حادثات: لاہور لہور نہ رہا


21 اپریل علامہ اقبال کی برسی ہے۔ اس بابت ایک تاریخی دن ہے اور آپ کو سوشل میڈیا کی وساطت سے علامہ اقبال کے ڈھیروں اشعار سننے اور پڑھنے کو مل رہے ہیں۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں نوجوانوں کو اپنا موضوع بنایا۔ انہیں معاشرے اور امت کے لیے بہترین فرد بننے پر زور دیا۔ نوجوانوں کو خودداری کا سبق دیا۔

لیکن جب آج کے ہی دن میرے عزیزم ناصر محمود شیخ نے لاہور سے حادثات کا ریکارڈ لے کر اعداد و شمار اپنی فیس بک وال پر آویزاں کیے تو یقین مانیے کہ ایک لمحے علامہ اقبال کے شاہینوں کی بجائے سڑکوں پر شتر بے مہار کی طرح، تمام تر احتیاط کو بالائے طاق رکھنے والے آج کے نوجوانوں کی بابت روح فرسا خبریں ملیں۔ جس نے دل کو رنجیدہ کر دیا۔

کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارہ

”رمضان کے مہینے میں تخت لاہور کی جاری جنگ میں کوئی ممبر اسمبلی یا سرکاری افسر تو جان سے نہیں گیا لیکن ریسکیو 1122 کے ریکارڈ کے مطابق اس مقدس ماہ رمضان کے 20 دن لاہور میں ہونے والے کل 5187 روڈ ایکسیڈنٹس میں 3629 موٹرسائیکل اور 340 رکشوں کے تھے 5358 زخمی جن میں 806 خواتین 774 پیدل چلنے والے تھے۔ 26 لاہوریوں کی ریڑھ کی ہڈی متاثر۔ 928 زندہ دلان کے ہاتھ پاؤں سر کی ہڈیاں فریکچر ہوئیں اور 29 افراد دنیا سے چلے گئے۔

ہمارا سوہنا لاہور ہر دن لہو لہان ہو رہا ہے مجال ہے کسی کے کان پر جوں تک رینگی ہو میری درخواست ہے ارباب اختیار۔ صحافیوں۔ کالم نگاروں۔ ممبران اسمبلی سے اس بارے قلم اور آواز اٹھائیں سوشل میڈیا کے دوست شبیر کر کے اس بھلائی کے پیغام کو پھیلا کر اپنا حق ادا کریں آخر کب تک لاہور پنجاب بھر میں ہونے والے ٹریفک حادثات میں سر فہرست رہے گا

لاہور میں 5187 ٹریفک حادثات کے مقابلے میں راولپنڈی جیسے بڑے شہر میں 798 حادثات ہیں ٹریفک پولیس لاہور نے جرمانے کرنے کا نیا ریکارڈ بنایا ہے۔ ”

کسی کو پیش آنے والا ایک حادثہ، اس کے پورے خاندان کے لئے پریشانی کا سبب بنتا ہے۔
کیا آپ اور میں سڑک پر آنے کے بعد اپنے حواس قابو میں رکھ سکتے ہیں؟

تھوڑی دیر کا سفر ہوتا ہے وہ تھوڑی دیر ہی ہم نے اپنی سپیڈ کو کنٹرول میں رکھ کر چلنا ہے اس سے نہ صرف ہم محفوظ رہیں گے بلکہ ہمارے گھر والے بھی بے وقت کی پریشانیوں سے بچے رہیں گے۔

اور ہاں یہ جو گھر والے اپنے بچوں کو دودھ، دہی لینے بھیجتے ہیں اور بچے کے دروازہ چھوڑنے سے قبل اونچی آواز میں کہتے ہیں ناں ”بیٹا جلدی آنا“ یا پھر ”پتر چھیتی آئیں“ بس یہ ایک جملہ بھی ہمارے بچوں کو سپیڈ کے گھوڑے پر بٹھا دیتا۔

یاد رکھیے!
آپ کی سواری انڈرائیڈ یا 4 G والا موبائل نہیں کہ اسے تیز ہی چلنا ہے۔
کاش کوئی حکومت ایک ایسا قانون پاس کر دے کہ موٹر سائیکل صرف دو گیئر والے بنا کریں۔
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

Facebook Comments HS