عمران خان کے دور حکومت پر ایک نظر


پاکستان کے بائیسویں وزیراعظم عمران خان نے وطن عزیز پر 3 سال 8 ماہ حکومت کی۔ انہوں نے بطور وزیراعظم بہت سے اچھے، بہت سے برے اور بہت سے کام کیے جبکہ بہت سے کام انہوں نے سرے سے کیے ہی نہیں یا وہ کر نہ پائے۔ خادم ریاست مدینہ کے دعوے دار عمران خان نے اسلام فوبیا کے حوالے سے بہترین اقدامات کیے،

ان کے دور میں پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوا، اوورسیز پاکستانیوں نے ریکارڈ زرمبادلہ بھیجا، پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا گیا، انہوں نے ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لئے بلین ٹری منصوبہ شروع کیا جسے دنیا بھر میں سراہا گیا، عالمی وبا کرونا سے نمٹنے کے لئے ان کی کامیاب حکمت عملی کی وجہ سے پاکستان بڑے جانی و معاشی نقصان سے محفوظ رہا، انہوں نے اقوام متحدہ سمیت عالمی فورمز پر کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کیا، ان کے دور حکومت میں پاکستان میں طویل عرصے کے بعد اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا

ان کی کاوش کی وجہ سے 15 مارچ کو اسلام فوبیا کا دن منایا جائے گا، ان کے مزید بہترین اقدامات میں پناہ گاہیں، صحت کارڈ، ضرورت مند افراد کو ماہانہ بارہ ہزار امداد کا نظام، کامیاب جوان پروگرامز شامل ہیں، انہوں نے اپنے وعدے کے مطابق اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا

دوسری جانب

اپنے دور اقتدار کے دوران وہ اپنے ووٹرز سے کیے گئے ڈیڑھ کروڑ گھروں، اڑھائی کروڑ نوکریوں اور پولیس اور ایجوکیشن ریفارمز سمیت متعدد وعدے پورے نہ کر سکے۔ ان کے دور میں بیرونی قرضوں، ڈالر کے ریٹ اور مہنگائی میں تاریخی اضافہ ہوا، روپے کی قدر گرتی رہی، سیاسی مخالفین پر مقدمات بنتے رہے مگر کسی کا درست احتساب نہ ہوا، وہ کسی سیاستدان سے مبینہ کرپشن کی ایک پائی تک نہ وصول کر پائے۔ ان کے دور میں مودی حکومت نے کشمیر کا خصوصی تشخص ختم کر کہ لاک ڈاؤن نافذ کیے رکھا۔

اپوزیشن نے ان کے خلاف عدم اعتماد پیش کی تو انہوں نے اسے امریکی سازش قرار مگر اپوزیشن نے انہیں عدم اعتماد کے ذریعے حکومت سے برطرف کر دیا گیا، عمران خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہیں جنہیں عدم اعتماد کے ذریعے پارلیمان نے گھر بھیجا۔ انہیں یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ ان کی محبت میں لوگ ملک کے شہر در شہر سے ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک میں مقیم پاکستانی بھی سراپا احتجاج ہوئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، سابق وزیراعظم عمران خان نے تیرہ اپریل کو پشاور سے قبل از وقت انتخابات کرانے کی مہم کا آغاز کرتے ہوئے ملک کے شہر در شہر جاکر عوام سے بات کرنے کا اعلان بھی کیا، اسی سلسلے میں 15 اپریل کو انہوں نے کراچی میں عوامی اجتماع سے خطاب کیا، جس میں جوق در جوق لوگوں نے شرکت کی، یہ سچ ہے کہ کراچی کے شہری عمران خان سے بہت پیار کرتے ہیں جس کا ثبوت 2018 کے انتخابات ہیں جبکہ حالیہ دنوں میں عمران خان کے ساتھ اظہار یکجہتی میں بھی کراچی کسی سے پیچھے نہیں رہا مگر بطور وزیراعظم عمران خان نے کراچی کو کیا دیا؟

عمران خان نے 2018 کے انتخابات سے قبل کراچی کے عوام سے وعدے کیے تھے کہ وہ بزنس کے لئے سازگار ماحول، نوجوانوں کے لئے روزگار کی فراہمی، سرکلر ریلوے کا قیام، نکاسی آب کے نظام میں بہتری، ماحولیات کا تحفظ، کھیلوں کا فروغ، صحت اور تعلیم کے نظام میں بہتری، سستی بجلی کی فراہمی، پولیس کے نظام میں بہتری، مئیر کے لئے براہ راست اور بلدیاتی نظام میں تبدیلی لا کر کراچی والوں کو بہتر زندگی فراہم کریں گے مگر وہ کسی ایک وعدے پر بھی سرے سے عمل نہ کرپائے، تحریک عدم اعتماد کو بیرونی سازش کہنے والے عمران خان نے خود بھی متعدد غلطیاں کیں جسے وہ اپنی کابینہ بہتر نہ بنا پائے اور یہ کہتے نظر آئے کہ جی مجھے ٹیم اچھی نہیں ملی اب یہ شکوہ کس سے تھا یہ تو خان ہی جانے مگر اپنی کابینہ بنانا سراسر ان کا کام تھا جو ان سے نہ ہوسکا، اپنا وزیرخزانہ اس کو بنانا جو انہیں درست طریقے سے بریف نہ کر پاتا تھا اور خان صاحب کو ڈالر کی اڑان کا ٹی وی سے پتہ چلتا تھا، حد یہ ہے کہ ان کی بیگم انہیں یاد دلاتی تھیں کہ خان صاحب آپ ہی وزیراعظم پاکستان ہیں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو کنٹرول کریں، خان صاحب نے اپنی پارٹی میں لوٹوں کی بھرمار جمع کی جس نے وقت پڑنے پر ان کا ذرا ساتھ نہ دیا وہ دغا باز جیسے آئے تھے ویسے ہی چلے گئے یہ ہی صورتحال اتحادیوں کی بھی نظر آئی یہاں میں خان صاحب کو بہت معصوم انسان کہوں گی کیونکہ انہوں نے ایم کیو ایم سے وفا کی امید کی جو اپنے ہی شہر کا اتنی بار سودا کرچکے ہیں کہ اب انہیں یہ یاد ہی نہیں رہا کہ انہوں نے کراچی کو کتنی بار بیچا۔

خان صاحب کہتے ہیں ان کا اقتدار جانے میں کسی بیرون ملک کا ہاتھ ہے چلیں مان لیا مگر مذکورہ بالا کوتاہیوں میں کس کا ہاتھ تھا یہ بھی بتا دیں ذرا، خان صاحب نے اپنے دوستوں کو اپنے سے ناراض کیا تو کیا یہ بھی بیرونی سازش تھی؟ خان صاحب کہتے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ کے کہنے پر الیکشن کمیشن تعینات کیا اور قاضی فائز عیسی کے خلاف فروغ نسیم کے کہنے پر ریفرنس بھیجا، مطلب اپنی کوئی غلطی تسلیم نہیں کرنی یہ اس نے کر دیا وہ اس جبکہ وزیراعظم آپ تھے، سبحان اللہ خان صاحب کے چاہنے والے کہتے ہیں کہ ملٹری اسٹبلشمنٹ نے انہیں برطرف کرایا ہے جبکہ ایسا نہیں ہے بلکہ ان کی مذکورہ بالا حرکات نے ان کے مخالفین کی راہیں سیدھی کی ہیں، خان صاحب کو چاہیں کہ وہ قوم کو بتائیں کہ بردار کس کی ضد رہا جبکہ 4 سالوں کے دوران صوبہ پنجاب میں کوئی تسلی بخش کام بھی نہ ہوا، پاکستان آرمی ایک شخص کا نہیں بلکہ ادارے کا نام ہے آپ نے کیوں یہ سوچ لیا کہ جو آپ کو پسند ہے بس وہی ہو گا یعنی آپ بھی پاک آرمی کو پنجاب پولیس بنانے کے خواہاں تھے؟

فارن پالیسیز عوامی اجتماعات میں ڈسکس نہیں ہوتی ہیں مان لیا آپ پاکستان کو خوددار اور خودمختار بنانا چاہتے ہیں جو کہ اچھی بات ہے مگر جارحانہ انداز اور اندھا دھند فائرنگ میں فرق ہوتا ہے جبکہ آپ نے تو وہ گولا باری کی کہ الامان الحفیظ، ٹھیک ہے آپ نے

Absolutely not

کہہ دیا تھا مگر یوں بار بار عوام سے خطاب کے دوراں ایک ہی راگ الاپنا بھی تو عجیب تھا، پھر آپ کی تقریر کا انداز کبھی بھی وزیراعظم سا نہ رہا آپ ہمیشہ قائد حزب اختلاف نظر آئے، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آپ پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہیں مگر اگر ملک کا دفاع کمزور ہو گا تو آپ یا آپ کے چاہنے والے مادر وطن کی سرحدوں پر دشمن کا مقابلہ نہیں کریں گے بلکہ یہ باوری جوان ہی اس ملک کے لئے آگے آئیں گے جو آج بھی وطن کی سرحدوں کے محافظ ہیں جبکہ آپ کے کامیاب جلسوں کے نازیبا پلے کارڈز اور سوشل میڈیا پر استعمال ہونے والی غلیظ زبان سے دشمن کے لہجے کی بو آتی ہے، خدارا اپنی غلطیوں کا خمیازہ اس ملک کے دفاعی ادارے پر ڈال کر ریاست کو کمزور مت کریں عوام اور فوج کے درمیاں دوریوں کا باعث مت بنیں مان لیا آپ بہت مقبول ترین ہیں اور آپ جیسا ایمان دار کوئی نہیں کیونکہ یہ بات سچ ہے کہ دور حاضر کے حکمرانوں کے ماضی سے پاکستان کا بچہ بچہ واقف ہے جب ہی آپ کے ساتھ کھڑا ہے مگر آپ کے جلسوں اور سوشل میڈیا پر فوج مخالف جو پوسٹس ہو رہی ہیں وہ آپ ہی روک سکتے ہیں، آپ کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ فوری الیکشنز ہونے چاہیں مگر دفاعی ادارے کی تضحیک کسی طور درست نہیں ہے کیونکہ ہم 1971 کے زخمی ہیں ہمیں اور زخم نہیں سہنے۔

پاکستان زندہ باد

Facebook Comments HS