عمرانی حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ
بے نظیر انکم سپورٹ کا ادارہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی کاوشوں سے پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں 2008 میں قائم ہوا تھا۔ اس ادارے کے پاس پاکستان کے غریب ترین غریب خاندانوں کا سب سے بڑا ڈیٹا بیس ہے جس کا حصول گھر گھر جا کر سروے سے کیا گیا۔ یہ اس سطح پر پاکستان کا پہلا اور واحد فلاحی ادارہ ہے۔ کم و بیش 24 ہزار ملازمین اس وقت ادارے میں اپنی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ اس کا سالانہ بجٹ تقریباً 120 ارب روپے ہے۔ 2016 تک اس ادارے سے 3 کروڑ کے قریب لوگ مستفید ہو چکے تھے۔
2013 میں حکومت تبدیل ہوئی۔ نون لیگ آئی مگر یہ ادارہ اپنے اسی معیار اور اسی نام یعنی ’بے نظیر انکم سپورٹ‘ کے ساتھ اپنا کام بخوبی انجام دیتا رہا۔
2018 میں ایک دفعہ پھر حکومت تبدیل ہوئی۔ مگر بدقسمتی سے اس دفعہ حکومت نا اہلوں کے ہاتھ لگ گئی۔ جن میں خود تو کچھ نیا کرنے یا اپنی طرف سے کوئی بھلائی کا کام کرنے کی نہ تو صلاحیت تھی، نہ ہی اتنا ظرف تھا اور نہ ہی خدمت خلق کا وہ جذبہ تھا جو گزشتہ حکومتوں میں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی حد تک موجود رہا ہے اور جس کے اثرات بھی دکھائی دیتے رہے ہیں۔ تھا تو بس تحریک انصاف کا نام۔ اور اس انصاف کے نام پر اس حاسد، فاسق اور بغضی حکومت نے گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں ایک کام بڑی لگن اور تسلسل کے ساتھ کیا۔
وہ یہ کہ گزشتہ حکومتوں کے منصوبوں اور کارہائے نمایاں پر بڑی خاموشی، چالاکی اور عیاری کے ساتھ اپنا نام چسپاں کرنا۔ اپنی دانست میں تو یہ حکومت اس مشن میں کامیاب رہی کیونکہ ان کی محدود اور چھوٹی سوچ کے مطابق کچھ نیا کرنے کی بجائے پرانے مکمل شدہ منصوبوں پر مٹی ڈالنے یا نام تبدیل کرنے سے عوام کے دلوں میں جگہ بنائی جا سکتی تھی۔ اور ایک مخصوص طبقے میں یہ حکومت اپنی جگہ بنانے میں کامیاب بھی رہی۔ اور یہ مخصوص طبقہ سوشل میڈیا پر گزشتہ ساڑھے تین سالوں سے انہی بے بنیاد منصوبوں کو بنیاد بنا کر داد و تحسین کے نام پر طنز و تنقید کے کلمات سمیٹ رہا ہے۔
میں زیادہ تفصیل میں جائے بغیر ایک ادارے کی مثال سے اپنی بات کی وضاحت کروں گا جس کا میں درج بالا ذکر کر چکا ہوں اور جس سے میں قریباً گزشتہ ایک سال سے بحیثیت ملازمت وابستہ بھی ہوں۔
جس سطح کا یہ ادارہ ہے اور جتنے لوگ اس سے وابستہ ہیں۔ یہ رات و رات تو اس ادارے کو اپنا نام دینے سے رہے۔ اس لیے بڑی منصوبہ بندی، چالاکی اور خاموشی سے بغیر کوئی ڈھنڈورا پیٹے ایک نام اس میں ضم کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ ظاہر یہ کیا جاتا رہا کہ ’احساس کفالت پروگرام‘ ایک نیا قائم شدہ ادارہ ہے اور جسے ’بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام‘ میں ضم کیا جا رہا ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔ اس ادارے کی اصل شناخت اور پہچان کو پس پشت ڈال کر درحقیقت اسے ایک نئے نام یعنی احساس کفالت پروگرام سے منسوب کرنے کی سازش ہوتی رہی۔ اس کی باقاعدہ تشہیر بھی کی جاتی رہی۔ لوگوں کو یہ یقین دلایا جاتا رہا کہ یہ عمران خان والے پیسے ہیں اور وہ بیچارے اور ناسمجھ یہ سمجھ بیٹھے کہ عمران نیازی ان کے لیے واقعی مسیحا بن کر آیا ہے اور اس سے پہلے آج تک کسی نے یہ بھلائی کا کام نہیں کیا۔
گزشتہ دس گیارہ مہینوں سے جب سے میں اس ادارے سے وابستہ ہوا ہوں تب سے اب تک یہ ڈھونگ دیکھتا رہا اور دل کڑھتا تھا یہ سب دیکھ کر مگر اپنی طرف سے لوگوں کو یہ سچ باور کراتا رہا کہ جس ادارے سے ان کو امداد مل رہی ہے وہ موجودہ حکومت کا کوئی نیا قائم شدہ ادارہ نہیں ہے بلکہ وہ ادارہ ہے جس کی بنیاد محترمہ بینظیر بھٹو شہید رکھ کر گئی تھیں۔ مگر آج کچھ ایسا ہوا کہ ایک تو دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا اور یہ کہ میں قلم اٹھانے پر مجبور ہو گیا کہ میں وہ سب باتیں لکھ ڈالوں جو میں کچھ عرصے سے کہنا چاہ رہا ہوں۔
ہمارے ادارے کا ایک ’ویب پورٹل‘ ہے جس پر ہم لوگوں کے شناختی کارڈ نمبر کے ذریعے ان کے خاندان کی اہلیت کا تعین کرتے ہیں۔ اس ویب سائٹ پر اوپر دائیں طرف ایک لوگو ہے جس پر پہلے ’احساس کفالت پروگرام‘ لکھا ہوتا تھا۔ آج میرے کولیگ نے میری توجہ دلائی کہ وہ لوگو تبدیل ہو چکا تھا اور اب اس پر ’بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام‘ لکھا تھا۔ یقیناً آج ہی یہ اپڈیٹ ہوئی ہو گی۔
بہت تسکین ملی یہ دیکھ کر کہ جھوٹ واقعی ہمیشہ نہیں رہتا۔ ایک نہ ایک دن اسے سچ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑتے ہیں۔ کتنی کوشش کی اس حکومت نے اس ادارے کی پہچان اور نام کو پس پشت ڈال کر اسے اپنا نام دینے کی مگر انہیں منہ کی کھانی پڑی۔


