ایک عکس جو ٹھہر گیا آنکھوں میں۔ سلطانہ صدیقی سے ملاقات


چیلنجز کو اوپورچونٹی سمجھنے والی بہادر خاتون سلطانہ صدیقی سے ہوئی ایک ملاقات کا احوال۔

ایسا اکثر ہوتا ہے کہ ہم کسی بھی شخصیت کو ٹیلیوژن پر دیکھ کر اس کی باتوں یا اس کے خیالات کے گرویدہ ہو جاتے ہیں اور جب اس شخصیت سے بالمشافہ ملنے کا اتفاق ہو جائے تو ہماری یہ پسندی دے گی مزید گہری ہوجاتی ہے یا یوں کہیں کہ دنیا میں ایسے لوگ بہت ہی کم پائے جاتے ہیں جن کی پرسنیلٹی کی چھاپ ایک بار کی ملاقات سے ہی ہم پر اتنی گہری پڑتی ہے کہ تاعمر یہ عکس آنکھوں سے مٹائے نہیں مٹ پاتا۔ سلطانہ صدیقی صاحبہ کا شمار بھی ایسی شخصیات میں ہوتا ہے جن کو ایک بار مل لینے سے ہماری زندگی میں کہیں نہ کہیں کوئی مثبت تبدیلی ضرور آتی ہے۔

اس لحاظ سے میں بھی خود ان خوش نصیبوں میں شمار کر سکتی ہوں جن کی سلطانہ آپا کے ساتھ ناصرف چند گھنٹے گزارنے کا بلکہ ان سے بے حد بے تکلفانہ ماحول میں ادب آداب کے دائرے میں رہتے ہوئے گفتگو کرنے کا اور ان سے سوالات پوچھنے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ تو جناب ہماری آپ کی ہم سب کی ہر دلعزیز سلطانہ صدیقی سے اپنی اس ملاقات کا احوال آپ سے شیئر کرنے جا رہے ہیں۔

سلطانہ آپا سے جب ہم نے پوچھا کہ حیدر آباد کے ایک چھوٹے سے آنگن میں آنکھ کھولنے والی وہ ننھی سی پری جسے دنیا نے سلطانہ صدیقی کے نام سے جانا، اس کے اردگرد کا ماحول کیسا تھا۔ تو سلطانہ آہا نے مسکراتے ہوئے ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے بتایا کہ ہمارے گھر کا ماحول بے حد دوستانہ تھا، ہم دس بہن بھائی تھے اور ہمارے والدین کی آپس میں بے حد اچھی انڈر اسٹینڈنگ تھی۔ والدین خصوصا والدہ کا ذکر کرتے ہوئے آپا کے چہرے پر آنے والی مسکراہٹ دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی، ان کا کہنا تھا کہ ان کی والدہ بے حد سمجھدار خاتون تھیں وہ باتوں ہی باتوں میں اپنے بچوں کو ان کے کیریئر کے حوالے سے مشورے بھی دیا کرتی تھیں پھر ان کے کہنے کا انداز ایسا ہوتا تھا کہ اس میں بچوں کے لیے لاڈ کا عنصر نمایاں ہوتا تھا نا کہ حکم کا ۔

سلطانہ آپا کے مطابق ان کے گھر میں بچوں کے پڑھاء کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں خصوصا کھیل کود میں حصہ لینے کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جاتی تھی شاید یہ وجہ رہی کہ وہ شروع سے بھائیوں کے ساتھ ہر اس کھیل میں آگے آگے رہیں جو عموماً لڑکیاں نہیں کھیلا کرتی تھیں۔ یہاں سلطانہ آپا نے اپنے بچپن کے دنوں کو یاد کرتے ہوئے مزید بتایا کہ بچپن میں درختوں پہ جھولنا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا لیکن ساتھ ساتھ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس زمانے کے اساتذہ آج کے دور سے یکسر مختلف تھے ان کی ٹیچرز کلاس مس ہو جانے پر گھر پر بلا کے ناصرف پڑھاتی تھیں بلکہ اس زمانے کی اپنائیت اور خلوص آج کے زمانے میں کہیں نظر نہیں آتے۔

بچپن ہی کی بات کرتے ہوئے آپا نے کہا کہ ان کو لگتا تھا کہ وہ اوروں سے خاصہ مختلف خواہشات رکھتی ہیں شاید مزاج میں پائی جانے والی یہ انفرادیت تھی جس نے انھیں آج اس مقام تک پہنچایا۔ سلطانہ آپا نے ماضی کے اوراق پلٹتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو اکثر دوسروں سے مختلف محسوس کرتی تھی اور شاید یہ ہی وجہ تھی کہ میں میڈیا کے پروفیشن میں آ گئی، جب کہ میرا پورا پورا ارادہ سی ایس ایس کرنے کا تھا لیکن شادی ہو جانے کے بعد بچوں کی وجہ سے سی ایس ایس کا شوق پورا نہ ہوسکا، تاہم کچھ ذاتی وجوہات کی بنا پر جب زندگی میں جاب کرنے کی جانب اور اپنا کیریئر بنانے کا سوچا تو میری خوش قسمتی رہی کہ مجھے پی ٹی وی پر پروڈیوسر کی حیثیت سے جاب مل گئی اور یہاں کام کر کے مجھے لگا کہ یہ کام مجھے خوشی دیتا ہے اور اسے کر کے مجھے مزہ بھی آیا۔

میرے بڑے بھائی مظہر خاص کر مجھے بہت سراہتے تھے۔ سلطانہ آپا نے بتایا کہ شروع دنوں میں جب بچے چھوٹے تھے تو انھوں نے بچوں کے پروگرام کیے اور جب ذرا بچے بڑے ہوئے تو میوزک کے پروگرامز کرنے لگی، عابدہ پروین کو متعارف کرنے کا سہرا سلطانہ آپا کے سر ہی جاتا ہے۔ اس موقع پر سلطانہ آپا نے پی ٹی وی کے اوائل دور کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اب جب پی ٹی وی کی راہداریوں میں گزر ہوا تو دل بے حد اداس ہوا لیکن وقت بہت بدل گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سلطانہ آپا نے بتایا کہ خواتین کو مردوں کے مقابلے خود کو منوانے کے لیے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے ڈرامہ ڈائریکشن کی طرف آنا چاہا تو کئی لوگوں نے مخالفت کی کہ یہ خاتون پہلے ہی میوزک کے شعبے میں ایوارڈز لے چکی ہیں اب ان کو اس طرف نہیں آنے دو لیکن اللہ کے کرم سے ڈراموں میں بھی اللہ نے پذیرائی دی۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا پہلا پلے ماروی تھا جس کو کرنے کے لیے انھیں خاصی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں آپا نے بتایا کہ انھوں اپنا پروڈکشن ہاؤس بنانے کا ارادہ کیا تو ان کے کام کو مزید جلا ملی اور مومل پروڈکشن نے بہت سے اچھے ڈرامے دیے۔ یہاں آپا نے نوجوان نسل کو یہ پیغام بھی دیا کہ اپنی عزت نفس سے بڑھ کے دنیا میں کچھ نہیں اس لیے عزت نفس پر سمجھوتہ کبھی نہ کریں۔

اس موقع پر سلطانہ آپا نے ہم ٹیلی وژن نیٹ ورک کے آغاز کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پی ٹی وی سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینے کے بعد وہ مومل پروڈکشن کے تحت ڈرامے بنایا کرتی تھیں اور پھر ان ڈراموں کو پی ٹی وی پر چلایا جاتا تھا جس سے حاصل ہونے والے ریونیو کا پچیس فیصد پی ٹی وی کو ہی ملتا تھا۔ ایسے میں سلطانہ صدیقی کے صاحبزادے درید نے ان کو مشہورہ دیا کہ کیوں نہ آپ اپنا چینل شروع کریں اس سے مارکیٹنگ اور دوسری مد میں کیے جانے والے اخراجات کم ہو سکیں گے اور پرائیویٹ چینلز کی ایک نئی ریت بھی قائم ہوگی۔

یہ وہ وقت تھا جب بھارتی ڈرامے پاکستان میں خوب دیکھے جاتے تھے ایسے میں سلطانہ آپا نے پاکستانی ڈراموں کے خاص کر ایک الگ چینل کی بنیاد رکھ کر دنیا بھر کے لوگوں کو ایک بار پھر صحت مند اور معیاری تفریح فراہم کی اور اس کام میں ان کی فیملی نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ ہم ٹی وی پاکستان کا پہلا پبلک لسٹڈ چینل بھی کہا جاتا ہے۔ سلطانہ آپا نے ہم ٹی وی کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ جب ہم یہ اعلان کیا کہ ہم انڈین کونٹینٹ کو اپنے چینل پر نہیں چلائیں گے تو بہت سے لوگوں نے ہمارے سامنے سوال کھڑے کیے کہ پھر آپ کیا چلائیں گے۔

اس موقع پر ہم نے نورالہدیٰ شاہ کو ہیڈ آف کونٹینٹ کے فرائض سونپے اور مومنہ نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ چینل کے آغاز کے بعد میں نے پروڈکشن ہاؤس کی ساری ذمے داری اپنی بہو مومنہ کو سونپ دی۔ وہ آج تک کہتی ہے کہ کتنا مشکل ہوتا ہے اپنا تاج کسی اور کے سر پہ سجا دینا لیکن مجھے ایسا بالکل نہیں لگا بلکہ ایسا کر کے مجھے دلی خوشی حاصل ہوئی۔

سلطانہ آپا نے یہاں یہ بات بھی خصوصی طور پر کہی کہ ہم ٹی وی نے ڈراموں میں مختلف موضوعات اور مسائل کی نشاندہی کی، کنکر میں گھریلو تشدد کا مسئلہ اجاگر کیا تو اڈاری میں چائلڈ ابیوز جیسے حساس موضوع پر بات کی، اسی طرح ہم سفر، زندگی گلزار ہے، جیسے بہت سے ڈرامے ہیں جو کہ پی ٹی وی کے دور کی پیداوار نہ ہونے کے باوجود لوگوں کی ذہنوں پر نقش ہیں تو ہم اس کو ہم ٹی وی کی کامیابی ضرور کہ سکتے ہیں۔ ہر ڈرامے میں اختتام میں ہم خاتون کو امپاورڈ ہوتا دکھا دیتے ہیں۔

سلطانہ صدیقی نے ہراساں کیے جانے مسئلے اور می ٹو موومنٹ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ نہیں کہتی کہ می ٹو موومنٹ غلط ہے تاہم مغرب کی دیکھا دیکھا یہاں بھی لوگوں خواتین کے حقوق پر بات شروع کی مگر شاید اس کا طریقہ کار ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہوا ہے، مگر ہم یہ امید کرتے ہیں فلٹر ہوتے ہوتے ہمارے ملک میں بھی خواتین کے حقوق کی جدوجہد بہترین انداز میں چلنے لگے گی، ساتھ ہی یہاں سلطانہ آپا نے دفاتر میں ملازمت کرنے والی لڑکیوں کی حوصلہ افزائی بھی کی کہ جو ہراساں کیے جانے کے واقعات پر خاموش رہنے کے بجائے ان کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں اور بہت سی مشکلات سے گزرنے کے بعد کبھی نہ کبھی اپنا موقف تسلیم کرا بھی لیتی ہیں تاہم یہ راستہ خاصا کٹھن ثابت ہوتا ہے۔

سلطانہ صدیقی نے یہ بھی کہا کہ خواتین کو کوئی ایسا پلیٹ فارم ضرور فراہم کرنا چاہیے جہاں ان کی کونسلنگ ہو اور ان کو یہ بتایا جائے کہ ایسی کسی صورتحال کا مقابلہ کیسے کرنا ہے ضروری نہیں کہ نعرہ لگایا جائے یا ڈھول بجا کے لوگوں کو بتایا جائے، ہمیں مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا چاہیے۔ خواتین کو آگے بڑھنے اور ترقی کرنے کے لیے بس یہ ہی ضروری ہے کہ وہ اچھا کام اور محنت کریں دیانت داری کے ساتھ تو کوئی وجہ نہیں کہ خواتین مردوں سے زیادہ ترقی نہ کرسکیں۔ اس موقع پر آپا نے اس بات پر زور دیا کہ مردوں کو چاہیے کہ اپنی خواتین کو پراعتماد بنائیں ان پہ بھروسا کریں ساتھ ہی خواتین کو چاہیے کہ مردوں کی تربیت اچھی کریں تاکہ معاشرے میں وہ مثبت کردار ادا کرسکیں اور خواتین کے مشکلات کھڑی نہ کریں۔

سلطانہ صدیقی نے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں خواتین کے لیے ہمسفر کا انتخاب ایک نہایت مشکل کام بن گیا ہے، لڑکیوں پر پریشر ہوتا ہے کہ ایک خاص عمر تک ان کی شادی نہیں ہوئی تو کیا ہو گا ایسے میں اکثر خواتین مجبوری میں کسی رشتے کو قبول کر لیتی ہیں اور پھر زندگی بھر ایک بوجھ کی طرح رشتہ نبھاتی ہیں، اور دوسری جانب مرد حضرات لڑکیوں کی جن خوبیوں کی وجہ سے ان سے شادی کرتے ہیں بعد میں اسی کام یا پروفیشن سے خواتین کو دور بھی کر دیتے ہیں۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ پریشان ہوئے بنا اپنے لیے سوچ سمجھ کے ہمسفر کا انتخاب کریں۔ یوں سلطانہ آپا سے ہونے والی یہ ملاقات دل میں مزید ملاقاتوں کی خواہش لیے اختتام پذیر ہوئی۔

Facebook Comments HS