کلاس فور کی محبوبہ: ممتاز بخاری کا سندھی ناول


کتاب: کلاس فور کی محبوبہ (ناول)
مصنف: ممتاز بخاری
سندھی سے ترجمہ: سمیع کندھر
ناشر: سٹی بک پوائنٹ، کراچی
سن اشاعت: 2022

پاکستان کی کئی زبانوں میں ادب کی شاندار روایات موجود ہیں کیوں کہ ان تمام زبانوں کا ورثہ پاکستان بننے سے بھی قبل کئی صدیوں پر محیط ہے۔ تاہم پاکستان بننے کے بعد بنگالی کے بعد سندھی وہ زبان ہے جس میں نہ صرف زبان کے تحفظ کی تحریک عوامی سطح پر موجود رہی ہے بلکہ سندھی میں لکھے جانے والے ہمہ جہتی ادب کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ یہ اردو کے ساتھ ساتھ کئی بڑی زبانوں کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم سندھی سمیت پاکستان کی کئی زبانوں کا بڑا المیہ یہ ہے کہ ان زبانوں کا ادب ’جنگل میں مور ناچا، کس نے دیکھا‘ کی مانند دنیا تک تو کیا اپنے ہم وطنوں تک بھی بہت محدود انداز میں پہنچا ہے۔ بڑے بڑے ادبی اور ثقافتی ادارے بھاری بجٹ کے باوجود ادبی تراجم کو وہ اہمیت نہیں دے پائے جس کے وہ حامل ہیں۔ ادبی تراجم کا زیادہ تر کام ذاتی کاوشوں کا نتیجہ ہے اور ان کی اشاعت بھی زیادہ تر نجی اداروں کی جانب سے ہوتی رہی ہے۔

گزشتہ چند سالوں سے میری ذاتی خواہش اور کوشش رہی ہے کہ خاص طور پر سندھی ادب کو اردو سمیت دیگر زبانوں میں متعارف کروانے کی کوششوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جائے تاکہ سندھی ادب کے معیار اور مقدار کے بارے میں ملک کے دیگر قارئین بھی اپنی مستند رائے قائم کر سکیں۔ اس ضمن میں فکشن پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے کیوں کہ صوفی شاعری کی مضبوط روایت کے باعث سندھی شاعری تو کسی قدر باقی زبانوں کے ساتھ متعارف ہوتی رہی ہے لیکن فکشن زیادہ تر انداز ہی رہا ہے۔ ان ہی کوششوں میں ایک قابل قدر اضافہ حال ہی میں میرے دوست سمیع کندھر نے کیا ہے جس نے سندھی زبان کے ہمہ جہت فکشن نگار ممتاز بخاری کے ناول ’کلاس فور کی محبوبہ‘ کا اردو ترجمہ کر کے اردو کے قارئین تک پہنچانے کی جسارت کی۔

ممتاز بخاری نوے کی دہائی میں سندھی ادب کے افق پر رونما ہونے والے وہ ستارے ہیں جس نے اپنی بے پناہ محنت اور لگن سے کئی شعبوں میں نمایاں کارکردگی کی مثالیں قائم کی ہیں۔ افسانہ نویسی اور ادبی تحرک سے کیریئر کی شروعات کرنے والے ممتاز بخاری نے جب صحافت کی دہلیز پر پاؤں رکھا تو مجھ سمیت کئی دوستوں کا خیال تھا کہ باقی کئی ادیبوں کی طرح صحافت ان کی ادبی صلاحیتوں کو بھی نگل جائے گی۔ لیکن ممتاز بخاری نے مجھ سمیت کئی دوستوں کو نہ صرف غلط ثابت کیا بلکہ ہم سب کی توقعات سے کئی گنہ زیادہ ادبی کام کرتے آ رہے ہیں۔ گزشتہ کم سے کم تین دہائیوں سے ممتاز سندھی کے صف اول کے صحافی ہیں، ڈرامہ نگاری، ترجمہ نگاری، افسانہ نگاری اور تحقیق میں اپنا لوہا منوایا ہے اور صحیح معنوں میں ہمہ جہت ہونے کا ثبوت دیا۔ سندھی فکشن کے ساتھ ان کی انسیت نہ صرف فکشن نگار کی ہے لیکن اگر آپ لکھنے والے ہیں تو آپ کسی بھی محفل میں ان کی اس فرمائش اور سوال سے نہیں بچ سکتے کہ ’ناول کب لکھ رہے ہو؟‘ ۔ ناول کے ساتھ ان کی محبت کی ایک اور شاندار مثال سندھی ناول کی سو سالہ تاریخ پر ان کی تحقیقی کتاب ہے جس کو حال ہی میں اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے مرزا قلیچ بیگ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

زیرنظر ناول ’کلاس فور کی محبوبہ‘ ویسے تو ممتاز بخاری کا دوسرا ناول ہے کیوں کہ اس سے قبل وہ ادب کی ابتدائی دنوں میں ایک ناولٹ ’کھن پل جو چھانورو‘ پر اچھی پذیرائی حاصل کر چکے تھے لیکن ممتاز بخاری کی بطور نمایاں ناولسٹ پہچان اسی ناول ’کلاس فور کی محبوبہ‘ سے بنی۔ یہ ناول ریلوے کے کلاس فور کے ملازمین کے پس منظر اور پیش منظر اور ان کی زندگی سے منسلک کئی حالات و و واقعات کی دل سوز عکاسی پر مبنی ہے۔ جس تخلیقی صلاحیت، منظر نگاری اور احساس نگاری کے ساتھ ممتاز نے اس ناول کی کہانی کو آگے بڑھایا ہے، سندھی زبان مین محکوموں کے ادب میں اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ سندھی زبان کے معروف مصنف عبدالقادر جونیجو نے اسی ناول پر لکھتے ہوئے کہا تھا کہ ’ممتاز بخاری نے یہ ناول لکھ کر مجھے حیرت میں مبتلا کر دیا تھا، اگر یہ ناول انگریزی میں ترجمہ کیا جائے تو بلاشبہ عالمی سطح پر چھا سکتا ہے‘ ۔ عالمی سطح پر چھا جانے کے لئے تو شاید اس ناول کے انگریزی ترجمے کا انتظار کرنا ہو گا لیکن سمیع کندھر کی محنت اور لگن نے اسے اردو دنیا کے ساتھ متعارف کروا کر کوئی کارنامے سے کم کام نہیں کیا۔ سمیع کندھر سندھی زبان کے شاعر ہیں لیکن اردو کے لئے یہ ان کا پہلا تحفہ ہے۔ میں ناول کے پلاٹ اور تیکنیک کی تفصیل میں جا کر قارئین کے ذوق مطالعہ کو کسی طور pre-empt یا spoil نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ ضرور بتانا چاہوں گا کہ اردو کے ایک صف اول کے فکشن نگار مظہر الاسلام نے اس ناول کے بارے میں اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ممتاز بخاری کا یہ ناول حقیقی زندگی کی ایک ناقابل فراموش تصویر ہے۔ ممتاز بخاری نے پوری سچائی بیان کی ہے شاید اس لئے بھی کہ ممتاز بخاری فطری طور پر ایک حقیقت نگار ہے۔ اس ناول میں اس نے معاشرے کی ستم ظریفی کے بارے میں صرف بتایا ہی نہیں بلکہ اسے دکھایا بھی ہے۔

ہمارے ہاں ناولوں پر مبنی فلمیں بننے کا رجحان ابھی درکار تقویت حاصل نہیں کر سکا ہے ورنہ ممتاز نے جس انداز میں بقول مظہر السلام کے اس ناول میں حقیقت دکھانے کی کوشش کی ہے اس پر ایک شاہکار فلم بن سکتی ہے۔ کاش ہمارے ہاں مقامی مسائل پر لکھنے والوں کو اچھے مقامی فلم ساز بھی مل جائیں تو ہم اس طرح کے کئی ناولوں پر مبنی فلمیں بنا کر ایک اور شعبے میں دنیا یا کم از کم اپنے آس پاس کا بھرپور مقابلہ کر سکتے ہیں۔ مجھے انتظار رہے گا اس وقت کا جب سندھی سینما بحالی کی طرف جائے گا اور اس میں ’کلاس فور کی محبوبہ‘ جیسی فلمیں بننا شروع ہوں گی۔

ناول شائع ہونے کے چند ہی ہفتوں میں ناشر کی جانب سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق یہ فوری بک جانے والی کتابوں میں شامل ہو گیا۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ عالمی ادب کے تراجم کو بخوشی شائع کرنے والے ناشر جب کسی سندھی کتاب کو بے دلی سے شائع کر دیتے ہیں تو چند ہی ہفتوں میں انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ سندھی کتاب کے اردو ترجمے کو شائع کرنا بھی کوئی گھاٹے کا سودا نہیں۔ کتاب کی کامیابی کی ایک اور مثال یہ ہے کہ چند ہی ہفتوں میں سرحد پار سے بھی مصنف اور مترجم کے ساتھ رابطہ کیا گیا کہ اس کتاب کو وہاں بھی جلد ہی شائع کیا جائے گا۔

(نیاز ندیم، سندھی زبان کے شاعر، نثر نویس اور مترجم ہیں۔ ان کی شاعری اور مضامین سندھی، اردو اور انگریزی میں شائع ہو چکے ہیں۔ سندھی اور اردو میں ان کی تین کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے وہ ترقیاتی شعبے سے وابستہ ہیں۔ نیاز ندیم نے اپنے رضاکار ساتھیوں کے ساتھ مل کر انڈس کلچرل فورم کی بنیاد رکھی۔ پاکستان کی مادری زبانوں کا ادبی میلہ انڈس کلچرل فورم کی کلیدی پہچان ہے۔)

Facebook Comments HS