لندن دو احتجاج: عوامی سمندر تحریک کا رخ اختیار کر گیا

کہتے ہیں جب سمندر بپھر جائے تو ساتھ ہری بھری فصلیں بھی اجاڑ دیتا ہے درختوں کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔ تو یہی منظر کشی میں اس احتجاج کی بڑے قریب سے دیکھ رہا تھا،
لندن میں دو احتجاج کی میں آپ کو حقیقت سے آگاہ کروں گا، کسی پارٹی کی طرف داری کرنا میرا وتیرہ نہیں، حق اور سچ لکھنا اولین فریضہ ہے۔ آج جب میں گھر سے نکلا تو سوچا کس جگہ جانا چاہیے یعنی کس احتجاج کو کور کروں۔ ایک دو میڈیا کے دوستوں کو فون کیا، ان کی رائے لی اور اس کے بعد عوامی رائے بھی جانی تو بہت زیادہ تقریباً نوے فیصد عوام کا کہنا تھا کہ ایون فیلڈ آج بہت بڑا عوامی سمندر آئے گا۔ اتوار کا دن تھا ٹرین اسٹیشن پر مرمتی کام ہونے کی وجہ سے سفر زیادہ لمبا ہو گیا۔
میں ٹرین میں جا رہا تھا کہ اوورسیز پاکستانی فیملی بھی ٹرین میں سوار ہو گئی، میں بھی ٹرین میں تھا، اسی دوران نوجوان کے ساتھ بات چیت شروع ہوئی تو ان کے ساتھ ان کے بچے بھی عمران خان کے لیے ایون فیلڈ آ رہے تھے۔ اپنا کام چھوڑ کر، دن ضائع کر کے اور ٹرین کا کرایہ فی آدمی تیرہ پاؤنڈ لگانا آسان کام نہیں، ہاں اگر پیسہ حرام کا ہو یا سیاسی پنڈت کا ہو تو پھر دکھ اور احساس نہی ہوتا۔ یہاں بات شاید اوورسیز پاکستانیوں نے اپنے ذہن میں بٹھا لی ہے کہ عمران کو واپس لا کر ہی دم لیں گے۔
آج میں نے جو ایون فیلڈ کے باہر عوامی سمندر دیکھا، بچے، بوڑھے، خواتین، نوجوان کی بڑی تعداد، حتی کہ معذور جو چل پھر بھی نہی سکتے تھے اس تحریک کا حصہ تھے۔ کئی لوگوں سے میں نے پوچھا، آپ یہاں کیوں آئے ہیں تو ان کا ایک ہی کہنا تھا ان چوروں کی حکومت ختم کرنے آئے ہیں، عمران خان کی حمایت میں آئے ہیں۔ میرے پیار پاکستانیو میرا اور آپ کا خدا ایک ہے اور رمضان المبارک بھی، جھوٹے پر اللہ کی لعنت، ایک ہی نعرہ تھا ہر چھوٹے بڑے کی زبان پر امپورٹڈ حکومت نا منظور۔
یہ جو لوگ تھے؟ ان کو کون لایا؟ اس احتجاج کے لیے؟ کوئی سرکاری گاڑی گئی تھی؟ کوئی بریانی دی گئی؟ کوئی کرایہ دیا گیا تھا؟ تو ان سب کا جواب یہ ہے کہ یہ خود اپنی مرضی سے آئے ہیں۔ اتنا جذبہ میں نے کبھی پہلے نہیں دیکھا اور یقین کے ساتھ کہ سکتا ہوں کہ آپ کبھی اس طرح کے عوام پہلے کبھی نہی دیکھے ہوں گے ۔
اب بات کرتا ہوں کہ پلے کارڈز کس چیز کے بنائے ہوئے تھے؟ یقین مانئیے آپ ان پاکستانیوں کی اپنے لیڈر عمران خان سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے اسی لیے تو انھوں نے کاٹن یعنی سٹوریج باکس پر بینرز بنا کر لائے ہوئے تھے۔ جن پر نعرے درج تھے بلکہ عدلیہ کے ان جج صاحبان کے حوالے سے بھی کلمات لکھے ہوئے تھے میں لکھ نہی رہا کہیں توہین عدالت نہ ہو جائے، ویسے تو گلی محلوں میں ان عدالتوں کا ذکر پیش پیش ہو رہا ہے، عدلیہ بکاؤ کے نعرے، یعنی اوورسیز پاکستانیوں کا عدلیہ پر سے اعتبار ہی اٹھ گیا شاید؟ اسی لیے وہ ججز کی فوٹو وائے بینرز گلی محلے میں نمائش کر رہے تھے، ہاں یہ ملک سے بھاگے ہوئے لوگ نہیں ہیں انھوں نے پاکستان کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے، اپنے وطن کے نعرے لگا رہے تھے پاکستان زندہ باد پاکستان پائندہ باد۔
سفید فارم لوگ اپنے گھروں کی چھتوں سے وڈیو بنا رہے تھے، بلکہ آنے جانے والے رک رک کر پوچھ بھی رہے تھے اور محظوظ بھی ہو رہے تھے اور کچھ نواز شریف کے ہمسائے ناراضگی کا اظہار بھی کر رہے تھے۔ پولیس بے بس تھی، تقریباً تیس کے قریب پولیس کی بڑی وین موقع پر موجود تھیں، پولیس کی بھاری نفری یعنی دو سو کے قریب افسر ایون فیلڈ ہاؤس کے چاروں طرف موجود رہے تاکہ نقصان سے بچا جا سکے اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر پولیس خود پریشان تھی کہ یہ کون سی قوم ہے جو اس جذبے سے باہر نکل آئے ہیں، اور احتجاج کرنے والی عوام بڑے پر سکون طریقے سے اپنا جوش ٹھنڈا کرتے ہوئے آہستہ آہستہ بغیر کسی مداخلت کے ہائیڈ پارک کارنر گراؤنڈ میں شفٹ ہو گئے اور وہاں خوب نعرے لگاتے رہے۔

لیکن پولیس وہاں بھی موجود تھی کیونکہ وہاں پی ٹی آئی کے چند افراد وہاں جواباً پہنچے جو کہ میری نظر میں انتہائی غلط قدم تھا کیونکہ لڑائی ہو سکتی تھی۔ اگر لڑائی ہو جاتی تو شاید پی ٹی آئی کے چند لوگ نقصان اٹھاتے۔ اب اگر ہم تعداد کی بات کریں تو ایک اندازے کے مطابق جتنے پولیس آفیسرز ایون فیلڈ کے باہر عوامی سمندر کو کنٹرول کر رہے تھے جمائمہ کے باہر نون لیگی ان سے بھی کم بتائے گئے ہیں۔ برطانیہ کے مشہور تھنک ٹینک کی ٹیم کا کہنا تھا کہ نون لیگ کے کارکنان اچھا ہوا وہ یہاں نہی تھے۔ اگر وہ یہاں ایون فیلڈ ہوتے تو تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا تھا۔ کیونکہ ہزاروں کے تعداد میں عوام کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
عوام سمندر کی اتنی بڑی تعداد تھی کہ ایون فیلڈ کے پچھلے گیٹ پر بھی اور چاروں اطراف عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر کہنا غلط نہیں ہو گا۔ اور ان سارے حالات کی وڈیو ایک نون لیگی رہنما منہ چھپا کر ماسک پہن کر خفیہ وڈیو بنا رہا تھا تاکہ اپنے لیڈر کو رپورٹ کر سکے۔
جیسا کہ میں نے اوپر ذکر کیا کہ نون لیگ نے بریانی سے اپنے کارکنان کو چارج کیا اور سیوا کی، اور ادھر ایون فیلڈ کے باہر وہ عوام جو بغیر بریانی نعرے مار رہے تھے۔
اس کے علاوہ گلاسگو، مانچسٹر وغیرہ میں بھی بہت بڑے بڑے احتجاج ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ان احتجاج سے ایسے لگ رہا ہے کہ آنے والے دنوں تک نئی حکومت کے لیے مزید پریشانی اور تنگی کا سبب بن سکتا ہے۔ خاص طور پر شریف فیملی کے لیے آنا جانا انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔ شریف خاندان سے تعلق رکھنے والوں کو دیکھتے ہی اوورسیز پاکستانی نعرے کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کوئی بھی غلط عمل کسی بھی سیاسی پارٹیوں کے مفاد میں ٹھیک نہ ہے۔

