حضرت علیؓ کا گورنر مصر کو خط: جدید فلاحی ریاست کے خدوخال


نبی کریم ﷺ سمیت خلفا راشدین کبھی عرب سے باہر ایران اور روم کی طرف اس نقطہ نظر سے نہیں گئے کہ وہاں کے نظام کا مشاہدہ کر سکیں اس کے باوجود وقتی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک بہترین سیاسی بندوبست کھڑا کرنا بلاشبہ ایک انسانی عقل کی معراج ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اس اعتبار سے منفرد شخصیت کے حامل ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ ساتھ خلفا راشدین کے دور کا بغور مشاہدہ کیا۔

حضرت عثمان (رض) کی شہادت کے بعد مسند خلافت آپ کے پاس آئی تو یہ سیاسی ابتری کا دور تھا۔ آپ کی خلافت کو شام میں ایک لمبے عرصے سے حکومت کرنے والے گورنر امیر معاویہ نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس کے باوجود آپ نے اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں جو گورنروں کو احکامات ارسال کیے وہ آج بھی فلاحی ریاست کے قیام کے لیے بہترین مشعل راہ ہیں۔

مصر میں محمد بن ابی بکر کے بعد مالک بن اشتر کو ایک طویل خط لکھا جس میں گورنس کے حوالے سے کئی نصحیتیں کیں۔ آپ نے اس میں گورننس کے ہر گوشے کو ایڈریس کیا گیا ہے۔ آپ کا یہ خط شامل نصاب ہونا چاہیے۔

آپ نے گورنر مصر کو اس ملک سے خراج جمع کرنے، اس کے دشمنوں سے لڑنے، اس کے باشندوں کی بہبود کا خیال رکھنے اور اس کی زمین کو آباد کرنے پر مامور کیا تو انہوں نے مالک اشتر کو تقویٰ الٰہی، اطاعت خداوندی کو مقدم رکھنے اور کتاب اللہ کے مقرر کیے ہوئے فرائض و سنن کی پیروی کا حکم دیا۔ آدمی کی سعادت انہی کی پیروی سے وابستہ ہے اور ان سے انکار کرنے اور انہیں گنوا دینے میں سراسر بدبختی ہے۔ انہوں نے حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت میں اپنے دل سے، اپنے ہاتھ سے، اپنی زبان سے سر گرم رہے، کیونکہ خدائے بزرگ و برتر نے ذمہ لے لیا ہے کہ جو کوئی اس کی نصرت و تائید پر کھڑا ہو گا، نصرت و تائید خداوندی اسے حاصل رہے گی۔ آپؓ نے حکم دیا کہ خواہشوں کے موقع پر اپنے نفس کو توڑے، سر کشی کے وقت اسے روکے، کیونکہ نفس برائی کی طرف لے جاتا ہے، مگر یہ کہ خدا کا رحم آدمی کے شامل حال ہو جائے۔

مصر کی اہمیت:حضرت علیؓ نے فرمایا: ”اے مالک سن! میں تجھے ایسے ملک میں بھیج رہا ہوں جس پر تجھ سے پہلے بھی حکومتیں گزر چکی ہیں۔ عادل بھی اور ظالم بھی۔ لوگ تیری حکومت کو بھی اسی نظر سے دیکھیں گے، جس نظر سے تو اگلے حاکموں کی حکومتوں کو دیکھتا رہا ہے۔ اور تیرے حق میں بھی وہی کہا جائے گا جو تو ان حکومتوں کے حق میں کہا کرتا تھا۔“

حاکم کے اخلاق: ”تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ نیک آدمی اس آواز سے پہچانا جاتا ہے جو خدا اپنے بندوں کی زبان پر اس کے لئے جاری کر دیتا ہے۔ لہٰذا تیرا دل پسند ذخیرہ عمل صالح کا ذخیرہ ہو۔ یہ ذخیرہ اسی طرح حاصل ہو سکتا ہے کہ تجھے اپنی خواہشوں پر قابو حاصل ہو۔ جو چیز حلال نہیں ہے۔ اس کے لئے تیرا دل کتنا ہی مچلے، اپنے آپ کو اس سے دور رکھ۔ یہ بھی جان لو کہ محبوبات و مکروہات میں نفس کی مخالفت کرنا ہی نفس سے انصاف کرنا ہے۔

اپنے دل میں رعایا کے لئے رحم، محبت اور لطف پیدا کرنا۔ خبردار! رعایا کے حق میں پھاڑ کھانے والا درندہ نہ بن جانا کہ اسے لقمہ بنا ڈالنے ہی میں تجھے اپنی کامیابی دکھائی دے۔ رعایا میں دو قسم کے آدمی ہوں گے، تمہارے دینی بھائی یا مخلوق خدا ہونے کے لحاظ سے تمہارے جیسے آدمی۔ لوگوں سے غلطیاں تو ہوتی ہی ہیں، جان بوجھ کے یا بھولے چوکے سے ٹھوکریں کھاتے ہی رہتے ہیں۔ تم اپنے عفو و کرم کا دامن خطا کاروں کے لئے اس طرح پھیلا دینا، جس طرح تمہاری آرزو ہے کہ خدا تمہاری خطاؤں کے لئے اپنے دامن عفو و کرم کو پھیلا دے۔

یہ کبھی نہ بھولنا کہ تم رعایا کے افسر ہو، خلیفہ تمہارا افسر ہے اور خدا خلیفہ کے اوپر حاکم ہے۔ خلیفہ نے تمہیں گورنر بنایا اور مصر کی ترقی و اصلاح کی ذمہ داری تمہیں سونپ دی ہے۔ خدا سے لڑائی مول نہ لینا، کیونکہ آدمی کے لئے خدا سے کوئی بچاؤ نہیں۔ خدا کے عفو و رحمت سے تم کبھی بھی بے نیاز نہیں ہو سکتے۔ عفو پر کبھی نادم نہ ہونا۔ سزا دینے پر کبھی شیخی نہ بگھارنا۔ غصہ آتے ہی دوڑ نہ پڑتا، بلکہ جہاں تک ممکن ہو، غصے سے بچنا اور غصے کو پی جانا۔

خبر دار! رعایا سے کبھی نہ کہنا کہ میں تمہارا حاکم بنا دیا گیا ہوں! اور اب میں ہی سب کچھ ہوں، سب کو میری تابعداری کرنی چاہیے۔ اس ذہنیت سے دل میں فساد پیدا ہوتا ہے، دین میں کمزوری آتی ہے اور بربادی کے لئے بلاوا آتا ہے اور اگر حکومت کی وجہ سے غرور پیدا ہونے لگے تو سب سے بڑے بادشاہ خدا کی طرف دیکھنا جو تمہارے اوپر ہے اور تم پر وہ قدرت رکھتا ہے، جو تم خود اپنے آپ پربھی نہیں رکھتے۔ ایسا کرو گے تو نفس کی طغیانی کم ہو جائے گی، حدت گھٹ جائے گی اور بھٹکی ہوئی روح لوٹ آئے گی۔

حاکم کا تکبر سے اجتناب کرنا: خبردار! خدا کے ساتھ اس کی عظمت میں بازی نہ لگانا۔ اس کی جبروت میں شبہ اختیار نہ کرنا، کیونکہ خدا جباروں کو ذلیل کر ڈالتا ہے اور مغروروں کو نیچا دکھا دیتا ہے۔ اپنی ذات کے معاملے میں اپنے خاص عزیزوں کے معاملے میں، جنہیں تم اپنی رعایا سے زیادہ چاہتے ہو، خدا سے بھی انصاف کرنا اور خدا کے بندوں سے بھی انصاف کرنا یہ نہیں کرو گے تو ظلم کرنے لگو گے۔

”یاد رکھو جو کوئی خدا کے بندوں پر ظلم کرتا ہے تو خدا خود اپنے مظلوم بندوں کی طرف سے ظالم کا حریف بن جاتا ہے اور معلوم ہے خدا جس کا حریف بن جائے، اس کی حجت باطل ہو جاتی ہے، وہ خدا سے لڑائی ٹھاننے کا مجرم ہوتا ہے، یہاں تک کہ باز آ جائے اور توبہ کر لے۔ خدا کی نعمت کو اس سے بڑھ کر بدلنے والی اور خدا کی عقوبت کو اس سے زیادہ ہلانے والی کوئی چیز نہیں کہ آدمی ظلم کو اختیار کر لے۔ یاد رہے خدا مظلوموں کی سنتا اور ظالموں کی تاک میں رہتا ہے۔

تمہیں سب سے زیادہ پسند وہ راہ ہونی چاہیے، جو حق کے لحاظ سے سب سے زیادہ درمیانی، انصاف کی رو سے سب سے زیادہ رضا مند کرنے والی ہو۔ یہ بھی یاد رکھو، عوام کی ناراضگی خواص کی رضا مندی کو بہا لے جاتی ہے اور خواص کی ناراضگی عوام کی ناراضگی کے ہوتے ہوئے گوارا کر لی جاتی ہے۔ ”“ یہ بھی یاد رکھو کہ خوشحالی میں جو لوگ حاکم کے لئے سب سے کم بوجھ سب سے کار آمد، انصاف سے کھانے والے، مانگنے میں اصرار کرنے والے، بخشش و عطا کے موقع پر کم سے کم شکر گزار ہونے والے، انعام و اکرام سے محرومی پر عذر نہ سننے والے اور زمانے کی کروٹوں کے مقابلے میں سب سے کم ثابت قدم رہنے والے خواص ہی ہوتے ہیں۔

دین کا اصلی ستون مسلمانوں کی اصل جمعیت، دشمن کے مقابلے میں اصلی طاقت، امت کے عوام ہیں، لہٰذا تمہیں عوام ہی کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔ تمہاری مجلس سے سب سے زیادہ دور اور تمہاری نگاہ میں سب سے زیادہ مکر وہ وہ شخص ہونا چاہیے جو لوگوں کے عیب ڈھونڈا کرتا ہے۔ لوگوں میں عیب تو ہوتے ہی ہیں، یہ کام حاکم کا ہے کہ ان کے عیب ڈھکے۔ خبردار چھپے ہوئے عیبوں کی کرید نہ کر نا۔ تمہارا منصب بس یہ ہے کہ جو عیب چھپے ہوئے ہیں، ان کا فیصلہ خدا پر چھوڑ دو، حتی المقدور لوگوں کے ڈھکے کو ڈھکا ہی رہنے دینا۔ ایسا کرو گے تو خدا بھی تمہارے وہ عیب ڈھکے رہنے دے گا، جو تم رعایا سے چھپانا چاہتے ہو۔

وہ سب اسباب دور کر دینا جو لوگوں میں بغض و کینہ پیدا کرتے ہیں، عداوت و غیبت کی ہر رسی کاٹ ڈالنا۔ خبردار! چغل خور کی بات ماننے میں جلدی نہ کرنا، کیونکہ چغل خور دغا باز ہوتا ہے۔ وہ خیر خواہ کا روپ بھر کر سامنے آتا ہے۔ اپنے مشورے میں بخیل کو شریک نہ کرنا، کیونکہ وہ تمہیں احسان کرنے سے روکے گا اور فقر سے ڈرائے گا۔ بزدل کو بھی صلاح میں شریک نہ کرنا، کیونکہ مہمات میں تمہاری ہمت کمزور کر دے گا۔ حریص کو بھی شریک نہ کرنا، کیونکہ ظلم کی راہ سے دولت سمیٹنے کی ترغیب دے گا۔

یاد رکھو بخل، بزدلی، حرص اگرچہ الگ الگ خصلتیں ہیں، مگر ان کی بنیاد خدا سے سوئے ظن پر ہے۔ بدترین وزیر وہ ہے جو شریروں کی طرف داری کرے اور گناہوں میں ان کا ساجھی ہو۔ ایسے آدمی کو اپنا وزیر نہ بنانا، کیونکہ اس قسم کے لوگ گناہ گاروں کے مدد گار اور ظالموں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ ان کی جگہ تمہیں ایسے آدمی مل جائیں گے جو عقل و تدبر میں ان کے برابر ہوں گے، مگر گناہوں سے ان کی طرح لدے نہیں ہوں گے، نہ کسی ظالم کی اس کے ظلم میں مدد کی ہو گی، نہ کسی گناہ گار کا اس کے گناہ میں ساتھ دیا ہو گا۔ یہ لوگ تمہیں کم تکلیف دیں گے۔ تمہارے بہترین مددگار ثابت ہوں گے، تم سے پوری ہمدردی رکھیں گے اور غیر سے اپنے سب رشتے کاٹ لیں گے۔ ایسے ہی لوگوں کو نجی صحبتوں اور عام درباروں میں اپنا مصاحب بنانا۔

یہ بھی یاد رہے کہ خاص الخاص لوگوں میں بھی وہی تمہاری نگاہ میں سب سے زیادہ مقبول ہوں، جو زیادہ سے زیادہ کڑوی بات تم سے کہہ سکتے ہوں اور ان کاموں میں تمہارا ساتھ دینے سے انکار کر سکتے ہوں، جو خدا اپنے بندوں کے لئے نا پسند فرما چکا ہے۔ اہل تقویٰ و صدق کو اپنا مصاحب بنانا، انہیں ایسی تربیت دینا کہ تمہاری جھوٹی تعریف کبھی نہ کریں، کیونکہ تعریف کی بھرمار سے آدمی میں غرور پیدا ہوتا ہے اور تمہارے سامنے نیکوکار اور خطا کار برابر نہ ہوں۔

ایسا کرنے سے نیکوں کی ہمت پست ہو جائے گی اور خطاکار اور بھی شوخ ہو جائیں گے۔ ہر آدمی کو وہ جگہ دینا، جس کا وہ اپنے عمل کے لحاظ سے مستحق ہے۔ تمہیں جاننا چاہیے کہ رعایا میں اپنے حاکم کے ساتھ حسن ظن اس طرح پیدا ہوتا ہے کہ حاکم رعایا پر رحم و کرم کی بارش کرتا رہے، اس کی تکلیفیں دور کرے اور کوئی ایسا مطالبہ نہ کرے جو اس کے بس سے باہر ہو۔ یہ اصول تمہارے لئے کافی ہے، اس سے رعایا کا حسن ظن تمہیں بہت سی مشکلوں سے بچا دے گا۔

خود تمہارے حسن ظن کے سب سے زیادہ مستحق وہ ہوں جو تمہارے امتحان میں سب سے اچھے اتریں۔ اسی طرح تمہارے سوئے ظن کے بھی سب سے زیادہ مستحق وہی ہوں، جو آزمائش میں سب سے برے نکلیں۔ کسی اچھے دستور کو نہ توڑنا جو اس امت کے اگلے لوگ جاری کر گئے ہیں اور جس سے لوگوں میں اتحاد پیدا ہوتا ہے، رعایا کی بھلائی ہوتی ہے اور توڑو گے تو اچھے دستوروں کا ثواب اگلوں کے لئے باقی رہے گا اور عذاب تمہارے حصے میں آئے گا کہ بھلی راہ تم نے مٹا دی۔ اس بارے میں اہل علم و عرفان سے مشورہ کرتے رہنا کہ تعمیر و اصلاح کے وسائل کیا ہیں اور انہیں کس طرح استحکام و دوام بخشا جائے۔

(جاری ہے )


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments