کیا ایم ٹی جے برانڈ بزنس ایمپائر کے سربراہ مولانا طارق جمیل بھی منحرف ہوگئے

اس قسم کا محاورہ ہمارے اکثر سننے میں آتا رہتا ہے ”گرگٹ کی طرح رنگ بدلنا“ ایسا اس بندے کے متعلق بولا جاتا ہے جو موقع کی مناسبت سے اپنا ردعمل اور لفظوں کا چناؤ کرتا ہے تاکہ وہ اپنی شخصیت کے پیڈسٹل کو حالات و واقعات کے ہر فریم میں سجا کر مطلوبہ نتائج حاصل کر سکے اور لوگوں کے بیچ بھی آن بان اور شان برقرار رہے۔ گرگٹ ایک کامن گارڈن لزرڈ ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ خطرے کو بھانپ لینے کے بعد ہر وہ رنگ اختیار کرنے کی کوشش کرتی ہے جو اسے اپنے سامنے موجود خطرے سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکے، اور کہتے ہیں کہ وہ اپنے اس سیلف پروٹیکٹو میکنیزم کی بدولت خود کو بچانے میں اکثر کامیاب رہتی ہے۔
اگر گرگٹ کی رنگ بدلنے والی صلاحیت کو وسیع پیمانے پر دیکھا جائے تو تقریباً ہر شعبہ ہائے زندگی میں ایسے لوگ ضرور پائے جاتے ہیں جو ہوا کا رخ دیکھ کر اپنی ذات کے وسیع تر مفاد میں فیصلہ لینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مگر ہمارے ملک کی سیاسی بساط پر اس قسم کے گرگٹ نما مہروں کی کمی نہیں ہے جو موقع کے مطابق اپنی گر گٹی صلاحیتوں کو استعمال کر کے اپنا حال اور مستقبل سنوارنے میں اکثر کامیاب ہو جاتے ہیں۔ فین کلب کے شہزادے نے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں اور اس سے پہلے کنٹینر والے دورانیے کے دوران ایک ہی رولا اور منشور کا ڈھول پیٹا کہ فین کلب کے پرستاروں کے علاوہ جتنی بھی مخلوق ہے وہ سب کرپٹ مافیا ہیں جن سے نجات دلانے کے لئے امیر المومنین کوشش کریں گے۔
دکھاتا ہے آسماں بھی رنگ کیسے کیسے۔ امیر المومنین کے رخصت ہو جانے کے بعد رجسٹرڈ صادق و امین کی ٹیم کے کھلاڑی ان کا شخصی بھرم توڑنے میں مصروف ہیں۔ سرکار نے بھرے جلسے میں ایک خط لہرا کر یہ بتانے کی کوشش کی کہ امریکہ میرے خلاف سازشوں میں مصروف ہے مگر نیوٹرل امپائر نے واضح کر دیا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اس کے بعد سرکار نے ارشاد فرمایا کہ میں جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر نہیں کرنا چاہتا تھا اور ایسا کرنا بہت بڑی غلطی کے مترادف تھا مگر سرکار کے ہی سابق وزیر قانون فروغ نسیم نے انتہائی بے رخی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریکارڈ کی درستگی کے لیے واضح کر دیا کہ اتنا سنجیدہ نوعیت کا ریفرنس صدر اور وزیراعظم کی مکمل رضا مندی اور منظوری کے بغیر دائر نہیں ہو سکتا اور اس کے متعلق صدر اور وزیراعظم آن بورڈ تھے۔
سرکار نے چار و ناچار اس بات کی آڑ لینے کوشش کی کہ انہیں تین تجاویز من و سلویٰ کی طرح بھیجی گئیں، جن میں تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا، استعفی دینا یا نئے الیکشن کا انعقاد تھا مگر نیوٹرل سرکار نے اس غبارے کی بھی ہوا نکال دی اور واضح کیا گیا کہ یہ تجاویز وزیر اعظم کی طرف سے آفر کی گئی تھیں نا کہ ہماری طرف سے۔ رہی سہی کسر یا بھرم توشہ خانہ اسکینڈل نے توڑ دیا اور صادق و امین کے دعوے دار شہنشاہ محترم نے انتہائی ڈھٹائی سے یہ تک کہہ ڈالا ”میرے تحفے میری مرضی“ جب تحقیق ہوگی تو بہت کچھ نکلے گا مگر صادق و امین کے تنہا اور اکلوتے پرچارک کے منہ سے یہ الفاظ جچتے بالکل نہیں ہیں۔
بقول آپ کے دوسرے ڈاکو ملکی خزانہ لوٹ کر باہر لے گئے، چلو وہ تو رجسٹر چور اور ڈاکو تھے مگر آپ کو کیا کہیں یہ سمجھ نہیں آ رہا ہے؟ کہتے ہیں سر منڈواتے ہی اولے پڑے یا اقتدار چھوڑتے ہی تمام بھرم ٹوٹنے لگے۔ رو رو کر خان صاحب کے حق میں دعا کروانے والے اور اونچی آواز میں صادق و امین کا سرٹیفکیٹ عطا کرنے والے ایم ٹی جے کے سربراہ مولانا طارق جمیل بھی منحرف ہوتے نظر آئے اور اپنے موقف کا اظہار کچھ ان لفظوں میں کر ڈالا ”ریاست مدینہ میں حکمران ایک ایک پیسے کے جواب دہ ہیں، تحائف منصب کو ملتے ہیں ذات کو نہیں۔ ریاست مدینہ میں تحائف بیت المال میں جمع کیے جاتے تھے“ مگر یہاں تو ریاست مدینہ کے صادق و امین شہزادے نے توشہ خانہ پر ہی ہاتھ صاف کر ڈالے اور پچھتاوا قریب سے بھی نہیں گزرا۔ توشے خانے مختلف ممالک کے دیے جانے والے تحائف کی امانت گاہ ہوتے ہیں جسے محبتوں کی آماجگاہ بھی کہا جاتا ہے۔ ان تحائف کی ایک تاریخی اہمیت ہوتی ہے، اس محبت کے میوزیم میں وہ سب تحائف سجا کر رکھے جاتے ہیں جو مختلف وزیراعظم کے ذریعے ریاست کو ملتے ہیں۔
مگر یہاں تو انمول تحائف کو بیچنے سے بھی گریز نہیں کیا گیا۔ کہیں شہزادہ سلمان کی قیمتی گھڑی جو خان صاحب کو بطور تحفہ دی گئی تھی وہ واپس انہی کے پاس تو نہیں چلی گئی یا چلی جائے گی؟ کیونکہ انتہائی مہنگی چیزوں کی بہت لمیٹڈ مارکیٹ ہوتی ہے، شہزادوں اور بادشاہوں کی چیزیں انمول ہوتی ہیں، عام بندے کی کیا مجال کہ وہ خرید سکے۔ اگر یہ گھڑی ادھر ہی
لوٹ گئی جہاں سے آئی تھی تو اس سے بڑی تحفے کی بے وقعتی اور گھٹیا پن کیا ہو گا؟ بار بار یہ باتیں سن کر کان پک چکے ہیں کہ ”میں تو زندگی کی ہر نعمت انجوائے کر چکا تھا مجھے تو کسی بھی چیز کی کمی یا تمنا نہیں تھی اور میں باقی کی زندگی بڑے عیش و آرام کے ساتھ برطانیہ کے فلیٹ میں بسر کر سکتا تھا مگر میں اپنے لئے نہیں بلکہ اپنے عوام کے لئے میدان میں آیا ہوں“ اگر آپ برطانیہ کے فلیٹ میں رہ کر زندگی بسر کر ڈالتے تو ملک کا وزیراعظم بننے کے بعد امیرالمومنین بننے کا خواب ادھورا رہ جاتا اور یہ آپ کے لئے کوئی چھوٹی بات نہ ہوتی۔ خیر ریکارڈ کی درستگی کے لیے کرکٹ کے میدان میں 11 پلیئرز پر حکمرانی کرنے والے کپتان کا دوسرا روپ ساڑھے تین سال کی حکمرانی کی صورت میں 22 کروڑ عوام نے بھی مشاہدہ کر لیا ورنہ تشنگی ہی رہ جاتی۔


Like ever great sir g