تحریک عدم اعتماد سے امریکی سازش تک کا سفر


آج کل پاکستان کی سیاست میں دو لفظوں کا بہت چرچا ہے، پہلا سازش اور دوسرا مداخلت، اور یہ الفاظ اس وقت منظر عام پر آئے جب عمران خان نے اپنے 27 مارچ کے ”امر بالمعروف“ نامی جلسے میں ایک خط لہرایا اور عدم اعتماد کو امریکی سازش قرار دیا۔

عمران خان نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ عدم اعتماد عمران خان کے روسی دورے کے بعد 8 مارچ کو پیش کی گئی اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ امریکہ عمران کے روس کے دورے سے نالاں ہے اور چونکہ وہ روس سے سستی گندم خریدنے والے تھے، اس وجہ سے ان کے خلاف عدم اعتماد لائی گئی ہے۔

اس سے پہلے کہ اس موضوع پر مزید گفتگو کی جائے، یہ میرا فرض ہے کہ قارئین کو تاریخ کے جھروکوں سے کچھ ایسے واقعات بیان کروں جس سے قارئین کو امریکی مداخلت کا کچھ علم ہو سکے۔

بھارت کے دوسرے ایٹمی تجربے کے بعد سن 1998 کو اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف صاحب نے ایٹمی تجربات کرنے کا دلیرانہ فیصلہ کیا، بل کلنٹن کی طرف سے ان کو روکنے کی بھرپور کوشش کی گئی اور بقول نواز شریف، ان کو 5 ارب ڈالر کا لالچ بھی دیا گیا مگر اس کے باوجود نواز شریف اپنے فیصلے پر قائم رہے۔

جب نواز شریف نے امریکہ کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا تو ان کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں اور بالآخر کامیاب ایٹمی تجربات کے بعد اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کی جانب سے مارشل لاء کے ذریعے نواز شریف کا تختہ الٹ دیا گیا۔

اب اگر اس واقعے پر ہم کہیں کہ جنرل مشرف نے امریکہ کے کہنے پر ایٹمی دھماکوں کی وجہ سے مارشل لاء لگایا تو یہ مزاح سے زیادہ اور کچھ نہ ہو گا۔

یہاں یہ بات بھی مد نظر رکھنی چاہیے کہ مارشل لاء لگانا جنرل مشرف کا ذاتی فیصلہ تھا اور کچھ مایا ناز صحافیوں کے بقول اگر اس وقت مارشل لاء نہ لگایا جاتا تو دس سال پر مبنی عمرانی ڈاکٹرائن کو اسی وقت پایا تکمیل تک پہنچا دیا جاتا مگر یہ موضوع بحث نہیں، اس لیے ہم اپنے موضوع پر ہی رہتے ہیں۔

دوسرا اہم واقعہ یہ ہے کہ جب پاکستان کے سابقہ وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ کے دورے پر اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں یہ کہا تھا کہ میں آج ایک اور ورلڈ کپ جیت چکا ہوں اور چند دنوں بعد کشمیر پر بھارت قابض ہو گیا تھا جس پر امریکہ نے پاکستان کو مفاہمت سے مسائل حل کرنے کا کہا تھا۔

امریکہ کی جانب سے پاکستان کو نرمی کرنے کی تلقین بھی امریکی مداخلت ہی تھی نہ کہ کوئی سازش اور ان دو واقعات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ آج سے نہیں بلکہ پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد سے اب تک بہت سے موقعوں پر پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر چکا ہے۔

اب آج کے موضوع پر واپس لوٹتے ہیں۔

عمران خان کی جانب سے امریکی سازش کے مبینہ الزام پر وزیراعظم شہباز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا تھا جس میں اہم بات یہ تھی کہ اجلاس میں مراسلہ بھیجنے والے سابقہ پاکستانی سفیر اسد مجید بھی شریک تھے۔

اس اجلاس کا نتیجہ بھی پچھلے اجلاس سے مختلف نہ تھا اور ایک بار پھر قومی سلامتی کمیٹی نے عمران کے امریکی سازش والے بیانیے کو مسترد کر دیا۔

جیسا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر پہلے بھی اپنی پریس کانفرنس میں واضح کر چکے ہیں کے کسی قسم کی امریکی سازش کا کوئی ثبوت نہیں ملا، آج پھر وہی سب دہرایا گیا اور یوں یہ قصہ اپنے انجام کو پہنچا۔

مگر تحریک انصاف کے اراکین اب بھی بضد ہیں کہ عمران کے خلاف عدم اعتماد امریکی سازش ہے جس کی شروعات 8 مارچ کو ہوئی۔

میں قارئین کو یہ بات پہلے بھی واضح کر چکا ہوں کہ تحریک انصاف کے موقف کے مطابق عدم اعتماد 8 مارچ کو نہیں بلکہ بہت دیر سے زیر غور تھی اور عمران خان خود بھی اپوزیشن کو کئی مواقع پر اپنے خلاف عدم اعتماد کی دعوت دے چکے تھے۔

امریکی سازش کے بیانیے کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر اب تک قومی سلامتی کمیٹی دو مرتبہ امریکی سازش والے بیانیے کو مسترد کر کے ردی کی ٹوکری میں ڈال چکی ہے۔

Facebook Comments HS