جدید روزے دار کے تقاضے


نیا دور نئے تقاضے لے کر آتا ہے۔ اس لیے ہم کو پریشان نہیں ہونا چاہیے کہ جدید روزے دار کے نئے اور اچھوتے تقاضے ہیں کیونکہ وہ واٹس ایپ، فیس بک کے دور میں جی رہا ہے اس سے پہلے کوئی نسل اس دور میں نہیں تھی۔ اس لیے جدید روزے دار کو جدید ہی ہونا تھا۔ اس جدید دور میں سب سے پہلے روزے دار فطرت سے لڑتا ہے اور دن کو رات اور رات کو دن میں تبدیل کر دیتا ہے۔ اکثر جدید روزے دار سحری کر کے سوتے ہیں اور عین افطاری کے وقت نیند سے بیدار ہو کر روزے کا ثواب حاصل کرتے ہیں۔ بندہ پوچھے کہ رات کے کھانے کے بعد صبح جب ناشتہ کیا جاتا ہے تو تقریباً 10 تا 12 گھنٹے کا وقفہ ہوتا ہے کیا اہم اس کو بھی روزہ کہہ سکتے ہیں کیونکہ یہ تو ہم ساری زندگی رکھتے ہیں اگر نہیں تو کیا جدید روزے دار کا روزہ ہے؟

اگلا تقاضا جدید روزے دار کا یہ ہوتا ہے کہ کمرے میں اچھی خاصی ٹھنڈک ہو۔ اس کا بندو بست ائر کنڈیشننگ کے ذریعے خوب کیا جاتا ہے اور رمضان کے مہینے کے بعد بھاری بھر کم بل کی ادائیگی وبال جان بن جاتی ہے۔ ایک مہینے کے لیے گھر میں تمام معمولات زندگی جام ہو کر رہ جاتے ہیں۔

بقول ضمیر جعفری
مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں
ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار میں روزے سے ہوں

جدید بچے روزہ رکھ کر سکول، کالج سے چھٹی مارتے ہیں، جدید ابا جی دفتر صرف حاضری لگانے جاتے ہیں اور جدید اماں جی گھر کے تمام کام سے ہاتھ کھینچ لیتی ہیں اور سحری، افطاری باہر سے منگوائی جاتی ہے اور رمضان کے آخر میں جدید روزے داروں کا پانچ چھ کلو وزن کم نہیں بلکہ بڑھ جاتا ہے۔ جس کو عید کے بعد ڈائٹنگ کر کے کم کیا جاتا ہے۔

جدید روزے دار کے گھر ماہ صیام رحمت بن کر آتا ہے کیونکہ باجی کی روک ٹوک ختم ہو جاتی ہے۔ رات کو بچے اپنے والدین کے ساتھ انڈین و انگریزی فلمیں دیکھ کر سحری کا انتظار کرتے ہیں۔ گھر میں بھائی چارے کا ماحول بن جاتا ہے۔ جو عید کے بعد فوراً ختم ہو جاتا ہے۔ تمام لوگ اپنے اپنے موبائل میں سر دیے ایک ہی وائی فائی کا استعمال کرتے نظر آتے ہیں فروٹ چاٹ، جام شیریں، پکوڑے، سموسے، رول وغیرہ وغیرہ رمضان المبارک کے پسندیدہ کھانے ہیں اور تمام کے تمام صحت مند اور زود ہضم ہیں۔ جن کو کھاتے ہی جسم میں بھر پور توانائی اور جسم کی کمزوری رفع ہو جاتی ہے اور روزہ دار کولیسٹرول، بلڈ پریشر، معدہ کے السر جیسی اعلیٰ بیماریوں سے روشناس ہوتا ہے۔ جدید روزے داروں کو دیکھتے ہوئے ہم نے مام صیام سے توبہ کرلی ہے اور صرف عید منانے کا فیصلہ کیا ہے۔

Facebook Comments HS