رانی جھانسی: جنگ آزادی کی ایک ہیروئن، جسے مرنے کے بعد بھی کوئی انگریز چھو نہ سکا


1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔

اگر آپ کو یاد ہوتو جنگ آزادی میں انگریزوں کے خلاف جن لوگوں نے حصہ لیا ان میں ایک نام رانی جھانسی کا بھی تھا۔ اس وقت رانی جھانسی کا نام بہادری کی نشانی بن گیا اور اب تک ہے۔ بھارت میں ان کے نام پر متعدد ناول لکھے گئے اور کئی فلمیں بھی بنائی گئیں۔ جھانسی شہر میں ان کے نام پر ایک زرعی یونیورسٹی بھی بنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس علاقے میں بے شمار اہم عمارتوں کا نام رانی جھانسی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ اس سے پہلے کہ میں آپ کو رانی جھانسی کی زندگی کے بارے میں کچھ بتاؤں، میں مختصر طور پر یہ بتانا چاہوں گا کہ جھانسی کیسا علاقہ ہے۔ جھانسی شہر یوپی کے انتہائی جنوب میں واقع ہے جو یوپی اور ایم پی کی سرحد بنتا ہے۔ یہ شہر سطح سمندر سے ایک ہزار فٹ بلند ہے۔ دہلی سے اس کا فاصلہ تقریباً چار سو کلو میٹر ہے۔ اس کا پرانا نام بلونت نگر تھا۔

میں نے جب جھانسی کے بارے میں پڑھا تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ کوئی تاریخی شہر تو نہیں لیکن اس شہر سے متعلق دو باتیں بڑی ہی دلچسپ ہیں۔ ایک تو یہ کہ صفائی کے لحاظ سے یوپی کا دوسرا بڑا شہر ہے اور ان سو شہروں میں شامل ہے جنھیں اسمارٹ سٹی کا درجہ دیا جائے گا۔ اس علاقے میں سٹرس یعنی ترشاوہ پھل یعنی کینو، مالٹا وغیرہ بہت بڑی تعداد میں ہوتا ہے۔ ہم فروری کے مہینے میں اس جگہ سے گزر رہے تھے جو کہ ترشاوہ پھل کا سیزن تھا۔

میری یہ خواہش تھی کہ میں سٹیشن سے کوئی نہ کوئی ترشاوہ پھل ضرور حاصل کروں اور دیکھوں کہ ہمارے سرگودھا کے مقابلے میں وہ کیسا ہے؟ اتفاق سے اس جگہ پر ٹرین کا سٹاپ بھی دس منٹ کا تھا۔ دوسری اہم بات یہ تھی کہ اس کا پلیٹ فارم لمبائی کے لحاظ سے دنیا میں ساتویں نمبر پر ہے۔ یاد رہے دنیا کا طویل ترین ریلوے سٹیشن ہندوستان کا گورکھپور سٹیشن ہے جس کی لمبائی تیرہ سو میٹر ہے۔ ان دو باتوں کی وجہ سے میں اس ریلوے سٹیشن پر اترنا چاہتا تھا۔

میں نے سٹال پر موجود لڑکے سے باتیں کرنا شروع کر دیں۔ میں نے اس سے پوچھا آپ رانی جھانسی کو جانتے ہیں؟ میں بہت حیران ہوا جب اس نے کہا کہ آپ کس کی بات کر رہے ہیں؟ میں نے کہا کہ اس کی جس نے جنگ آزادی میں بہت بہادری سے انگریزوں کا مقابلہ کیا۔ اس پر اس نے جواب دیا کہ ہم انھیں رانی جھانسی نہیں بلکہ لکشمی بائی رانی آف جھانسی کہتے ہیں۔ مجھے تھوڑی سی شرمندگی بھی ہوئی۔ ہم نے تو کتابوں میں صرف یہی لکھا ہوا تھا ”رانی جھانسی“ ۔ غور کیا تو معلوم ہوا رانی جھانسی تو کوئی نام نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک ٹائٹل ہے۔ ان کا اصل نام تو لکشمی بائی رانی آف جھانسی ہے۔

جنگ آزادی میں مردوں کے ساتھ ساتھ جن دو خواتین کا ذکر ملتا ہے ان میں ایک کا نام بیگم حضرت محل تھا جو نواب واجد علی شاہ والی اودھ کی دوسری بیگم تھیں، دوسری بہادر خاتون لکشمی بائی رانی آف جھانسی ہیں۔ جھانسی کی آبادی چھ لاکھ سے زائد ہے۔ جس میں مسلمان سترہ فیصد، بیاسی فیصد ہندو اور باقی لوگ سکھ اور عیسائی مذہب سے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس علاقہ میں بسنے والے مسلمانوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہوگی۔

لکشمی بائی رانی آف جھانسی

میں مختصراً لکشمی بائی رانی آف جھانسی کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ جس سے آپ یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اہل ہند نے کس طرح مل جل کر انگریزوں کو ہندوستان سے نکالنے کے لیے جدوجہد کی اور اس کے لیے بے تحاشا قربانیاں دیں۔

لکشمی بائی رانی آف جھانسی 1828 ء میں بنارس میں پیدا ہوئیں اور 1858 ء میں، صرف تیس سال کی عمر میں میدان جنگ میں ایک سوار کی وردی پہن کر دست بدست جنگ کرتے ہوئے اس دنیا سے چلی گئیں۔ آپ کے والد مہاراشٹرا سے آئے تھے اور پیشوا باجی راؤ کے ساتھ کام کرتے تھے۔ لکشمی بائی کی عمر چار سال تھی جب ان کی والدہ وفات پا گئیں۔ ان کی تعلیم و تربیت کا بندوبست گھر میں ہی کیا گیا۔ وہ بچپن ہی سے گھڑ سواری، ویٹ لفٹنگ اور پہاڑوں پر چڑھنے جیسے مشکل کاموں میں دلچسپی رکھتی تھیں۔

ان کی شادی جھانسی کے مہاراجہ کے ساتھ کردی گئی۔ ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام دامودر راؤ رکھا گیا۔ وہ صرف چار ماہ کی عمر میں فوت ہو گیا۔ مہاراجہ نے اپنے ایک عزیز کے بچے آنند راؤ کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا اور اس کا نام دامودر راؤ رکھا۔ اس وقت اس ریاست کا انگریزوں سے الحاق تھا۔ انگریز افسر کی موجودگی میں راجہ نے اس سے کہا کہ میرے مرنے کے بعد یہ لڑکا میرا وارث ہو گا۔ جب راجہ کی وفات ہوئی تو انگریزوں نے ریاست پر قبضہ کرنے کی غرض سے راجہ کے منہ بولے بیٹے کو والی ریاست ماننے سے انکار کر دیا۔ اس پر لکشمی بائی نے احتجاج کیا۔ انگریزوں نے ان کا ساٹھ ہزار روپیہ ماہانہ وظیفہ مقرر کر دیا۔

جب جنگ آزادی شروع ہوئی تو ہر جگہ بغاوت ہوئی۔ جھانسی شہر میں ساٹھ کے قریب انگریزوں کو قتل کر دیا گیا۔ بنگال رجمنٹ کے سپاہیوں نے چھاؤنی پر قبضہ کر لیا اور بہت سا مال و دولت لوٹنے کے ساتھ ساتھ بے شمار اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا۔ اس دوران انگریز دوسری جگہ سے مدد کی اپیل کرتے رہے۔ جب لکشمی بائی کو یہ یقین ہو گیا کہ اب لڑے بغیر کوئی چارہ تو انھوں نے اپنی فوج تیار کی۔ ان کے پاس توپ وغیرہ تو نہیں تھی لہذا انھوں نے شہر میں توپ تیار کرنے کا بندوبست بھی کیا اور شہر کی حفاظت کے لیے توپیں بھی تیار کر لیں۔

انگریزوں نے اپنی بہت ساری فوج اکٹھی کر کے جھانسی کا محاصرہ کر لیا۔ جب انگریزوں نے حملہ کیا تو انھیں بہت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جس کا انھیں اندازہ نہیں تھا۔ ایک طویل محاصرے کے بعد لکشمی بائی کو اندازہ ہو گیا کہ اب شکست لازم ہے کیونکہ انگریزوں نے قلعے کی ایک بہت بڑی دیوار کو گرا دیا تھا۔ باہمی مشورے سے یہ طے ہوا کہ لکشمی بائی اپنے چند وفادار ساتھیوں سمیت گوالیار کی طرف چلی جائے۔ ان کے ساتھیوں کی فہرست میں خدابخش اور غلام غوث کے علاوہ بھی بے شمار مسلمان تھے۔ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندو بھی بڑی تعداد میں گوالیار کی طرف چلے گئے۔

لکشمی بائی کے پاس تین گھوڑے تھے جن میں ایک کا نام بادل تھا جو سب سے زیادہ طاقتور تھا لکشمی بائی اسی گھوڑے پر سوار ہو کر گوالیار کی طرف چلی گئی۔ آج بھی اس علاقے میں لوگ اپنے گھوڑوں کا نام بادل رکھنا پسند کرتے ہیں۔

انگریزوں کا ظلم جاننے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ انگریزوں نے جھانسی پر قبضے کے بعد اپنے ساٹھ لوگوں کے بدلے پانچ ہزار لوگوں کو قتل کیا تھا۔ جھانسی میں موجود ہر وہ شخص جس کی عمر سولہ سال سے زائد تھی، کو قتل کر دیا گیا۔

جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد جنگ آزادی میں حصہ لینے والے لوگوں کے قتل کو ہی جائز قرار دے دیا گیا۔ یہ تھا انگریزوں کا انصاف!

گوالیار کے قریب جب شدت سے جنگ ہو رہی تھی اور لکشمی بائی کو شکست بھی نظر آ رہی تھی۔ اس نے ایک شاہ سوار کی وردی پہنی اور ایک مردانہ لباس میں میدان جنگ میں آ کر براہ راست انگریزوں کی فوج کے ساتھ جنگ شروع کر دی۔ یہ کسی بھی عورت کا میدان جنگ میں شریک ہونے اور میدان جنگ میں جان دینے کا ایک اہم واقعہ ہے۔ انگریزوں نے اپنی کتابوں میں ان کی بطور سپاہی جنگی صلاحیتوں کا اعتراف کیا ہے۔ اس وقت لکشمی بائی کی عمر تیس سال تھی۔ اس نے جنگ میں وہ جوہر دکھائے کہ لوگ آج تک اس کی مثالیں دیتے ہیں۔ یاد رہے کہ جنگ سے پہلے انگریز انھیں صلح اور معافی کی آفر کر چکے تھے لیکن لکشمی بائی نے جنگ کو صلح پر ترجیح دی۔ بلکہ در حقیقت ان کی فوج بھی کمزور تھی، دشمن طاقتور تھا، شکست بھی یقینی تھی۔

ایسی صورتحال میں حوصلہ اور دلیری ہی کا امتحان ہوتا ہے!

اس جنگ میں لکشمی بائی زخمی ہو گئی اور اس کے پاس ان کے صرف چند ہی ساتھی تھے۔ لکشمی بائی نے ان سے کہا میرے بچنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جیسے ہی میری موت واقع ہو اس سے پہلے کہ کوئی انگریز مجھے دیکھے یا ہاتھ لگائے آپ فوراً ًمجھے جلا ڈالیں۔ ان کے ساتھیوں نے ایسا ہی کیا۔

لکشمی بائی کی موت کی یاد میں پھول باغ کے نام سے ایک عمارت بھی گوالیار کے علاقہ میں بنائی گئی ہے۔ لوگ اس جگہ کو ان کا مقبرہ کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کی باقیات کو اس جگہ دفن کیا گیا تھا۔ لکشمی بائی کی موت کے بعد ان کا منہ بولا بیٹا جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہتا تھا، گرفتاری سے بچنے کے لیے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ جنگلوں کی طرف چلا گیا۔ جنگلوں میں ہی ان سب کی موت واقع ہوئی۔ اس طرح اس خاندان کا کوئی فرد بھی انگریزوں کے ہاتھ نہ آیا۔

ایک دلچسپ بات لکشمی بائی رانی آف جھانسی کے متعلق بڑی مشہور ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ جب ان کو انگریزوں نے ہتھیار ڈالنے کے لیے کہا تو لکشمی بائی نے ایک نعرہ لگایا جو آج تک اس علاقے میں معروف ہے اور کئی مقامات پر لکھا ہوا ہے۔ وہ کچھ یوں ہے۔

ہم لارڈ کرشنا کے دیش کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ جیت گئے تو آزادی کا مزہ چکھیں گے، ہار گئے تو ہماری روح مطمئن ہو گی۔

ایک انگریز نے اس واقعہ پر ایک کتاب لکھی ہے۔ جس میں اس نے لکشمی بائی کو انگریزوں کا سب سے بہادر اور خطرناک دشمن لکھا ہے۔

یہ تھی ایک مختصر کہانی لکشمی بائی رانی آف جھانسی کی۔ جس کے شہر سے گزرنے کا مجھے بھی موقع ملا۔ میں نے پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر شہر کو جی بھر کے دیکھا اور ان سب کو سلام پیش کیا جنھوں نے ہندوستان کی آزادی کے لیے قربانیاں دیں۔ جن میں خدا بخش، بشارت علی، غلام غوث اور لکشمی بائی سمیت بے شمار گمنام ہندو اور مسلمان بھی تھے۔ ان سب کا مقصد صرف آزادی تھا۔ جس کا مزہ آج ہم چکھ رہے ہیں

Facebook Comments HS