس نئی مخلوط حکومت کے لئے بھی حکومت کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔ ایک تو عمران خان کو ایک نیا بیانیہ مل گیا کہ ان کی حکومت کو امریکہ نے گرایا ہے اور وہ اس کو ہر جگہ اپنے جلسے جلوسوں میں بیان کریں گے۔ پاکستانی عوام میں پہلے ہی امریکہ مخالف جذبات پائے جاتے ہیں اور ان کے اس بیانیہ کی عوام میں پذیرائی بھی ہو رہی ہے اس وقت حکومت کے لئے سب سے اہم کام مہنگائی میں پسی عوام کو اس تھوڑے عرصے میں جلد از جلد ریلیف فراہم کرنا چاہیے۔ جبکہ عمران خان اور ان کی پارٹی جو کہ قومی اسمبلی سے استعفے دے چکے ہیں وہ صرف سڑکوں پہ رہیں گے اور جلسے جلوسوں کے ذریعے حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے تاکہ جلد از جلد الیکشن کا انعقاد ممکن بنایا جا سکے۔

Facebook Comments HS