خواتین سیاستدان اور پسماندہ معاشرتی ذہنیت


ہمارے معاشرے میں خاتون کی عصمت کا اندازہ اس سے وابستہ رشتوں یا اس کے لیے تعین کردہ معاشرتی قیود سے لگایا جاتا ہے مگر جب کسی خاتون نے معاشرے کے بنائے گئے پسماندہ کلچر سے نکل کر گھر سے باہر اپنی پہچان بنائی تو تاریخ گواہ ہے کہ نام نہاد مردانگی کا ڈھول پیٹنے والے ہر اس شخص نے اس کا راستہ کاٹا جسے اپنی طاقت کھونے کا خوف لاحق ہوا۔ خواہ وہ جلتی دھوپ میں سڑک پر کھڑی کوئی مجبور عورت ہو یا پھر کوئی مشہور سیاستدان۔ گھروں کی خواتین کو تجوریوں میں چھپائے عزت دار مردوں نے اپنی طاقت کا روب اپنی محدود پہنچ تک ہر موقع پر بھرپور دکھایا ہے۔ سڑک پر چھیڑ خانی کرنے والوں کا زور جب سیاسی ایوانوں تک نہیں پہنچتا تو وہ عموماً سوشل میڈیا کا سہارا لیے اپنی پدرشاہی میں دھنسی ہوئی سوچ کا برملا اظہار کرتے ہیں۔

خواتین ہر پروفیشن کی طرح سیاست میں بھی ایک آسان ہدف ہیں اور اگر وہ گھر کی چوکھٹ پار کر کے خود مختار ہو جائے تو اسکی تمام ذاتی زندگی کو ایک پبلک پراپرٹی تصور کر لیا جاتا ہے پھر وہ کیا کھاتی ہے، کیا پہنتی ہے، اس کی قمیض کی لمبائی سے لے کر اس کی نجی زندگی میں ہونے والے اتار چڑھاؤ اور اس کے ساتھ کھڑے مردوں سے انداز بیاں سے اس کے کردار کا تعین عوام کی سوشل میڈیا پر لگی کھلی کچہری میں کیا جاتا ہے۔ کیا وہ ایک اچھی عورت ہے؟ یا اس کا کردار مشکوک ہے چلو آؤ آج اسے یہ والی گالی دے کر سوتے ہیں۔ ارے یہ والی نیوز اینکر ہمارے پسندیدہ لیڈر کے خلاف بولی، ضرور اس کے تعلقات مخالف پارٹی کے فلانے لیڈر سے ہیں، یہ تصویر ایڈٹ کر کے لگاؤ، آج بہت بوریت ہے چلو گالی ٹرینڈ شروع کریں، ہا ہا بہت تکلیف ہوئی ہو گی اور بہت تسکین ملی ہماری بلکتی انا کو ۔

سیاسی اور سماجی بصیرت خواہ کیسی بھی ہو مگر اپنے مقاصد کے حصول کے لیے خواتین کی کردار کشی کرنے کی صلاحیت تمام سیاسی جماعتوں میں مشترکہ پائی جاتی ہے۔ فاطمہ جناح جب تک بہن تھیں مقدس رہیں، جب سیاسی حریف بننے لگیں تو خطرہ لاحق ہو گیا۔ بے نظیر بیٹی تھی مگر جب جانشین بنیں تو عورت کی حکمرانی حرام ہو گئی۔ پیلی ٹیکسی اور ہیلی کاپٹر سے پھینکی گئی ڈاکٹرڈ تصاویر سے سب واقف ہیں۔ آؤ آج اس کو بھگوڑی کا خطاب دیں، بھاگ کے شادی کی تھی اور ایسے بہت سے القابات جنہیں ایک مہذب شخص قلمبند کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا نہ دہرا کر مزید معاشی تنزلی کا باعث بننا چاہتا ہے۔

افسوس کہ تبدیلی کا منشور لیے ایک مرتبہ پھر کل کے جلسے میں موجود چند نازیبا بینرز اور گزشتہ سوشل میڈیا ٹرینڈز نے یہ ثابت کیا کہ پورا سیاسی تالاب اخلاقی طور پر نہایت غلیظ ہے۔ شرم کا مقام تو یہ ہے کہ اس گندگی اور کر دار کشی کو پارٹی لیڈران کی جانب سے بھرپور حمایت حاصل ہے۔ نہ کسی لیڈر نے ان حرکات کا نوٹس لیا اور نہ ہی مذمت کی بلکہ کچھ نوجوان لیڈران نے پذیرائی کے طور پر غالباً خود ہی ایسی بوسیدہ روایت کو ہوا دی ہے۔

کوئی خاتون کیسے کسی مرد کی جگہ لے سکتی ہے؟ یہ ہضم کرنا اس طبقے کے لیے نہایت ناگزیر ہے جن کی نظر میں مرد حاکم اور عورت آج بھی محکوم ہے اور ان کا چشم تصور محض عورت کی نازک مزاجی سے لے کر اس کے جسم کے اتار چڑھاؤ پر ختم ہو جاتا ہے ۔ ان کی سوچ کی حدود ان کے عورت کے لے متعین معاشرتی کردار کی طرح محدود ہے۔ مگر جب اس نفیس جنس کی دبی آواز ایوانوں اور چوراہوں کو ہلاتی ہے تو پست قامت پدر شاہی کے نظام کی بنیادیں بھی دہل جاتی ہیں۔ اپنی طاقت کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے پڑھے لکھے افراد کردار کشی جیسے اوؔچھے ہتھکنڈے اپناتے ہیں۔

ایسے معاشرے میں عورت کو دوہری جنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ پروفیشنل معاملات کے ساتھ ساتھ ان غیر اخلاقی حملوں سے بھی بے تیغ لڑتی ہے۔ ان کے اثرات نہ صرف ذہنی دباؤ کا باعث بنتے ہیں بلکہ نجی زندگی میں بھی پیچیدگیاں پیدا کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کی ذاتی دلچسپیاں اور رنگ حریفوں کی چالبازیوں سے بچنے کے خاطر خاصے محدود ہو جاتے ہیں۔ میرے نزدیک ایسے پسماندہ ذاتی حملے بھی پدر شاہی نظام کے ٹھیکیداروں کی عورت کو اپنے برابری سے دور رکھنے کے لیے حکمت عملی ہے۔ مگر سیاسی اختلافات پس پشت یہ بات تو داد طلب ہے کہ ایسے اوؔچھے ہتھکنڈوں کے باوجود یہ مضبوط ترین اعصاب کی مالک تمام خواتین نہایت خوش اسلوبی سے نہ صرف اپنا مقام بنا چکی ہیں بلکہ اس معاشرے میں آنے والی مزید خواتین کے لیے بھی راہ ہموار کر رہیں ہیں۔

Facebook Comments HS