شعور یا نرگسیت ؟ ھمارا المیہ

موجودہ سیاسی بحران اور عوام کی مسائل پر گفتگو۔ جب لوگ اتنے ہی علمی، فکری اور فطین ہیں تو ہمارے مسائل حل کیوں نہیں ہوتے؟ کہنے کو تو ہر کوئی اپنے آپ کو شعور کی اعلی منزل پر سمجھتا ہے مگر۔ کیا یہ واقعی شعور بھی ہے کہ نرگسیت؟ اس کو سمجھنا بھت ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم حقائق کو مدنظر رکھ کر سوچتے ہیں یا کہ پھر ذاتیات اور مفادات کے تحت ہمارا شعور کام کرتا ہے؟ ڈاکٹر مبارک علی تاریخ دان لکھتے ہیں کہ جب سماج مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہوتا ہے، تو وہ ماضی پرست بن جاتا ہے اور احیائے ماضی کی عملی جد و جہد کرنے لگتا ہے۔
ہمارا المیہ ہے کہ ہم مسائل کو ابھی تک سمجھنے سے قاصر ہیں۔ تاریخ کبھی پلٹ کر سفر نہیں کرتی۔ احیائے ماضی میں سماج اپنے پرانے کارناموں کی بدولت زندہ رہنے کی کوشش ہی نہیں بلکہ مدہوش رہتا ہے۔ ایسی صورتحال کو ہم شعور سے تعبیر کر سکتے ہیں؟ تو جواب ہو گا ہرگز نہیں۔ نرگسیت، خودپسندی یا پھر خوش فہمی، یہ کیوں اور کیسے پیدا ہوتی ہیں؟ بہترین مشورہ تو یہ ہی ہے کہ مبارک حیدر کی کتاب تہذیب نرگسیت کو پڑھا جائے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ ہمارا سماج ہر گزرتے دن زوال کا شکار ہو رہا ہے۔ محبت، دانش، علم و فکر کی جگہ نفرت، بے حسی، آندھی تقلید اور تشدد بڑھ رہا ہے۔ اس کی کہیں اور بھی وجوہات ہو سکتیں ہیں پر یہاں بات زیر بحث ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر نرگسیت کا شکار ہو گئے ہیں۔
ہمارے ہاں نرگسیت کا دور انگریزوں کی آمد سے شروع ہوتا ہے۔ جب ناکامیوں، کوتاہیوں اور حقائق کو رد کرتے ہوئے اقتدار کو ہی سب کچھ سمجھا گیا۔ احساس مظلومیت، محرومیوں کو مذہبی سانچے میں دیکھا گیا۔ مسلمان حکمرانوں کی نا اہلی کو شخصیت پرستی اور مسیحائی انداز دیا گیا۔ صدیوں سے سیاسی اجارا داری میں لت، مسلمان اقتدار سے الگ ہوتے ہی احساس کمتری کا شکار ہو کر، احیائے ماضی کا مذہبی بیانیہ بننے لگی، اور نرگسیت کا شکار ہو گئے۔
ایسے موقعوں پر حقائق کو مدنظر رکھ کر علمی اور فکری تحریک کا آغاز ہوتا۔ سر سید نے کوشش تو کی مگر مذہبی احیائے کا بیانیہ اس حد تک سرایت کر چکا تھا کہ علی گڑھ جیسی فکری، علمی اور سیاسی تحریک اور بعد کا پورا سیاسی منظر نامہ اس نرگسیت کو اپنانے میں مجبور ہو گیا یہاں تک کہ قائد اعظم جیسے سیاسی لیڈر متنازعہ بن گئے۔
دو قومی نظریہ جو شناخت، آزادی اور حقوق کا علم بردار ہونا تھا، نرگسیت کی وجہ سے نفرت، تعصب اور انتشار کا باعث بن گیا۔ میں ہرگز نہیں کہنا چاہتا کہ دو قومی نظریہ غلط تھا مگر وقت کی اشرافیہ نے دانستہ یا نادانستہ طور پر سیاسی عمل کو نرگسیت اور شخصیت پرستی کا شکار بنا دیا۔ پاکستان کے قیام اور تاریخ اپنی جگہ مگر قیام پاکستان نے اس نرگسیت کے بیانیہ کو مزید تقویت دی۔ جاگیردار سماج میں جیسے مزارعہ کو نرگسی بنا کر جاگیر دار اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے اور مزارعہ اس کو شعور سمجھتا ہے بالکل اسی طرح اس وقت کی اشرافیہ کے لیے یہ نرگسیت فوائد مند ثابت ہوئی۔
موجودہ دور میں جہاں تعلیم کی شرح 70 فیصد سے تجاوز ہے اور، عوام جمہوریت، مساوات، انصاف اور بنیادی حقوق سے بے خبر۔ وہاں اسلام کا قلعہ، عظیم قوم، رمضان المبارک میں ریاست کا قیام اور بیرونی سازشوں جسے بیانیہ نے قوم کو مزید خوش فہمی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اصل مسائل پر غور و تدبر اور حل نکالنے کی جگہ مسیحا کے انتظار نے پورا سیاسی عمل پرسنیلٹی ڈس آرڈر کا شکار بنا دیا ہے۔ سونے پہ سہاگا۔ مذہب کا پتا ہو کہ نہ۔ اسلامی مملکت، اسلامی سوشلزم یا پھر ریاست مدینہ ضرور ہو۔ باقی تاریخ، تحقیق اور حقائق سے کیا لینا دینا۔
آج ہمارا سماج انفرادی سطح سے لے کر اجتماعی سطح تک، ہر پہلو سے نرگسیت کا چھلک رہی ہے۔ بغیر علمی تحقیق اور دلیل کہ ہر چوراہے پر درجنوں کے حساب سے ارسطو مل جائیں گے۔ نرگسیت کا مریض کبھی اپنے آپ کو مریض نہیں سمجھتا اور اس خوش فہمی میں مبتلا رہتا ہے کہ وہی حق اور سچ پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے یہاں اختلاف رائے پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ نرگسیت ہی ہے جو عدم برداشت پیدا کیے جا رہی ہے۔ مسیحا پرستی نے ہمارے نوجوان کو علم اور عقل سے محروم کر دیا ہے۔
کہتے ہیں کہ زمین کے پھٹنے سے زمین زرخیز ہوتی ہے، مگر یہاں ہر گلی محلہ سے مفادات کے تحت احیاء کی تحریکیں وہ مذہبی ہو کے سیاسی عام آدمی کو نرگسیت کا نشہ دیے جا رہی ہیں۔ اور نتیجہ۔ آج دوسری اقوام محبت، دانش، اور علم و تحقیق سے انسانیت کو مزید مستحکم کرنے کی کوشش میں نظر آ رہی ہیں وہاں ہماری نرگسی باؤلے پن نے انسانیت کو ہی خطرہ میں ڈال دیا ہے۔

