سیاست میں جذبات کے برآمدہ نتائج
انسانی طبیعت کا ایک خاصہ ہے کہ یہ بیرونی حالات سے متاثر ہوتی ہے، اور اس کے اثرات پھر قول و فعل اور فکر کی صورت میں نمودار ہوتے ہیں۔ لہذا وہ تمام طبائع جو خام حالت میں اور فکری نا بلوغت کی عمر میں ہوتی ہیں، وہ ہر بیرونی محرک سے تحریک پاکر اپنا زاویہ فکر و نگاہ تبدیل کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ اور اس قسم کی طبائع کو ہم جس سمت موڑنا چاہیں، وہ نہایت آسانی کے ساتھ اسی طرف مڑ جاتی ہیں۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی جذباتی طبائع پختگی کے عمل سے گزر کر اپنا ایک نقطہ نظر متعین کر لیتی ہیں، مگر ایک کثیر تعداد حادثات اور انقلابات کے باوجود بھی فکری بلوغت تک نہیں پہنچ پاتیں۔
کچھ ایسا ہی المیہ پاکستان کی پبلک کا ہے کہ انتہائی زیادہ جذباتی ہونے کے کارن، طبیعت میں ٹھہراؤ جو ایک سلیم الطبع انسان کا خاصہ ہوتا ہے، اس سے یہ قوم یکسر تہی دامن ہے۔ اور اس کے باعث کچھ مفاد پرست افراد اور ادارے ان کی اس فکری نا پختگی کا فائدہ اٹھا کر اپنے مقاصد حاصل کر لیتے ہیں۔ اور یہ بات بہت ہی قابل تاسف ہے کہ ہم نے یہ جذباتی پن اپنے ورثے میں اس طور سے پایا ہے کہ اپنا بے تحاشا نقصان کرنے کے باوجود بھی اس روش سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔
ہماری تحریک آزادی کے آخری دور میں مسلم لیگ کے قائد مسٹر جناح کے حکم پر ہندوستان بھر میں یوم راست اقدام منایا گیا۔ اور اس دن کی مناسبت سے ایک ”پرامن کی احتجاج“ کی اپیل مسلمانان ہند سے کی گئی۔ مگر یوم موعودہ سے قبل ہی صوبہ متحدہ بنگال کے رہنما حسین شہید سہروردی نے جمعہ اور دوسرے اجتماعات کے موقع پر اپنی شعلہ بیانی سے جذباتی قوم کے اندر وہ ’صور جہاد‘ پھینکا، کہ بنگال کے مسلمانوں نے کلکتہ شہر میں خون کی ہولی کھیل کر عام مزدور ہندوؤں کے جسم کاٹ کر پھینک ڈالے۔
تقسیم کے بعد بھی جب جب سیاسی راہنماؤں کو اپنے مفاد کے تحفظ کا خیال آتا یہ امن و آشتی کی فضا میں زہر گھول کر، عوام کی عقول کو معطل کر کے ان سے اپنا کام لے لیتے۔ اے کاش! کہ ہم اپنی اس روش کو ترک کر کے فکری اعتبار سے حالات اور واقعات کا جائزہ لیتے، مگر ہماری نس نس میں دوڑتا جذبات کا بحر ناکنار ہمیں اس چیز سے مانع ہے۔
اور آج ایک مرتبہ پھر ہمیں وہی دور اور حالات دیکھنے کو مل رہے ہیں، جہاں عقل مغلوب اور جذبات اس قدر غالب ہوچکے ہیں کہ فریق مخالف کے محض سیاسی اختلاف کی آڑ لے کر اس کا تمسخر اڑانے سے لیکر اس کی جان لینے تک کی حرمت مٹ چکی ہے۔ ہم نہ جانے کب اس بات کو سمجھیں گے کہ سیاست، شطرنج کی مانند وہ کھیل ہے جو جوش سے نہیں بلکہ ہوش سے کھیلا جاتا ہے۔ اس میں شخصی نہیں بلکہ نظریاتی اختلاف ہوتے ہیں۔ سیاست انسان کے زاویہ نگاہ کو وسیع اور عقل کو بسم اللہ کے گنبد سے آزاد کرتی ہے۔
اس میں ایک جماعت کے رہنما کو عقل کل سمجھنے کی بجائے، تمام امور پر مشاورت ہوتی ہے، جس میں مجموعی قومی مفاد کو مد نظر رکھ کر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب پنڈت جواہر لعل نہرو پہلی مرتبہ بطور وزیر اعظم امریکہ گئے تو امریکی صدر سے اپنی قوم کے لئے تعلیم کے پھیلاؤ، جدید زرعی آلات کی فراہمی اور تخفیف غربت کے لئے آواز بلند کی۔ مگر اس کے برعکس جب نوابزادہ لیاقت علی خان عازم سفر ہوئے، تو امریکی صدر سے صرف جنگی ہتھیار اور اسلحہ کی درخواست کر کے واپس آئے۔
لہذا جب رہنمایان قوم کا انداز سیاست اور مجموعی سوچ محبت کی بجائے نفرت کو پسند کرتی ہو، تو پھر دھرتی میں بھی نفرت کا بیج بویا جائے گا، اور اس سے کانٹوں کی فصل ہی کاٹی جائے گی۔ اور یہ بات بھی یاد رکھیے کہ محبت کا پودا پروان چڑھانے اور اس کی حفاظت کے لئے جان جوکھوں میں ڈالنی پڑتی ہے، مگر نفرت کا پودا اس جنگلی بوٹی کی طرح ہوتا ہے، جو ایک مرتبہ بیج ڈالنے کے بعد موسم کی شدت اور انسانی نگہداشت سے بے نیاز ہو کر مختصر عرصے میں جب اپنی جڑ پکڑ لیتا ہے تو پھر اس کے پھیلاؤ کو روکنا ناممکن ہوجاتا ہے۔
اور جہاں نفرت کا پودا جڑیں جما لے، وہاں محبت، احساس اور بے لوث خدمت جیسے نازک پودے مرجھا کر دم توڑ جایا کرتے ہیں۔ اور سیاست بھی حقیقی معنوں کے اندر احساس انسانیت اور بے لوث خدمت خلق کا نام ہے، جہاں ذاتی انا کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔ تاہم اگر کوئی سیاست کی آڑ لے کر اپنے شخصی احیاء کا پرچار اور اپنی ذاتی خواہشات کو قوم پہ زبردستی مسلط کرنے کی خواہش کا ادعا کرتا ہو، تو یقیناً وہ ایک فسطائی ہے جو عوام کے جذبات کو بہکا کر اپنی فسطائیت کو مسلط کرنے کی راہ ہموار کر رہا ہوتا ہے۔ مگر اس موقع پر ہم پہ فرض بنتا ہے کہ اپنے حواس کو قابو میں رکھیں ورنہ اس موقع پر ذرا سی بھی چوک ہو جانے کا مطلب اپنے اور اپنی قوم کے مجموعی مفاد کو زک پہنچا کر ایک تشدد پسند انسان کے ہاتھوں کو مضبوط کرنا ہے۔ اور تشدد سے ملک قائم نہیں رہتے بلکہ اکہتر کی طرح ٹوٹ جایا کرتے ہیں۔


