ٹچ سکرین جنریشن


خوف ناک بات یہ ہے کہ موجودہ نوجوان نسل کی اکثریت نیم پاگل ہے۔ یہ بچے تخلیقی صلاحیتوں سے عاری، ڈپریشن، خود اعتمادی کی کمی، سستی اور کاہلی، جسمانی اور دماغی کمزوری کا شکار ہیں۔ یہ دماغی اور جسمانی دونوں لحاظ سے سٹنڈ گروتھ ( نامکمل نشوونما ) کا شکار ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جو سن ننانوے یا سن دو ہزار کے آس پاس پیدا ہوئی۔ سن دو ہزار آٹھ میں پوری دنیا میں عالمی مالیاتی بحران آیا تھا۔ جس کے باعث تھرڈ اور فورتھ ورلڈ شدید ترین غذائی قلت کا شکار ہو گئی تھی۔

یاد رکھیئے غذائی قلت کا لفظ آتے ہی اکثریت کے ذہنوں میں قحط کا لفظ آتا ہے جو کہ اس کی انتہائی شکل ہے۔ غذائی قلت خوراک میں انتہائی بنیادی اجزا کی کم یابی یا غیر موجودگی بھی ہو سکتی ہے۔ جو کہ اس عرصے میں ایک معمول بن گئی تھی۔ اس دوران ستر سے اسی فی صد کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل خوراک سے بچوں کا پیٹ بھرا گیا۔ پروٹین، وٹامنز ضروری فیٹی ایسڈز کے تعطل سے بچوں کی نشوونما کو دھچکا لگا اور ان کا ہارمونل سسٹم ڈسٹرب ہو گیا۔

یونیسیف کے مطابق پاکستان میں اس عرصے کے دوران پیدا ہونے والے بچوں کو چھوٹا گوشت (مٹن) فقط سال میں ایک بار عید پر نصیب ہوتا رہا اور یہ سلسلہ ایک بڑی آبادی میں تاحال قائم ہے۔

دوسری بڑی وجہ ٹچ سکرین ہے۔ ماہرین کے مطابق نوزائیدہ اور چار پانچ سال تک کے بچوں کی آنکھوں اور دماغ کو ریڈی ایشن تباہ کر دیتی ہیں۔ بھینگے پن کے نوے فیصد کیسز ان بچوں میں سامنے آئے جن کی مائیں انہیں بہلانے کے لئے موبائل پر پوئم یا کارٹون لگا دیتی تھیں۔ ان بچوں کے دماغ بھی نارمل دماغوں کی نسبت سکڑے ہوئے پائے گئے۔

ایک برابر کی اہم وجہ ان بچوں کا کھیل کود، جسمانی سرگرمیوں سے ناواقف ہونا ہے۔ انہوں نے چھوٹے چھوٹے گھروں میں آنکھ کھولی۔ کھلے آسمان اور تاروں کی چھاؤں میں سونے سے محروم رہ کر دس دس مرلے کے ایک مرغیوں کے ڈربے نما پرائیویٹ سکول میں میٹرک تک بند رہے اور آلودہ پانی اور سموسے پکوڑے کھاتے رہے۔ ان سے پہلے کی نسل کھلے میدانوں اور سایہ دار گھنے درختوں والے سرکاری پرائمری اور ہائی سکولوں میں پروان چڑھی تھی۔ سکول میں تفریح کے اوقات میں بھی جسمانی ورزشیں اور کھیل کود کرتی تھی جبکہ سکول کے بعد شام کو میدانوں اور گلیوں کا رخ کرتی تھی۔

گلی ڈنڈا، کرکٹ اور فٹ بال کھیلی جا رہی ہے۔ پسینے میں شرابور ہیں۔ شام کو مغرب سے پہلے واپس آئے تو کھانا کھا کر سکول کا کام ختم کیا اور گھوڑے بیچ کر سو گئے۔ آٹھ سے دس گھنٹے کی معیاری نیند ان کے حصوں میں آتی تھی۔ اس سے بھی نئی نسل محروم ہوئی۔ کیونکہ یہ وہ وقت تھا کہ جب ملک بھر سے گراؤنڈز تیزی سے ختم ہو رہے تھے۔ اگر کچھ اکا دکا باقی تھے بھی سہی تو ان کی جگہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں نے لے لی تھی۔ پھر حالات بھی ایسے ہوئے کہ والدین نے بھی بچوں کے باہر نکلنے پر پابندی لگا دی۔

اب حال یہ ہے کہ تھوڑی سی افتاد پڑ جائے تو بیمار ہو جاتے ہیں۔ ذرا گرمی میں باہر نکلے تو الٹیاں اور دست لگوا بیٹھتے ہیں۔ قوت مدافعت کا بیڑا غرق ہو چکا ہے۔ نفسیاتی طور پر عجیب و غریب بیماریوں کا شکار ہوئے پھرتے ہیں۔ باتیں اپنی عمر سے بڑی جبکہ کام اپنے سے ادھی عمر والوں جتنا بھی نہیں کر سکتے۔

ان بچوں کو نگہداشت کی اشد ضرورت ہے۔ انہیں دوبارہ جسمانی اور صحت مند سرگرمیوں کی طرف لانا ہے تاکہ یہ معاشرے کے لئے ایک مفید فرد کا کردار ادا کر سکیں۔

سوشل میڈیا بھی دماغ نچوڑنے کا ایک بڑا سبب ہے۔ یہ ڈوپامین ایڈکشن پیدا کرتا ہے جس سے آدمی کو بار بار اس کو دیکھنے کی طلب ہوتی ہیں۔ اس بیماری میں مجھ سمیت ہم سب ان بچوں کے ساتھ شامل ہیں۔ سوشل میڈیا کے آنے سے ہم سب کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بے حد متاثر ہوئی ہے۔ لیکن اس دور میں ہم اس سے مکمل جان نہیں چھڑا سکتے ہیں۔ ہم اتنا ضرور کر سکتے ہیں کہ اس کو پندرہ بیس منٹ روزانہ کے دے سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ نہیں۔ مسلسل دماغ کے مصروف رہنے کے باعث یہ دماغ کی پرابلم سولونگ کیپیسیٹی پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ اتنا کچھ سکھاتا نہیں ہے جتنا ہم سے لے لیتا ہے اور ہمارا نقصان کر دیتا ہے۔

بچوں کے ساتھ ساتھ ہمیں خود بھی صحت مند زندگی کی جانب لوٹنا ہے۔

Facebook Comments HS