میں اس کا نام نہ لوں پھر بھی لوگ پہچانیں


کوچۂ اقتدار سے رسوا ہو کر نکلنے والے عمران خان نے ذوالفقار علی بھٹو اور میاں نواز شریف کی طرح عوام سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ الگ موضوع ہے کہ وہ ان دونوں لیڈروں کی طرح عوامی پذیرائی حاصل کرسکیں گے یا میاں اظہر، محمد خان جونیجو، اصغر خان یا پھر جنرل مشرف کی طرح تاریخ کے کوڑے دان کا رزق بنیں گے؟ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس عوام میں پیش کرنے کے لیے ساڑھے تین سالہ کارکردگی کے نام پر کچھ بھی نہیں۔

اپنے بار بار دہرائے گئے اصولوں کے برعکس مقتدرہ کے تعاون سے اقتدار حاصل کیا، حکومت کی تشکیل کے لیے ”چپڑاسیوں“ اور ”ڈاکووٴں“ کو ساتھ ملایا، حکومت ملنے کے بعد اپوزیشن کو نیب اور دیگر اداروں کے ذریعے بدترین انتقام کا نشانہ بنایا، معیشت کا بھٹہ بٹھایا، بیروزگاری اور مہنگائی میں ہوش ربا اضافہ کیا اور انتشار و خلفشار کو ہوا دی۔ دعویٰ تو امت مسلمہ کے قائد کا کرتے رہے مگر خارجہ محاذ پر اس قدر فاش اور سنگین غلطیاں کیں کہ پاکستان کو بالکل تنہا کر دیا۔

ایک ایسے وقت میں روس کا بے ثمر دورہ کیا، جس سے ہم امریکہ سمیت اپنے قریبی دوستوں کو بھی ناراض کر بیٹھے۔ اوپر سے اپنے ”جوش خطابت“ سے ہر اپنے پرائے کے دل پر کچوکے لگائے۔ اپنے سیاسی اور ”غیر سیاسی“ محسنوں سے بگاڑی، میڈیا کا گلہ دبایا، عدلیہ، نیب اور الیکشن کمیشن سمیت تمام اداروں کو متنازعہ بنا کر انہیں بے توقیر کرنے کی بچگانہ کوشش کی۔

ساڑھے تین سال تک بلا شرکت غیرے حکومت کرنے، ایک پیج کا راگ الاپنے اور سیاہ و سفید کا مالک بنے رہنے کے بعد جب عدم اعتماد کے نتیجے میں اقتدار سے رخصت ہو کر عوام میں جانا پڑا تو ان کے دامن میں کوئی ایک پراجیکٹ بھی ایسا نہیں ہے، جس کو عوام کے روبرو پیش کر کے پذیرائی حاصل کی جا سکے۔ مگر کیونکہ دماغ بہت شاطر اور چالاک پایا اور اس کے علاوہ عوامی نفسیات سے بھی آگاہ ہیں اس لیے امریکی سازش کا چورن دھڑا دھڑ بیچنا شروع کر دیا۔ اس چورن کے بیچنے میں بھی اس قدر منافقت سے کام  لے رہے ہیں کہ خود امریکہ مردہ باد کا نعرہ لگا رہے ہیں اور نہ ان کے حواری یہ خطرہ مول لے رہے ہیں۔ وائٹ ہاوٴس کے سامنے کیے گئے مظاہرے میں بھی مظاہرین کو خاص طور پر ہدایت کی کہ ایسا کوئی نعرہ نہ لگایا جائے۔

عوامی سیاسی شعور اچھا خاصا پختہ ہو چکا ہے مگر اس کے باوجود ناخواندہ اور نیم خواندہ پاکستانیوں میں اب بھی امریکی سازش والا چورن بہت بکتا ہے۔ عمران خان اس عوامی نفسیات سے آگاہ تو ہیں مگر ان کے لیے یہ مسئلہ دو دھاری تلوار ثابت ہو رہا ہے۔ بظاہر تو وہ سازش کا الزام امریکہ پر دھر رہے ہیں مگر پتہ ان کو بھی ہے کہ انہیں حکومت سے نکلوانے والا ”دوست“ ملک کون سا ہے مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ ببانگ دہل اس ملک کا نام نہیں لے سکتے۔ وجہ یہ ہے کہ خواص کے علاوہ عوام بھی اس ملک کو اپنا دیرینہ دوست، مشکل کا ساتھی اور حقیقی مسیحا سمجھتے ہیں۔ اس مہربان ملک کی دوستی کو بیان کرنے کے لیے بھی کچھ تاریخی اور رومانوی استعارے استعمال کیے جاتے ہیں۔

اس لیے عمران خان نے آسان یہ سمجھا کہ وہ سازش کا الزام امریکہ پر لگا کر عوامی جذبات کو مشتعل کر دیں گے کیونکہ ان کے سیاسی پیروکار انہیں ایک سیاسی لیڈر سے زیادہ ایک دیوتا، نجات دہندہ، اوتار، مسیحا، پیر و مرشد اور پتہ نہیں کیا کیا کچھ سمجھتے ہیں۔ مگر یہاں بھی مقطع کی طرح سخن گسترانہ بات یہ آ پڑی ہے کہ عمران خان زیادہ دیر تک عوام کو بے وقوف نہیں بنا سکیں گے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ دنیا جانتی ہے کہ امریکہ کو ہمارا سی پیک ایک آنکھ نہیں بھاتا۔

وہ ہر وقت اس کے راستے میں روڑے اٹکاتا رہتا ہے۔ یہ بھی تلخ سچائی ہے کہ عمران حکومت کے آنے کے بعد سی پیک کا کام سست پڑتے پڑتے تقریباً ختم ہو کر رہ گیا تھا۔ اب واجبی سی عقل رکھنے والا بندہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ جس پاکستانی حکومت نے سی پیک جیسے میگا پروجیکٹ کو ختم کر کے امریکہ کے من کی مراد پوری کی تھی، اسے اگر امریکہ ختم کر کے نون لیگ کی حکومت کے قیام کی راہ ہموار کرے گا تو وہ سیدھا سیدھا اپنے پیروں پر کلہاڑی مارے گا۔

کیونکہ نون لیگ اور سی پیک لازم و ملزوم ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ شہباز شریف نے وزیراعظم بنتے ہی جس منصوبے پر سب سے پہلے ٹاکی شاکی ماری ہے وہ یہی سی پیک ہے۔ یہ بات رفتہ رفتہ پاکستانیوں کے ساتھ پی ٹی آئی کے لوگ بھی سمجھ رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے جلسوں میں لوگوں کی تعداد میں بتدریج کمی آتی جا رہی ہے۔

اس بات کو ایک دوسرے زاویے سے بھی دیکھ لیتے ہیں۔ شہباز شریف کے وزیراعظم بنتے ہی بہت سے پڑوسی ملکوں کے سربراہان نے فون کر کے یا خط لکھ کر انہیں مبارک باد دی ہے، سوائے ایک برادر ”اسلامی“ ملک کے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سی پیک کا ایک بڑا ذیلی پروجیکٹ گوادر کی بندرگاہ بھی ہے، جو پاکستان سمیت خطے کے دیگر ملکوں کے لیے گیم چینجر منصوبہ ہے۔ گوادر کے ساحل کے بالمقابل اسی طرح کی ایک اور بڑی بندرگاہ پر بھی کام جاری ہے، گوادر پروجیکٹ کی تکمیل جس کے لیے موت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اب اس ملک کا سربراہ شہباز شریف کو وزیراعظم بننے پر کیوں مبارک باد دے؟

ادھر عمران خان اور ان کے حواریوں کو نئے الیکشن کی جلدی پڑی ہوئی ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا ہے ان کے امریکی سازش والے بیانیے کے غبارے سے ہوا نکلتی جا رہی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس نے تو عمران کے بیانیے کو تقریباً نیم مردہ کر دیا ہے۔ رہی سہی کسر اس پر نئی حکومت میں بننے والا کمیشن پوری کر لے گا۔ دوسرا خطرہ عمران حکومت کے کرپشن کے میگا سکینڈلز، فارن فنڈنگ کیس اور اس سے جڑے ابراج گروپ کے معاملات اور آف شور کمپنیز ہیں۔

برطانیہ میں گرفتار ہونے والے عمران خان کے دوست عارف نقوی کو بہت جلد امریکہ کے حوالے کر دیا جائے گا اور اس سے عمران خان کے لیے ناگفتہ بہ مشکلات کھڑی ہونے والی ہیں۔ تیسرا خطرہ اس سے بھی بڑا ہے۔ وہ یہ کہ اگر شہباز شریف نئے آرمی چیف کا تقرر کرتے ہیں تو یہ عمران کے لیے سیاسی موت ہے۔ اس لیے وہ بہر صورت چاہتے ہیں کہ جلد از جلد نئے الیکشن ہو جائیں۔

اندریں حالات عمران خان نے حکومت چھن جانے کے بعد جلسے جلوسوں کا سلسلہ تو شروع کیا ہے مگر ان کی زبان اور زبان حال دونوں ایک شکست خوردہ اور خوفزدہ شخص کا پتہ دے رہی ہیں۔ فارن فنڈنگ میں ان کی پارٹی کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور وہ کم از کم تین سال کے لیے اندر ہو سکتے ہیں۔ سر دست ان کے لیے مشکل یہ ہے کہ وہ جذباتی اور رومانوی نعرے تو بہت مار رہے ہیں اور اپنے مقلدین میں امریکی سازش کا چورن بھی خوب بیچ رہے ہیں مگر اصل ”کردار“ کا نام لینے سے کترا رہے ہیں۔ یہاں یہ تلخ حقیقت بھی انہیں مزید خوفزدہ کر رہی ہے کہ یہ وہی عوام ہیں جن میں انہوں نے ساڑھے تین سال قبل تبدیلی اور نئے پاکستان کے خوشنما نعرے بیچے تھے۔ اگر عوام نے نئے نعروں پر کان دھرنے کے بجائے پرانے نعروں کا حساب مانگ لیا تو کیا ہو گا!

Facebook Comments HS