جو بائیڈن کی پارٹی ڈیموکریٹ کی ممبر الہان عمر کی عمران خان سے ملاقات اور فواد چوہدری کا بیانیہ

سازشی تھیوریز باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے لانچ کی جاتی ہیں اور سوشل میڈیا کمپین کے ذریعے سے ان تھیوریز کی شیلف لائف کو طویل مدت تک بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ مطلوبہ اہداف آسانی سے حاصل کیے جا سکیں۔ ہماری سرزمین چونکہ ایسی بے بنیاد تھیوریز کے لئے بہت زرخیز ہے اور یہاں سب بکتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ بیچنے والا انتہائی ڈھیٹ، چالاک اور بے عزتی پروف ہو۔ ورنہ بات بات پر غیرت جاگ جانے کے اندیشے کی بدولت منصوبے کے تلپٹ ہونے کے چانس بڑ جاتے ہیں۔
تحریک انصاف کے مردہ پتلے میں پھر سے جان ڈالنے کے لیے بڑی ہی عرق ریزی کے بعد امریکی سازشی تھیوری کا بیانیہ تشکیل دیا گیا اور یہ باور کروانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ ریاست مدینہ کا انوکھا لاڈلا امریکہ کی آنکھوں میں کھٹکنے لگا تھا اسی لیے انہوں نے اپوزیشن کو ساتھ ملا کر خان صاحب کو چلتا کر دیا۔ لیکن اس بیانیہ کو الیکشن مہم کا مضبوط سلوگن بننے سے پہلے ہی فواد چوہدری نے زمین بوس کر دیا۔ ایک ٹی وی پروگرام میں منصور علی خان کے پوچھنے پر کہ ”کیا آپ کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں تھے“ ؟
”جی اگر اچھے ہوتے تو آج حکومت میں ہوتے سڑکوں پر نہ ہوتے“ منصور علی خان نے پوچھا کہ کیا آپ نے ان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں نہیں کیں؟ اس کے جواب میں فواد جی کا فرمانا تھا کہ بہت کوششیں کی گئیں مگر لاحاصل اور ایک شعر میں خان جی کی سازشی تھیوری کا مکو ٹھپ دیا ”وقت کرتا ہے پر ورش برسوں، حادثہ ایک دم نہیں ہوتا“ ۔ اتنی بڑی امریکی چالبازی کے بعد ہم تو یہ سمجھ رہے تھے کہ تحریک انصاف کے فدائین بشمول عمران خان امریکی سفارتخانہ کے سامنے امریکہ مردہ باد کا نعرہ لگا کر امریکن پاسپورٹ پر تھوکنے کے بعد جلا ڈالیں گے اور ہمیشہ کے لئے بائیکاٹ کرنے کا اعلان کریں گے۔
اور جو خان صاحب کے فدائین کئی سالوں سے فیملی سمیت امریکہ میں رہائش پذیر ہیں انہیں بھی کہا جائے گا کہ بس بہت ہوا اور احتجاج کے طور پر امریکی شہریت چھوڑ چھاڑ کے وطن واپس لوٹ آئیں تاکہ امریکہ کو پتہ چلے کہ ہم زندہ قوم ہیں۔ مگر یہاں تو الٹی گنگا بہنے لگی۔ خان صاحب نے امریکی لباس میں ملبوس ہو کر ایک امریکن کانگریسی خاتون الہان عمر جن کا تعلق امریکی صدر جو بائیڈن کی ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے کے ساتھ ملاقات کر ڈالی اور باقاعدہ فوٹو سیشن ہوا تاکہ سند رہے۔
یاد رہے کہ یہ وہی جو بائیڈن ہیں جنہوں نے حال ہی میں خان صاحب کے خلاف سازش کر کے رجیم چینج کی تھی، آخر چند دنوں میں ایسا کیا ہو گیا بقول شاہ محمود قریشی کہ ”خان صاحب نے پوری دنیا میں شلوار قمیض اور پشاوری چپل کو فروغ دیا مگر اچانک سے دشمن کا لباس زیب تن کر کے دشمن کی پارٹی کے بندوں سے ملاقات کر ڈالی۔ سانوں امریکہ کے خلاف کر کے خود محبت کی پینگیں بڑھانا کیا یہ کھلا تضاد اور دونمبری نہیں ہے؟ جان کی امان پائیں تو کچھ عرض کریں کیا خان صاحب جو سازشی منترا پاکستان کے لوگوں کو جلسوں میں سنا رہے ہیں کیا وہی سازشی منترا الہان عمر کو بھی سنا کر جو بائیڈن کے خلاف اسٹینڈ لینے کی درخواست کی؟
ہمارا تو ایسا بالکل خیال نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو اب تک خان صاحب کا سوشل میڈیا بریگیڈ ایکٹو ہو چکا ہوتا۔ خان صاحب کو اچھے سے پتا ہے کہ سازشی تھیوری کا چورن صرف پاکستانی عوام کو بیچا جا سکتا ہے مالکوں کے آگے نہیں۔ الہان عمر اس پوزیشن پر جذباتیت کا سہارا لے کر نہیں پہنچی ہیں بلکہ وہ بغیر کسی بیساکھی کے سہارے خالص اپنی قابلیت اور چیلنجنگ ایٹیٹیوڈ کی وجہ سے اس مقام تک پہنچی ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ہمارا لاڈلہ خان جو کھیلن کو چاند مانگتا رہتا ہے کا ٹریک ریکارڈ جلاؤ گھیراؤ سے بھرا ہوا ہے اور جس بیساکھی کے سہارے حادثاتی طور پر وزیراعظم بن گیا تھا اب انہیں بھی ان کو زمین پر اتارنے کے لئے بڑی مشقت اور ریاضت کرنا پڑ رہی ہے۔
کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ دو پارٹی کا اسٹیٹس کو توڑنے کے لئے تبدیلی کے نام پر یہ وقتی بندوبست کیا گیا تھا جو بالکل ناکام ٹھہرا۔ دیدہ و نادیدہ قوتوں کو ایک میچور حکومتی ڈھانچہ ہضم نہیں ہوتا کیونکہ وہ سیاست ہاؤس میں رہتے رہتے کافی میچور ہو چکے تھے اسی لیے عمران خان جیسے اناڑی کو لاکر کر اس سسٹم کے آگے ایک رکاوٹی بند باندھنے کی کوشش کی گئی، جو بھی اس چور چور پروپیگنڈا کا حصہ تھے اب یہی بندوبست انہی کے گلے پڑ گیا ہے۔ زمین پر لینڈ کرتے کرتے خان صاحب اپنی کمزوریوں کا بوجھ مرشد امریکہ کے کندھے پر ڈال کر ایک دفعہ پھر سے زبردستی خود کو لیڈر منوانے کے مشن پر رواں دواں ہو چکے ہیں۔

