مراسلے پر قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس اور وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس


وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزراء سول اور عسکری حکام نے شرکت کی، شرکاء نے گزشتہ اجلاس کے اعلامیہ کی حمایت کی۔ امریکی خط کے حوالے سے وضاحت دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سیکورٹی اداروں کے خلاف سازش کے شواہد نہیں ملے۔ یہ محض ایک سیاسی بھنور بنانے کی سازش کی گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نجی ٹی وی چینلز نے خط پر بریفنگ دینے والے امریکا میں پاکستانی سفیر کو ”اسد منیر“ ، اور پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کے زیر انتظام کام کرنے والے نیوز چینلز نے پہلے ”اسد امجد“ اور پھر ”اسد مجید“ کے نام سے اس خبر کو نشر کیا۔

اس الجھن کا حل دریافت کرنا ابھی باقی ہے مگر سب سے اہم بات یہ ہے کے ابلاغ عامہ کی ریگولیشن اور مانیٹرنگ کا نظام اس قدر فرسودہ ہے کے یہ نام اور کام تبدیل ہوتے ہوئے دیر نہیں لگتی۔ عوام کو ان عوامی سیاسی کہانیوں کا ”ہیڈ یا ٹیل“ خود تراشنا پڑتا ہے۔ اس نظام سے جڑے تمام عناصر کی جانچ کی جانی چاہیے مزید یہ کہ حکومت اور ایوان میں تناؤ کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صدر مملکت نے نو منتخب وزراء سے حلف لیا ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی پریس کانفرنس میں وہ کافی پر اعتماد دکھائی دیے۔ اقتدار میں آتے ہی انہوں نے ترجیحاتی ایجنڈا کے بارے میں میڈیا کوئی بریفنگ دی۔ جس کے اہم نکات میں انھوں نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ کے حوالے سے رولز میں ترمیم کے بارے میں وضاحت پیش کی اور بتایا کہ شہباز شریف کی کابینہ نے اس رول میں ترمیم کی منظوری دی ہے اس فہرست میں 4863 لوگوں کا نام موجود ہے۔

اس رول کی حدود کے بارے میں مزید بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کے اس رول میں ترمیم کا اطلاق دہشت گردی کے مقدمات میں ملوث افراد پر نہیں ہو گا۔ یا جن افراد پر بڑے پیمانے پر عوام کو دھوکہ دہی دینے کا الزام ہو گا وہ افراد بھی اس سے ریلیف حاصل نہیں کر سکیں گے۔ ای سی ایل رولز میں ترمیم کی منظوری سے 3 ہزار سے زائد لوگوں کو ریلیف ملے گا، نیب کیس کے مطابق الزام ثابت نہ ہونے پر120 دن میں نام خارج کر دیا جائے گا۔ انہوں نے سابق حکومت کے دوران نیب کے سیاسی مخالفت کے لئے استعمال کیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کے ہماری حکومت کے دوران کسی کے خلاف سیاسی مقدمہ درج نہیں کیا جائے گا، اس رول کا اطلاق مساوی طور پر سب پر لاگو ہو گا اور ایسا ہرگز نہیں ہو گا کے کسی مخصوص کلاس آف پرسن کو فائدہ ہو۔

فہرست کی تدوین کے حوالے سے انہوں نے وضاحت کی کہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کچھ لوگ اس بات کے بھی دعوے دار ہیں کہ ان کا نام 2007 سے اس فہرست میں شامل ہے۔ ایسے تمام افراد عدالت کے ذریعے اپنے نقصان کی بھرپائی کا دعویٰ کر سکتے ہیں اور اگر عدالت انھیں ریلیف فراہم کرنے کا حکم دیتی ہے تو ان کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کے اس ترمیم شدہ رول کی کاپی ریفرنس کے لیے میڈیا کو فراہم کر دی جائے گی۔

میڈیا سے تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے انہوں نے کہا کے جب بھی وزارتی سطح پر کوئی فیصلہ آئے گا اس کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔ ہم سیاسی مخالفت کی بنیاد پر پولیٹیکل وکٹمائزیشن کے خلاف ہیں۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی سیکورٹی کے حوالے سے بتایا کے عمران خان کو فول پروف سیکورٹی فراہم کی جا رہی ہے، عمران خان کو رینجرز، ایف سی اور بلٹ پروف گاڑی فراہم کی جا رہی ہے۔ سیاسی حریفوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے نکتہ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ عوامی مفاد میں پیش کی جانے والی ہر تجویز کا خیر مقدم کیا جائے گا۔

وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس سے ان کے روایتی انداز سیاست کا حد درجے اندازہ ہو رہا ہے۔ خود ساختہ سیاسی کارروائیوں اور گہما گہمی بڑھانے کی ایسی ہر کوشش جس سے ابہام پیدا ہو، جس سے بد عنوانی، غلط بیانی اور دیگر مسائل پیدا ہوں ان کا سد باب کیا جانا چاہیے۔ ماضی کی حکومت کا بھی اطلاعات و نشریات کے حوالے سے مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کے گمراہ کن معلومات اور غیر یقینیت کی فضا قائم کرنے میں سیاست دانوں کا مرکزی کردار ہے۔ مگر پاکستان تحریک انصاف جن کے سیاسی حربوں کو دیگر سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں بہتر تصور کیا جاتا ہے وہ بھی اس کھیل سے بچ نہیں پائے ہیں۔ شاید اس کھیل میں جیت کر اس فرسودہ نظام کو تبدیل کرنے کے لیے اس کھیل کا حصہ بننا لازم ہے۔

Facebook Comments HS