پاکستان عہد حاضر میں: ایک اہم کتاب
جب انسان ناداری و بیماری سے نبرد آزما ہو تو تکلیف کے عالم میں آئینہ دیکھنا اسے مزید آزار میں مبتلا کرتا ہے۔ ایسا ہی کچھ حال کتاب ”پاکستان عہد حاضر میں“ پڑھتے ہوئے میرا بھی ہوا۔ فکشن کی کسی کتاب کی دلچسپ کہانی اور کردار آپ کو انگلی پکڑ کے اپنے ساتھ نگر نگر کی سیر کراتے ہیں۔ لیکن اگر کتاب کا موضوع خود اپنی ذات بلکہ نسل در نسل بیتے واقعات سے جڑا ہوا ہو تو اندرون ذات کا سفر ایسے کچوکے لگاتا ہے جیسے پی ٹی ایس ڈی مرض میں مبتلا مریض کو اس کا کھریدے جانا والا ماضی۔ مگر یہ بھی درست ہے کہ زخموں کی اندمالی کے لیے درد کے شجر کی جڑوں تک پہنچنا ضروری ہے۔ شاید یہی سوچ کر حارث خلیق اور عرفان احمد خان نے اس کتاب کی ترتیب اور تدوین کا بیڑا اٹھایا۔
کتاب میں اہم دانشوروں کے لکھے سات مضامین شامل ہیں۔ اس مجموعہ میں پاکستانی سماج کے ان مسائل کا جائزہ لیا گیا ہے جو ثقافتی، تعلیمی، معاشی اور مذہبی محاذ پہ درپیش ہیں۔ کتاب میں پاکستان کی آفرینش سے آج تک کے پاکستانی سماج میں مختلف سطح پہ ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا ہے۔
ظاہر ہے کہ کسی بھی وطن کی تخلیق خلا میں نہیں ہوتی اس کی بار آوری میں خطہ کی تاریخ اور وابستہ سماج کی ثقافت اور مذہب کا اہم کردار ہوتا ہے۔ سماجی ارتقا کے شعور کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس معاشرہ میں صنفی، مذہبی، معاشی اور سیاسی سطح پہ عمومی تصورات اور رجحانات کیا ہیں۔ کیا ہمارا سماج تضاد اور کنفیوژن، تنگ اور تعصب پسندانہ رویہ کا شکار ہے؟ اگر ہے تو اس نے پاکستانی سماج پہ کیا اثرات مرتب کیے ہیں۔
جن ادیبوں نے پوری دیانتداری اور عرق ریزی سے موضوع کے حوالے سے متعلق مختلف پہلووں کا تجزیہ کیا ہے ان کے نام ملکی و عالمی سطح پہ اپنے علمی حوالے سے معتبر قرار پائے ہیں۔ اس میں شامل چھ مضامین انگریزی اور اور ایک اردو میں لکھا گیا ہے۔ لیکن یہ کتاب بیک وقت اردو اور انگریزی میں شائع ہوئی ہے۔
پہلا مضمون ”کچھ یقینی بے یقینیاں پاکستان کا ثقافتی انتشار“ کے عنوان سے ڈان سے وابستہ مشہور صحافی فلمساز اور ثقافتی نقاد حسن زیدی کا ہے جنہوں نے پاکستان کی تغیر میں گھری ثقافت کا جائزہ لیا ہے۔ جو بانی پاکستان کے ایک سیکولر ملک کے تصور سے دور موجودہ کٹھ ملائیت کا شکار موجودہ پاکستان میں تاراج ہے۔ انہوں نے سینما کے زوال کا تجزیہ کیا جہاں ستر کی دہائی تک پاکستان دنیا بھر میں فلم سازی کے سر فہرست دس ممالک میں شمار ہوتا تھا۔ آج یہاں صرف 25 فلمیں بنتیں ہیں۔ 1980ء کی دہائی میں بارہ سو سینما گھر تھے آج اسکرینوں کی تعداد ایک سو پچیس سے کم ہے۔ ان کے مطابق اس تنزلی میں اور دوسرے عوامل کے علاوہ سخت گیر سینسرشپ اور کوتاہ نظر پالیسی کا نفاذ کا ہاتھ ہے۔
صحافی، ڈرامہ نگار، دستاویزی فلمساز اور فلم نقاد سلمان آصف نے پاکستانی سینما میں مذہبی اقلیتوں کی تصویر کشی کے حوالے فلم کی تاریخ کا تفصیلی جائزہ ہوئے لکھا۔ ”اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے کرداروں کی تصویر کشی کی مثالیں محدود ہیں۔“ انہیں تخفیفی مہمات کا بارہا نشانہ بنایا گیا۔
نوید شہزاد کا نام ٹیلی ویژن کی تاریخ میں اداکاری اور ہدایتکاری کے علاوہ تعلیم اور قلم سے وابستگی کے حوالے سے بھی اہم ہے۔ انہوں نے ”دل کی زبان“ کے عنوان سے مضمون لکھا اور قوم اور قومیت کو نسبتاً جدید تاریخی مظہر قرار دیا ”کہ جس کی بنیاد پہ“ دوسرے ”کو جدا کیا گیا۔ انہوں نے زبان اور لفظوں کی ادائیگی کو ایک بہتر اور متمول دنیا کی تخلیق کا ذریعہ قرار دیا۔ جو کسی مخصوص خطہ کے بجائے“ دل کی زبان ”بنکر آفاقی“ ذات ”میں ڈھلے۔
فاطمہ احسان ماہر تعلیم، صنفی ماہر اور فیمنسٹ محقق ہیں۔ انہوں نے ”شمولیت راگ اور پیار کا رس“ کے عنوان سے کلاسیکل موسیقی، راگ اور صوفیانہ کلام کی کی آفاقیت کے موضوع پہ لکھا۔ انہوں نے امیر خسرو کا قول ”میں پیار کا کافر ہوں، مجھے مذہب کی ضرورت نہیں۔“ کی معنویت کو اجاگر کرتے ہوئے راگ اور کلاسیکل، خاص کر ہندوستانی، موسیقی پہ گفتگو کی۔ اور راگوں کی بنیاد کو بے کراں حکمت قرار دیا جو ”سرشاری کے ایسے احساس کا مؤجب بنیں کہ سننے والا منہمک، زود فہم ہو، اور بغیر کسی امتیاز کے ہر تخلیق کو تحیر کے ساتھ قبول کرسکے۔“ گویا موسیقی تفریق کے بجائے ایک دوسرے سے ربط کا ذریعہ ہے۔
ڈاکٹر ناظر محمود ماہر تعلیم، مترجم اور فلمی نقاد ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے نظام تعلیم میں امتیاز اور اخراج کے عنوان سے مضمون لکھا۔ تعلیم ایک بنیادی حق ہے۔ اور اگر صنفی، سماجی و معاشی، نسلی اور مذہبی فرق کے سبب کسی طبقہ سے تفریقی سلوک اور اخراج ہو تو ملک میں سو فی صد خواندگی کا ہدف ایک خواب ہی تو رہے گا۔ جہاں اخراج کے عمل کو مذہب کی بنیاد پہ بننے والی تعلیمی پالیسیوں کا نفاذ شرمناک ہے وہاں مخصوص مواد کو شامل کرنا مذہبی فوقیت کی زہریلی فضا کی ترویج ہے۔
زاہدہ حنا کا نام فکشن اور کالم نگاری کے حوالے سے تعارف کا محتاج نہیں۔ انہوں نے ”مسلم معاشرے میں مذہب اور ریاست سازی“ کے عنوان سے اسلامی تاریخ کو کھنگالا اور ملوکیت کی مطلق العنانیت کو ان اسلامی فتووں سے جوڑا کہ جس نے بالآخر ڈیڑھ ہزار برس میں اسلامی دنیا کا روشن خیالی اور سائنسی فکر سے رشتہ توڑ دیا۔ جن کی بنیاد پہ عالموں کی تذلیل ہی نہیں ان کے سر اڑا دیے گئے۔ بعد میں انگریز حاکموں نے مذہبی نفاق کا بیج برصغیر کی تقسیم میں بویا کہ جس کے زہریلے اثرات ہم آج دیکھ رہے ہیں۔ مصنفہ کے مطابق ”پاکستان وجود میں ضرور آ گیا لیکن وہ ایک جدید قومی ریاست میں تبدیل نہ ہوسکا۔“
سنجیدہ ادب پڑھنے والوں کے لیے حارث خلیق کا نام معتبر ہے۔ جن کی شاعری کی نو اور نثر کی چار کتابیں بیں آ کی ہیں۔ ان کا مضمون ”بیرون ملک پاکستانی اور آبائی وطن سدھارنے کی خواہش“ میرے لیے خاص دلچسپی اور توجہ کا باعث بنا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں امریکہ کی ریاست مشیگن میں گزشتہ پچیس سالوں سے بسی ہوئی ہوں۔ اور یہاں مجھے سوشل ورک میں ایم ایس کرنے کی وجہ سے سماج کو بحیثیت مجموعی سمجھنے کا موقعہ بھی ملا۔ جو کچھ حارث کا مشاہدہ اور تجزیہ ہے کم وبیش میرا بھی وہی ہے۔
انسان کی اپنی مٹی سے محبت فطری ہے۔ مجھے یاد ہے یہ میری ابتدائی ہجرت کا زمانہ تھا جب پاکستان میں سیلاب کے چندے کے لیے ایک تقریب میں دستاویزی فلم دیکھتے ہوئے میرے آنسو نہیں رک رہے تھے اور میں نے اپنی تنگدستی کے باوجود بڑی رقم عطیہ کی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم وطن سے دوری کے باوجود کسی نہ کسی ناتے وطن سے جڑے رہتے ہیں۔ وہاں کی سیاست، ثقافت اور سماجی تبدیلی تارکین وطن پاکستانیوں پہ اثرانداز ہوتی ہے۔ ملک سے دوری جڑوں سے قربت پہ مائل کرتی ہے۔
جو پہلے اگر چہ اتنا آسان نہ تھا لیکن انٹرنیٹ کی دنیا نے وہ مانع فاصلے مٹا دیے ہیں۔ بیرون پاکستانیوں کا کردار پاکستان میں بہت اہم ہو گیا ہے۔ اس میں ان کی وطنیت کے ساتھ ڈالر کی بڑھتی قیمت بھی ہے۔ جبھی عمران خان نے اپنے حکومت کے خاتمہ کے بعد ایک خطاب خاص کر بیرون پاکستانیوں سے اپنی مدد کے کیے کیا تھا۔ کیونکہ ایسے با اثر پاکستانیوں کے فیصلے سیاسی معاملات میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
مصنف نے آبائی اور مذہبی شناخت کو ضم کرنے کے حوالے سے بہت دلچسپ تجزیہ کیا ہے۔ خاص کر نائن الیون کے بعد جو تبدیلی دنیا میں آئی۔ اسے بیرون ملک پاکستانیوں نے اپنی شہریت کے تحفظ کے لیے ڈھال کے طور پہ استعمال کیا۔ عربی ثقافت سے ناتا جوڑ کے مثلاً خداحافظ سے اللہ حافظ کلچر اور دو سری برادریوں سے بیگانگی کے عمل کا فروغ۔ تاہم اس عمل کا رجحان پاکستانی سیاست کے تابع رہا ہے۔ بالخصوص ضیا کی حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں۔
نائین ایلون سے اسے مہمیز ملی۔ مصنف نے اس تضاد کا بھی جائزہ لیا ہے جو ان پاکستانیوں میں دیکھا جاتا ہے اگر ایک طرف وہ امریکی یا برطانوی شہری ہوتے ہوئے یہاں کی سیکولر حکومتوں کی مراعات سے فائدہ اٹھاتے ہیں تو دوسری جانب وہ پاکستان کو اسلامی قدامت پسند شرعی حکومت کے تصور میں رجعت کی حامل پالیسیوں کا فروغ چاہتے ہوئے پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانے کے خواہشمند ہیں۔ بے اعتباری کا یہ عالم ہے کہ اگر ملالہ کو نوبل اور شرمین عبید چنائے کو اکیڈمی ملتا ہے تو یہ اسے دشمنوں کے ایجنٹ قرار دیتے ہیں۔
اس کتاب میں شامل مضامین نے مجھے بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کیا۔ آپ ان مصنفین کی آراء سے متفق ہوں یا نہیں یہ کتاب آپ کو بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کرتی ہے۔ اور کسی بھی کتاب کی کامیابی اس میں پوشیدہ ہے کہ وہ آپ کو سوچنے اور سوال اٹھانے پہ آمادہ کرے۔ میں مبارکباد دیتی ہوں حارث خلیق اور عرفان احمد خان کو جنہوں نے اس اہم کام کا بیڑہ اٹھایا۔


