دعا زہرا کیس: کیا آپ بھی میری طرح سوچتے ہیں؟
میں سوچ رہا تھا کہ کیا کورٹ میرج کے بغیر خواتین کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکتا ہے؟ دعا زہرا اور اس طرح کے متعدد کیسز سے ظاہر ہوتا ہے کہ قانون کی بالادستی کی وجہ سے عدالتوں اور پولیس کو نہ چاہتے ہوئے بھی ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنا پڑتی ہے۔ اسلام عورت کے حقوق کا داعی ہے اور اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ عورت سے خاوند کے انتخاب کا حق چھین لیا جائے، زبردستی کے نکاح کو اسلام کالعدم قرار دیتا ہے۔
اسلام میں والدین کو اولاد کا ولی یعنی سرپرست قراردیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی اولاد کے حقوق کا تحفظ کریں لیکن بعض دفعہ ولی یعنی سرپرست حقوق کے تحفظ کے بجائے خود حق تلفی کرنے لگ جاتا ہے، ایسی صورت میں عورت کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنا سرپرست سلطان/ریاست کو بنا لے، موجودہ ایڈمنسٹریشن میں عدالت کو عورت کا متبادل ولی قرار دیا گیا ہے۔
موجودہ نظام میں اس حوالہ سے ایک خامی ہے کہ سرپرست یعنی ریاست /عدالت سرپرستی کا حق ادا نہیں کرتی، سرپرست پر لازم ہے کہ وہ اپنی تو لیت میں آنے والوں کے درست اور غلط فیصلوں کا بھی جائزہ لے اور جو کام ان کے مفاد میں نہیں اس سے انہیں روکے۔ موجودہ نظام میں اگر عمر کے اعتبار سے بالغ عورت عدالت سے رجوع کرے تو اس کے بیانات لے کر نکاح پڑھا دیا جاتا ہے، درمیان میں کوئی ایسا فورم موجود نہیں جو عورت کے حقوق کے تحفظ اور فلاح کے لیے فوائد اور مفسدات کا جائزہ لے۔ کیا عدالت (سرپرست) کو کوئی فیصلہ لیتے وقت سوچنا نہیں چاہیے کہ:
کیا عورت عمر کے اعتبار سے بالغ ہے؟ کیا عورت عمر کے ساتھ ساتھ ذہنی اعتبار سے بھی بالغ ہے؟ کیا واقعی والدین اس کی حق تلفی کر رہے ہیں؟
عورت جس سے نکاح کر رہی ہے وہ اس قابل ہے کہ اس کے حقوق کا تحفظ کرسکے گا؟ ان سب سوالوں کی جانچ کے لیے اور مرضی سے نکاح کے خواہشمندوں کو والدین و عدالت سے نظرثانی کے لیے موقعہ ملنا چاہیے۔ درمیان میں ایک فورم ایسا ہونا چاہیے جو کورٹ میرج سے قبل حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سمت کو بھی درست کردے۔
عورت کے حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن ریاست پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ اس اقدام کے منطقی نتائج کو بھی سامنے رکھے، اکثر لڑکیاں نادانی، کم فہمی، جذبات اور محبت میں اقدام اٹھاتی ہیں بعد ازیں ساری زندگی پچھتاتی ہیں، کورٹ میرج کے تمام کیسز میں لازمی نہیں کہ عورت پر ظلم کیا جا رہا ہو۔ اس لیے کورٹ میں شادی سے قبل فورم کی شکل وضع کرنی چاہے جو معاملات کی چھان بن کرے، لڑکی کے سامنے معروضی حالات اور نتائج رکھے، اس کے بعد اگر اس کا تقاضا درست ہے تو کورٹ میرج کی اجازت دی جائے یا والدین کو بچوں کے مفاد میں قانونی طاقت سے راضی کیا جائے۔
دعا زہرا کیس میں دعا، دعا کے والدین اور پولیس کے بیانات کے تناظر میں درج ذیل حقائق درست معلوم ہوئے ہیں :
دعا زہرا کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے، اٹھارہ سال تو ان کے والدین کی شادی کو بھی نہیں ہوئے۔
لڑکی کے بقول اس کے والد اس کی شادی اس کے کزن سے کرنا چاہتے تھے مگر وہ راضی نہیں تھی۔
وہ عمر کے اعتبار سے بالغ نہیں ہے۔
نکاح خواں نے اس کی عمر تقریباً اٹھارہ سال لکھی۔
شناختی کارڈ یا بے فارم کو بنیاد نہیں بنایا گیا۔
عدالت نے ان کے نکاح کی توثیق کی یہ جانتے ہوئے بھی کہ لڑکی کی عمر کم ہے۔ سندھ میں شادی کے لیے لڑکی کی کم سے کم عمر 18 اور پنجاب میں سولہ سال مقرر کی ہے، اس کیس میں سسٹم نے قانونی تقاضوں کو نظر انداز کر کے ان کے نکاح کی توثیق کی۔ ایسے تمام کیسز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انسانی حقوق کے اداروں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں، ایسے کیسز میں والدین اور بچوں میں سلجھاؤ کا موقعہ دینا چاہیے تھا، اس مقصد کے لیے فضا پیدا کرنا ریاست (سرپرست) کا کام تھا کیونکہ معلومات کے مطابق ابھی ذہنی و جسمانی طور پر وہ اتنی بالغ نہیں کہ اپنے مستقبل سے متعلق بالغ فیصلے کرسکے۔


