اتوار بازار اور انصاف


اتوار بازار وہ واحد بازار ہے جہاں عوام کے لئے ہر قسم کے اشیا کم قیمت میں میسر ہوتی ہیں جس وجہ سے عوام اس بازار کے لگنے کا انتظار بے صبری سے کرتے ہیں تاکہ من پسند چیزیں موزوں قیمت میں حاصل کر سکیں۔ نہ صرف غریب بلکہ صاحب استطاعت لوگ، چھوٹے اور بڑے سب طبیعت کے مطابق مال لیتے ہیں۔ ایک عام تصور یہ بھی ہے کہ معاشی طور پر مضبوط عوام اکثر اس سستی بازار کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہے کہ ان بازاروں میں جانا ان کی اپنی شان میں گستاخی جیسا عمل ہے لیکن حیلے بہانے سے اس بازار میں ان کا بھی آنا جانا معمول کی بات ہے جہاں غریب ہوتے ہیں۔ ایک عوامی رائے شماری کے مطابق بازار کے بارے میں یہ خبر ملی ہے کہ کم آمدنی رکھنے والوں کا رجحان ان بازاروں کی طرف امیروں کی نسبت زیادہ ہے۔

جہاں ایک طرف غریب کے لیے اتوار بازار ہے وہاں ملک کے بیشتر حصوں میں یعنی اسلام آباد، پشاور، بلوچستان اور سندھ میں ایک ایک بازار امیروں کے لیے بھی ہے۔ ان چھوٹے بازاروں کے علاوہ ایک اتوار بازار علیحدہ سے دارالحکومت اسلام آباد میں موجود ہے۔ اس کے الگ سے موجود ہونے کے پیچھے کوئی بیرونی سازش نہیں ہے بلکہ اس کی موجودگی اس بات کی یقین دہانی کرواتی ہے کہ حسب ضرورت چیزوں کی عدم فراوانی کی صورت میں اس کے پاس پہنچا جا سکے۔ یعنی بازار/مارکیٹ کے دو سطحیں ہیں۔ ایک اعلی ہے اور دوسری نچلی سطح کی مارکیٹ۔ امیروں کے ان بازاروں میں غریبوں کی نسبت الگ دام اور طریقے پائے جاتے ہیں۔ اس بازار کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ زیادہ قیمت پر آمادہ ہونے والوں کے ساتھ مکمل انصاف اس طرح کیا جائے کہ لوگوں میں مقابلے کا رجحان زور پکڑے نیز ان کی کشادہ دلی کے عوض ہر چیز پائیدار اور طبیعت کے مطابق دیا جاتا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ کوئی عام غریب آدمی جس کا مقصد دو وقت کی روٹی سے ہے اسے کیا پتہ کہ آئین میں کون سے آرٹیکلز ہے جن کی خلاف ورزی ہوئی؟ کیوں قانون عام و خاص کی دسترس میں نہیں؟ کیا یہ سازش نہیں کہ آئین کو بنایا ہی مشکل اس لیے کہ کوئی نہ سمجھ پائے؟ عام بندے کے لیے یہ بھی اہمیت نہیں رکھتا کہ ملک میں کون سچا کون جھوٹا ہے۔ کس حکومتی ادارے کے کون سے حقوق سلب کیے گئے، ان سب سے ایک عام شہری لا تعلق ہے کیونکہ اس اپنے ہی حقوق کا رونا دھونا ہے۔ دستور میں اتنا طاقت نہیں کہ کمزور کو، اقلیت کو حفاظت دے سکے۔ بیوہ عورت، یتیم اولاد، بے گناہ ملزم اور بے اولاد والدین کا دیکھ بال اگر آئین پاکستان نہیں کر سکتا تو اس کو اہمیت دینے والے شوق سے دیتے رہے مگر بنیادی حقوق سے محروم ہر طبقہ حقوق کا جنگ جاری رکھیں گے۔ اسی دستور کہ جس کی بالادستی کے لیے اندھیری رات جنگ لڑی گئی اسی میں مجھ سمیت تمام شہریوں کے حقوق ہے پھر ان کی پاسداری کوئی کیوں نہیں کرتا؟ آرٹیکل 8 سے 28 تک سارے حقوق سلب ہیں تو مزید کیا منطق ہے اس دستور کی فضیلت میں؟ بے بس عوام کے لیے قانون اور آئین خواص کے اشاروں پہ لکھا گیا وہ مرثیہ ہے جو صرف ان کی وفات پر پڑھا جائے گا۔

ملک کے سپریم کورٹ میں اس وقت 54 ہزار مقدمات زیر التوا ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں 16 ہزار، سندھ ہائی کورٹ میں 83150، پشاور ہائیکورٹ میں 36648 اور لاہور ہائی کورٹ میں سب سے زیادہ 193030 زیر سماعت کیسز موجود ہیں۔ یہ وہ مقد مے ہیں جن کا فیصلہ ہو گا یا نہیں کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے۔ معزز ججز کے پاس جادوئی چھڑی از خود نوٹس کی صورت میں موجود ہے جو با اثر اور بے ادب لوگ فریقین بننے پر استعمال کرتے ہے جبکہ لاکھوں معصوموں کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ میرے محدود علم کے مطابق دنیا میں صرف دو ہی ملک ایسے ہیں جن کے پاس از خود نوٹس والا جن یا چھڑی ہے۔ ایک پاکستان اور دوسرا روایتی حریف ہندوستان۔ اسی ہفتے کی بات ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں قتل ہونے والی خاتون کی بیٹی لاہور ہائیکورٹ میں مسلسل گھنٹوں انتظار کرتی رہی کہ محترم جسٹس سے مل پائے مگر مل نہ سکی۔ یہ وہی کورٹ تھی جس نے چھٹی والے دن بھی حمزہ شہباز کو انصاف فراہم کیا تھا۔ عدلیہ کا ماضی بھی تاریک اور حال بھی شکوک و شبہات سے بھرا پڑا ہے۔

اگر ادارے اعتماد کھوتے گئے تو ریاست میں نظام درہم برہم ہونے کے خدشات زیادہ ہے۔ حالات و واقعات کے تناظر میں ہر شعور رکھنے والا عدلیہ اور دوسرے اداروں سے مطالبہ کرتا ہے اپنے کردار کا بھی از خود نوٹس لیتے ہوئے قانونی حدود میں ملکی مفاد کی خاطر کام کرے۔

 

Facebook Comments HS