کراچی پولیس نے نکاح نامہ دیا ہے، دعا کاظمی کو تاحال تلاش کر رہے ہیں: لاہور پولیس
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور پولیس ڈاکٹر عابد خان کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس نے لاہور پولیس کے حکام کو دعا کاظمی کا نکاح نامہ فراہم کیا اور حکام نکاح نامہ پر موجود ایڈریس پر جا کر لڑکی کو تلاش کر رہے ہیں۔
تاہم مقامی میڈیا میں آنے والے اطلاعات کو رد کرتے ہوئے لاہور میں ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا تھا کہ دعا زہرہ کے پولیس کو ملنے کی خبروں میں صداقت نہیں ہے۔
کراچی کے علاقے الفلاح سے پندرہ روز قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والی دعا زہرہ کے حوالے سے لاہور پولیس کے ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر عابد خان نے کہا ہے کہ لڑکی کی بازیابی کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آئیں گے۔
ادھر بی بی سی اردو سے بات چیت کرتے ہوئے دعا کاظمی کے والد سید مہدی علی کاظمی کا کہنا تھا کہ تاحال پولیس یا کسی ادارے نے دعا کی بازیابی کے حوالے سے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔
دعا زہرہ کے لاپتہ ہونے کے بعد اب ان کا ایک مبینہ نکاح نامہ سامنے آیا ہے اور اس دستاویز میں بچی کی عمر 18 سال لکھی ہوئی ہے جبکہ دعا کے والد کا دعویٰ ہے کہ ان کی بیٹی کی عمر رواں ماہ کو چودہ سال ہو گی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل کراچی پولیس کی جانب سے یہ اطلاع دی گئی تھی کہ دعا زہرہ کو لاہور سے بازیاب کروا لیا گیا ہے۔
اُس وقت سندھ پولیس کے اعلیٰ افسر ڈپٹی انسپکٹر جنرل کریمنل انویسٹی گیشن ایجنسی کریم خان نے بی بی سی اُردو کو بتایا تھا کہ دعا زہرہ اپنی مرضی سے گئی تھیں، انھیں اغوا نہیں کیا گیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ دعا کاظمی کو لاہور سے تلاش کر لیا گیا ہے اور تاحال وہ لاہور پولیس کی حفاظتی تحویل میں ہیں اور جلد انھیں کراچی پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔
‘پولیس جلسے میں مصروف تھی‘
کراچی کے علاقے نمائش چورنگی پر ماہِ رمضان میں فلاحی تنظیم جعفریہ ڈزاسٹر سیل کی جانب سے روزہ داروں کے لیے سحری اور افطاری کا بندوبست کیا جاتا ہے۔ ادارہے کے سربراہ ظفر عباس نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس شب وہ لوگوں کو سحری کرانے کے بعد بیٹھے تھے کہ دعا کاظمی کے والد سید مہدی علی کاظمی، ان کی والدہ اور خالہ آئیں اور بتایا کہ ان کی بیٹی لاپتہ ہے لیکن پولیس ان کی نہیں سن رہی اور کہہ رہی ہے کہ وہ پاکستان تحریکِ انصاف کے جلسے میں مصروف ہے۔
اس کے بعد ظفر عباس نے لڑکی کے والد کے ساتھ ایک ویڈیو بنائی جس میں آئی جی سندھ، ڈی جی رینجرز اور دیگر حکام سے اپیل کی گئی اور کہا گیا کہ آپ بھی بیٹی والے ہوں گے، ان کا درد محسوس کریں جس کے بعد یہ ویڈیو وائرل ہو گئی اور حکام نے نوٹس لے لیا۔
’دعا کچرا پھینکنے گئی تھیں‘
سید مہدی علی گولڈن ٹاؤن کورنگی کے رہائشی ہیں، وہ آئی ٹی کے شعبے سے منسلک ہیں اور گھر سے ہی کام کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا تھا کہ ’ان کی 14 سالہ بیٹی دعا دوپہر کو تقریباً 12 بجے کے قریب کچرا پھینکنے نیچے گلی میں گئی تھیں جہاں سے لاپتہ ہو گئیں۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ ’ہم نے وہاں پڑوسیوں سے معلوم کیا لیکن اسے کسی نے نہیں دیکھا تھا، جو وہاں دو کیمرے لگے ہوئے ہیں اس میں بھی کوئی نظر نہیں آ رہا تھا، پولیس اور ہمیں ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔
مہدی کاظمی کی تین بیٹیاں ہیں جن میں دعا سب سے بڑی تھیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کورونا کے بعد انھوں نے دعا کو سکول نہیں بھیجا اور سوچا کہ ویکسین کروانے کے بعد بھیجیں گے لیکن یہ ممکن نہیں ہوا۔
تین تحقیقاتی ٹیمیں
یہ واقعہ کراچی کے الفلاح تھانے کی حدود میں پیش آیا اور مہدی کاظمی کے مطابق اس سے قبل تو پولیس ان کی بات سننے کو تیار نہیں تھی تاہم اب رینجرز، انٹیلیجنس سمیت تمام ادارے متحرک ہیں اور یہ سب اس وقت ممکن ہوا جب ظفر عباس کی ویڈیو وائرل ہوئی۔
انھوں نے کہا کہ ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن اور دیگر حکام مہدی کاظمی کے گھر پر گئے اور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ پولیس پر اعتماد کا فقدان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ یہ پولیس کا عدم تعاون ہے بلکہ ’یہ ایک فطری عمل ہے کہ ایسے کیسز میں فیملی اور والدین تو یہی چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ جلد از جلد واپس آئے لیکن پولیس اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
’اس وقت تین ٹیمیں کام کر رہی ہیں اس کے علاوہ ایس ایس پی ’اینٹی وائلنٹ کرائم سیل‘ اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
دعا منگی اغوا کیس: سوشل میڈیا سہارا ہے یا رکاوٹ؟
’دعا منگی کے لباس و انداز سے غلط فہمی ہوئی‘
افغانستان میں اغوا: ’اغوا کاروں نے سمجھا میں جاسوس ہوں‘
’ہم مشکل وقت میں مدد کرنے کے بجائے ویڈیو بنانے کو ترجیح کیوں دیتے ہیں؟‘
تاوان اور نشاندہی
مہدی کاظمی نے بتایا کہ انھیں واٹس ایپ پر دو پیغام آئے تھے جن میں تاوان طلب کیا گیا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ان کی دعا سے بات کروائی جائے تاکہ انھیں یقین ہو کہ بچی ان کے پاس ہی ہے لیکن اس کے بعد سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔
جے ڈی سی کے ظفر عباس نے بتایا کہ والدین کو گمراہ کن اطلاعات اور بلیک میلنگ کے ذریعے تنگ کیا جا رہا ہے، ان کے پاس بھی حیدرآباد سے کال آئی تھی اس شخص نے بتایا کہ انھیں پتہ ہے کہ لڑکی کہاں ہے؟
انھوں نے اس کو والد کا نمبر دیا کہ انھیں بتاؤ، پولیس نے اس کی نشاندہی پر سانگھڑ میں چھاپہ مارا اور وہاں سے ایک 14، 15 سالہ لڑکی کو بازیاب کیا گیا وہ لڑکی بھی کراچی کی ہی تھی لیکن وہ دعا کاظمی نہیں تھی۔
مہدی کاظمی کے مطابق انھیں کچھ پڑوسیوں پر شبہ ہے جس کے بارے میں انھوں نے پولیس کو آگاہ کیا ہے۔ انھیں یقین ہے کہ ان کی بچی جلد بازیاب ہو جائے گی، باوجود اس کے وہ کئی خدشات میں مبتلا ہیں۔


