بچیاں بوجھ نہیں ہوتیں، ہم انہیں بوجھ بنا دیتے ہیں


وہ گھرانے جو دیندار ہیں ان کے یہاں خواتین شروع سے یہی سمجھایا جاتا ہے کہ جو عورت گھر میں رہے گی، وہ اتنی ہی نیک اور اللہ والی ہے۔ اس لئے ان گھرانوں میں بچیوں کو تھوڑی بہت اسکول کی تعلیم دلا کر مدارس میں بھیج دیا جاتا ہے اور بعض گھرانوں میں تو اسکول بھیجنا ہی بہت معیوب سمجھا جاتا ہے۔ مدرسے میں بھی اس لئے داخل کرا دیا جاتا ہے کہ اب لڑکیوں کی تعلیم پر زور ہے رشتے کے لے بھی لڑکی کا کچھ نہ کچھ پڑھا لکھا ہونا ضروری ہے ورنہ ان کے نزدیک لڑکیوں کو پڑھانے کی کوئی ضرورت ہی نہیں کیوں کہ انہیں کون سا باہر جاکر نوکریاں کرنی ہیں۔ لڑکیوں کی ذہن سازی بھی شروع سے اسی طرح کی جاتی ہے کہ وہ ان سب باتوں پر بخوشی راضی ہو جاتی ہیں۔

اگر کوئی ان سے یا ان کے گھر والوں سے پوچھے کہ اگر انھیں کمانا پڑ گیا تو کیا کریں گی؟ تو ان کا جواب ہوتا ہے کے ہم کیوں کمائیں گے کمانے کی ذمہ داری تو مردوں کی ہے اور اگر سوال کیا جائے کہ خدانخواستہ مرد ہی نہ رہے کمانے کے لئے یا کسی حادثہ کی وجہ سے وہ کمانے کے قابل نہ رہے تو؟ ان کا جواب ہوتا ہے ہم ایسا کیوں سوچیں اللہ تعالیٰ سے اچھی امید رکھنی چاہیے۔ یعنی کہ وہ بے چاری خواتین جن کے مرد فوت ہو گئے یا کسی وجہ سے وہ کما نہیں سکتے تو انہوں نے کیا خود ایسا سوچا تھا یا انہوں نے اللہ سے اچھی امید نہیں رکھی تھی جس کی انھیں سزا ملی؟

میں مدارس کے خلاف نہیں ہوں مدارس کی تعلیم بھی اچھی تعلیم ہے اور دینی سمجھ بوجھ پیدا کرتی ہے لیکن دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کو اس قابل بھی بنائیں کہ وہ برے حالات کا مقابلہ کر سکیں اگر ایسے حالات آئیں کہ کمانے والا کوئی نہ ہو تو وہ دوسروں سے مانگنے کے بجائے خود کما کر اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔

اب پہلے جیسا دور نہیں رہا کہ طلاق یافتہ یا بیوہ ہونے کی صورت میں باپ یا بھائی لڑکی کو اپنی ذمہ داری سمجھتے تھے لیکن اب معاشی طور پر ایک مشکل وقت ہے اب ہر ایک کو اپنی فکر ہے بھائی جو پہلے ہی اپنے بیوی بچوں کا خرچ مشکل سے پورا کرپا رہا ہوتا ہے وہ طلاق یافتہ یا بیوہ بہن کا بوجھ کیسے برداشت کرے گا۔ بھائی تو بھائی میں نے باپوں کو بدلتے دیکھا ہے جب انھیں اپنی مطلقہ یا بیوہ بیٹی کا خرچ اٹھا نا پڑتا ہے تو وہ ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ بیٹی ذلت سے جیتے جی مر جاتی ہے۔

ہمارے نام نہاد دیندار گھرانے اسکولوں اور کالجوں کو اس قابل ہی نہیں سمجھتے کہ ان کی بچیاں وہاں تعلیم حاصل کریں۔ ان کے بقول اسکولوں اور کالجوں کا ماحول اتنا خراب ہے کہ ان کی بچیاں بگڑ جائیں گی۔ اس لے ایسے گھرانوں کی بچیاں اس قابل نہیں ہو پاتی ہیں کہ اپنے لے کچھ کر سکیں۔ انھیں صرف کسی مرد کے پیچھے سر جھکا کر چلنے کی عادت ہوتی ہے۔ شادی سے پہلے باپ یا بھائی کے پیچھے اور شادی کے بعد شوہر کر پیچھے

اور جب یہی بچیاں جن کو غیرت کی وجہ سے تعلیم سے محروم رکھا ہوتا ہے اگر مطلقہ یا بیوہ ہو کر باپ یا بھائی کے گھر آجاتی ہے تو ان کی غیرت پر لگا کر اڑ جاتی ہے جب وہ بچی اپنے اور اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دوسروں سے مدد مانگتی پھرتی ہے۔ پھر ان ہی باپ بھائی کو وہ بوجھ لگنے لگتی ہے۔

جب بھی ایسے گھرانوں میں جہاں عورت کو صرف چار دیواری تک محدود رکھا جاتا ہے ان کا کمانے والا فوت ہو جائے یا کسی حادثہ کی وجہ سے کمانے کے قابل نہ رہے تو ایسی خواتین کے سامنے کئی چیلنجز کے ساتھ ساتھ سب سے بڑا چیلنج باہر کی دنیا کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ اس کو باہر کی دنیا کے بارے میں کچھ معلوم ہی نہیں ہوتا۔ اس کے دل میں ایک خوف ہوتا ہے خاص طور سے وہ کسی مرد سے بات یا ڈیل نہیں کر سکتی۔ بچپن ہی سے اس کے ذہن میں یہ بات بیٹھا دی جاتی ہے کہ وہ عورت ہے اس لے وہ کام نہیں کر سکتی جو مرد کرتے ہیں، کمانا اس کے بس کی بات ہے ہی نہیں۔ وہ حالات سے ہار جاتی ہے خود جدوجہد کر نے کی بنسبت اس کے لے دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانا آسان ہو تا ہے۔

مجھے میری ایک کولیگ نے بتایا کے ان کی کوئی جاننے والی ہیں بہت دیندار ہیں بہت چھوٹی عمر سے ہی انھوں نے باہر کی دنیا نہیں دیکھی، لوگ ان سے دم وغیرہ کرواتے ہیں، پھر کولیگ نے باتوں باتوں میں یہ بھی بتایا کہ وہ لوگوں سے مالی مدد کا مطالبہ بھی کرتی ہیں۔ میرے نزدیک وہ زیادہ قابل احترام جب ہوتیں جب وہ چاہے تھوڑی بہت ہی دیندار ہوتی لیکن خوددار ہوتیں انھیں اپنی ضروریات کے لے دوسروں سے مانگنا نہ پڑتا، وہ خود کما کر اپنی ضرورتیں پوری کر سکتیں۔

لوگ کہتے ہیں کے بچیاں بوجھ ہوتی ہیں یا بعض لوگ کہتے تو نہیں ہیں لیکن ان کا رویہ اپنی بچیوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ لیکن اصل بات یہ ہے کے بچیاں بوجھ نہیں ہوتیں لیکن ہم انہیں بوجھ بنا دیتے ہیں۔ جب بچیاں اپنا بوجھ خود اٹھانے کے قابل ہوں گی تو وہ کسی پر بوجھ کیسے بنیں گیں؟ بلکہ ضرورت پڑنے پر وہ اپنے باپ یا شوہر کا بوجھ بھی بانٹ لیں گی۔ حالات چاہے جیسے بھی ہوں وہ ایک عزت کی زندگی گزاریں گی۔ اپنی بچیوں کو ہر حالات کے لے تیار کریں کیوں کے یہ دنیا ہے یہاں کسی کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

Facebook Comments HS