عمران خان صاحب کی پیش گوئیاں

کل سوشل میڈیا پر عمران خان صاحب کے ایک مداح نے ان کی تصویر کے ساتھ غالب کا یہ شعر لکھا۔
دیکھیو غالب سے گر الجھا کوئی
ہے ولی پوشیدہ اور کافر کھلا
بہت سے دوستوں کی طرح ہمیں بھی یہ شعر بر محل لگا۔ لیکن اس کی وجوہات ادبی سے زیادہ ”روحانی“ تھیں۔
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ خان صاحب جب بھی اپوزیشن میں ہوتے ہیں ہمیں ایک ”پوشیدہ ولی“ ہی لگتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ جب وہ حکومت میں تھے تو ہمارے نزدیک ”کھلے کافر“ تھے۔ انھیں ”کھلا کافر“ کہنے کی جسارت تو صرف مریم اورنگزیب صاحبہ ہی کر سکتی ہیں جس کی وہ تنخواہ لے رہی ہیں۔ ہم نے تو ان کے اپوزیشن میں ہونے کی قید صرف اور صرف اس لیے لگائی ہے کہ ہماری دانست میں ان کے ”روحانی جوہر“ صرف اور صرف اسی وقت کھلتے ہیں جب وہ حکومت سے باہر ہوتے ہیں۔ کم از کم گزشتہ دس بارہ برسوں کا تجربہ ہمیں یہی سکھاتا ہے۔
اگر چہ خان صاحب تفنن طبع کے لیے بسا اوقات روحانیت کو روحونیت بھی کہہ جاتے ہیں لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ انھیں روحانیت یا رعونت سے کوئی لگاؤ نہیں۔ ان کے بقول انھیں پہلا روحانی تجربہ چودہ سال کی عمر میں ہوا تھا جس کا ذکر ان کی خود نوشت ”میں اور میرا پاکستان“ میں بھی موجود ہے۔ ان کی خود نوشت میں بعض روحانی شخصیات سے ملاقاتوں کا احوال بھی درج ہے جن میں بابا چالا اور میاں محمد بشیر کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ تاہم ہمیں حیرت ہے کہ انھوں نے پروفیسر احمد رفیق اختر کا کہیں ذکر نہیں کیا جن سے انھوں نے خاصا ”فیض“ سمیٹا۔ شاید یہ کتاب لکھنے تک دونوں کے تعلقات روحانی کسی مادی مسئلے کی نذر ہو چکے تھے۔
دروغ بر گردن ”صحافی“ بشری بی بی سے ان کا تعلق بھی ابتدا میں روحانی ہی تھا جو بعد میں ان کی شادی پر منتج ہوا۔ مجاز سے حقیقت کی طرف سفر کی داستانوں سے تو ہمارے اولیا کے ملفوظات بھرے ہوئے ہیں لیکن حقیقت سے مجاز کی طرف سفر کی ہم نے یہ پہلی مثال دیکھی ہے۔
روحانیت کی ایک خاصیت یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ یہ انسان کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کر کے اسے مستقبل بیں بنا دیتی ہے اور وہ آئندہ پیش آنے والے واقعات کو پہلے ہی سے جان جاتا ہے۔
لگتا ہے کہ حکومتی ایوانوں سے نکلتے ہی ان کی پیش بینی کی وہ صلاحیت، جو گزشتہ ساڑھے تین برسوں سے خوابیدہ تھی، دوبارہ بیدار ہو گئی ہے۔ اس صلاحیت نے انھیں ان واقعات کی خبریں دینا شروع کر دی ہیں جنھیں عنقریب رونما ہونا ہے۔ سو ان کی پیش گوئیوں کا ایک مرتبہ پھر چرچا ہونا، کوئی انہونی نہیں ہے۔
گزشتہ دنوں کراچی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے پیش گوئی کی کہ ”شہباز حکومت ان کے خلاف انتقامی کارروائی کرے گی۔“ ان کے بقول ”یہ لوگ نیب اور ایف آئی اے میں میرے خلاف کیسز بنائیں گے۔“ انھوں نے یہ بھی پیش گوئی کی کہ ”مجھ پر ممنوعہ فنڈنگ کیس ڈالا گیا ہے تا کہ مجھے کھیل سے باہر کیا جا سکے۔“
ان پیش گوئیوں کے بعد جلسے میں موجود ان کے لاکھوں ارادت مندوں نے ”مرد حق، مرد غازی۔ عمران نیازی، عمران نیازی“ کے نعرے لگا کر ان سے اپنی ”عقیدت“ کا اظہار کیا۔
ہمارے خیال میں عمران خان صاحب سے پہلے حضرت نعمت اللہ شاہ ولی ہی وہ واحد شخصیت تھے جن کی ہمارے خطے اور اس کی صورت حال کے حوالے سے کی جانے والی پیش گوئیاں (بقول شخصے ) حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئیں۔ حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انھوں نے صدیوں بعد پیدا ہونے والے لوگوں کے نام تک اپنے قصائد میں لکھ دیے تھے۔
نعمت اللہ شاہ ولی نے اپنی پیش گوئیوں کے لیے شاعری کا سہارا لیا اور شاعری میں بھی قصیدے کی صنف کا۔ ان کے دو قصائد بہت مشہور ہیں، جن میں سے پہلے قصیدے کی ردیف می بینم ہے اور دوسرے کی پیدا شود۔ اگرچہ مختلف ویب گاہوں پر ان کے یہ قصائد موجود ہیں اور ہم نے بھی فارسی میں منہ مارنے کی کوشش کی ہے لیکن ہماری فارسی کا حال ”زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم“ جیسا ہے اور ان قصائد کو پڑھتے ہوئے ہمیں ”گویم مشکل وگرنہ گویم مشکل“ جیسی صورت حال کا سامنا رہا ہے اس لیے ان پیش گوئیوں کی تفصیلات جاننے کے لیے ہمیں جناب جاوید چوہدری، ڈاکٹر شاہد مسعود اور جناب مبشر لقمان کے کالموں اور گفتگوؤں کا سہارا لینا پڑا۔
حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کے برعکس ہمارے ممدوح قبلہ ءپاکستان جناب عمران خان مدظلہ علیہ نے نہ تو اپنی پیش گوئیوں کے لیے فارسی زبان کا سہارا لیا اور نہ ہی قصیدے جیسی متروک صنف کا، جسے اب شعرا بھی گھاس نہیں ڈالتے۔ اگرچہ ان کی گفتگو میں ایک شاعرانہ تعلی موجود ہے لیکن اسے قصیدے سے ہرگز تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ان کی تقریروں میں سادہ کاری کے جو نمونے ملتے ہیں وہ ”پرکاری“ کی حدود کو چھوتے نظر آتے ہیں، جس کی وجہ سے بعض ناقدین سیاست انھیں ”ہجو ملیح“ قرار دے رہے ہیں۔
حضرت نعمت اللہ شاہ ولی کی پیش گوئیاں ان کی وفات کے صدیوں بعد پوری ہوئیں۔ اور یہ بات بعید از امکان نہیں کہ جس وقت وہ یہ پیش گوئیاں کر رہے ہوں گے ان کے بیشتر معاصرین انھیں بے پرکی اڑانے والا سمجھ رہے ہوں گے۔ لیکن ہمارے ممدوح کی طرف سے کی گئی پیش گوئیوں کے پورا ہونے کا یقین ہم جیسے ان کے ارادت مندوں ہی کو نہیں میاں شہباز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان جیسے ان کے بدترین مخالفوں کو بھی ہے۔ یہی نہیں ان کے یہ مخالفین ان پیش گوئیوں کو پورا کرنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں اور اب ہمارا گمان یہ ہے کہ ان کی اپنے بارے میں کی گئی یہ ساری کی ساری پیش گوئیاں اگلے چند ہفتوں میں پوری ہونے والی ہیں۔
خان صاحب کی ان پیش گوئیوں کی جڑیں صرف روحانیت ہی میں نہیں ہماری سیاسی تاریخ میں بھی بہت گہری ہیں اور ہم سب جانتے ہیں کہ ہماری سیاسی تاریخ کو جتنا خان صاحب جانتے ہیں اتنا خود ہماری سیاسی تاریخ بھی نہیں جانتی۔
تاریخ بتاتی ہے کہ ابھی چند سال پہلے جب وہ کنٹینر پر سوار تھے اور پرانا پاکستان توڑ کر نیا پاکستان بنانے کی تیاریاں کر رہے تھے تو بھی انھوں نے ”عالم جذب“ میں کئی پیش گوئیاں کیں تھیں جن میں سے ان کے کام کی تو حرف بہ حرف پوری ہوئیں لیکن وہ تمام پیش گوئیاں جو ہم جیسے ارادت مندوں کے لیے تھیں، انھیں کسی ”مادی“ طاقت نے آج تک روک رکھا ہے۔ مثلاً انھوں نے امپائر کی انگلی اٹھنے کی جو پیش گوئی کی تھی وہ 2018 کے الیکشن میں آر ٹی ایس کے بیٹھنے کی صورت میں حرف بہ حرف پوری ہوئی۔ لیکن پچاس لاکھ گھروں اور ایک کروڑ نوکریوں وغیرہ جیسی درجنوں پیش گوئیاں تاحال پردۂ غیب میں ہیں اور اب تو مستقبل بعید میں بھی ان کے ”ظاہر“ ہونے کے امکانات نظر نہیں آتے۔
اس کی روحانی وجوہات کیا ہیں؟ اس کے بارے میں وہ خود یا ان کا کوئی ”مرد قلندر“ ہی بتا سکتا ہے کہ ہم نہ تو حضرت قبلہ عالم فواد چوہدری کی طرح ”اک مرد قلندر ہمہ اوصاف یگانہ“ ہیں، نہ اعلیٰ حضرت فیاض الحسن چوہان کی طرح ”وہ تیر کماں دار کہ لاہوت نشانہ“ اور نہ ہی مجاہد ملت حضرت شہباز گل کہ ”شہباز قلندر جنھیں کہتا ہے زمانہ“ ۔
ہم تو ان کے لاکھوں ارادت مندوں کی طرح ایک سیدھے سادے ارادت مند ہیں جو صرف اتنا جانتے ہیں کہ ”مشکل ہے قلندر کے مقامات کو پانا۔“
قلندروں کے مقامات کی قلندر جانیں ہم بس اتنا ہی بتا سکتے ہیں کہ ان روحانی وجوہات کی تہہ تک پہنچنے کے رستے میں دوچار سخت مقامات آتے ہیں جن سے ہم دوچار نہیں ہونا چاہتے۔

