پسند کی شادی اور والدین کا رویہ


آج بھی جبکہ معاشرہ بہت ترقی کر گیا ہے والدین اولاد کو اپنی مرضی کے مطابق چلانا چاہتے ہیں۔ تعلیم سے لے کر شادی بیاہ تک والدین اپنی مرضی اور خواہشات کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ اگر بیٹا اور بیٹی ڈاکٹر نہیں بننا چاہ رہے لیکن والدین کا زور ہوتا ہے کہ انہیں ڈاکٹر ہی بننا ہے گویا ڈاکٹری کی ڈگری ان کے بچے کو نہیں خود انہیں ہی ملے گی۔ صرف معاشرے میں اپنا سر اونچا رکھنے کے لیے اپنے بچوں کی خواہشات کا قتل کرتے ہیں اور جو بات نہ مانے وہ نافرمان، دنیا اور آخرت میں سزا کا مستحق۔ خاص طور پر شادی بیاہ کے معاملات میں لڑکے کے لیے دلہن اور لڑکی کے لیے دلہا خود منتخب کرنا ان کے والدین ہونے کا سب سے بڑا حق ہے جس کے بغیر منصب والدین ادھورا رہ جاتا ہے۔ لڑکوں کو تو پھر بھی اپنی پسند کے اظہار کا موقع مل جاتا ہے لیکن بے چاری لڑکیاں اس معاملے میں بہت بدنصیب ہیں۔ جبکہ اپنی پسند کی شادی کا حق تو ہمارا مذہب بھی دیتا ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی علیہ و آلہ و سلم کو اپنا شریک حیات بنانے کے لیے پسند فرمایا اور رشتہ بھیجا۔ ہمارا مذہب مذہب فطرت ہے اور کسی کو اپنے شریک حیات کے طور پر پسند کرنا عین فطرت ہے۔

آج کل دعا زہرا اور نمرہ ندیم کا کیس میڈیا میں کافی مشہور ہے۔ شروع میں والدین کا دعویٰ تھا کہ انہیں اغوا کیا گیا ہے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ اپنی مرضی سے گئیں تھیں ان کے والدین ان کی شادی وہاں کرانا چاہتے تھے جہاں وہ نہیں چاہتی تھیں۔ ظاہر ہے معاملہ پوری زندگی کا تھا کچھ گھنٹوں کی تو بات نہ تھی ایک انسان پوری زندگی ان چاہے شخص کے ساتھ کیسے گزار سکتا ہے۔ جب ان دونوں لڑکیوں کے نکاح نامے منظرعام پر آئے تو کسی نے والدین کی تربیت پر انگلی اٹھائی تو کسی نے نئی نسل کو برا بھلا کہا۔ جبکہ نہ والدین کی تربیت بری ہے نہ آج کل کی نئی نسل۔ برائی صرف یہ ہے کہ والدین اپنے حقوق کی حدود سے واقف نہیں اور آج کل کی نسل اب اپنے حقوق سے بخوبی واقف ہے۔

بچوں کی شادی ان کی مرضی کے مطابق کرنے میں آخر کیا قباحت ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ پسند کی شادیاں ناکام ہوجاتی ہیں۔ لیکن ناکام تو ارینج میرج بھی ہوجاتی ہیں۔ جبکہ پسند کی شادی میں والدین کے لئے فائدہ ہے۔ اگر بچے خوش رہیں گے تو ہمیشہ والدین کے ممنون رہیں گے اور اگر خدانخواستہ کوئی اونچ نیچ ہوتی ہے تو والدین کو ذم دار نہیں ٹھہرا سکتے اور نہ والدین کو احساس جرم ہو گا کہ ان کی وجہ سے ان کی اولاد کی زندگی تباہ ہوئی۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ جب کوئی لڑکا یا لڑکی اپنی پسند کے شریک حیات کا انتخاب کرے تو تحمل کا مظاہرہ کریں۔ منتخب شخص کے بارے میں تحقیقات کریں اور جو کوئی اچھائی برائی سامنے آئے اس سے اپنے بیٹے یا بیٹی کو آگاہ کر دیں اور فیصلہ انھیں پر چھوڑ دیں۔ جو بھی وہ فیصلہ کریں بخوشی قبول کر لیں۔ اگر وہ نابالغ ہیں تو منگنی کرا کر انھیں یہ اطمینان دلا دیں کہ ان کی شادی ان کی مرضی سے ہی ہوگی اس طرح نہ وہ کوئی انتہائی قدم اٹھائیں گے اور نہ والدین کو شرمندہ ہونا پڑے گا کیوں کے والدین کی خوشی اولاد کی خوشی میں ہی ہے۔ آج کل جو بچیوں کو جذباتی بلیک میل کر کے یا جسمانی تشدد کر کے زبردستی ایسے شخص کے ساتھ شادی کرنے پر راضی کرنا جس کو وہ پسند نہیں کرتی یا اس کو شوہر کے طور پر قبول کرنا نہیں چاہتی شرعاً اور قانوناً جرم ہے۔

والدین سمجھ لیتے ہیں کہ اگر ابھی لڑکے یا لڑکی کی زبردستی شادی کر دی جائے تو بعد میں خود ہی محبت ہو جائے گی اور سب صحیح ہو جائے گا جبکہ ایسا نہیں ہوتا۔ زبردستی کی شادی کا نتیجہ اس اقدام سے کہیں زیادہ برا ہوتا ہے جو دعا زہرا اور نمرہ ندیم نے اٹھایا۔ اس سے صرف ایک زندگی نہیں بلکہ کئی زندگیاں متاثر ہوتی ہیں جب لڑکوں کی ایسی جگہ شادی کردی جاتی ہے جہاں وہ راضی نہیں تھے تو وہ ان چاہی بیوی کو وہ مقام نہیں دے پاتے جو اس کا حق ہے وہ ہر وقت تناؤ کا شکار رہتے ہیں اور گھر سے باہر سکون تلاش کرتے ہیں اور دوسری عورتوں سے تعلقات بڑھاتے ہیں اور ان سب کے ذمہ دار وہ والدین ہوتے ہیں جو اپنی جھوٹی آنا کی خاطر اور خاندان میں اپنی ناک اونچی رکھنے کے لئے اپنے بچوں کی خواہشات قربان کر دیتے ہیں اسی طرح جب کوئی بھی لڑکی شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے والدین کی خواہش پر قربان تو ہوجاتی ہے لیکن یہ قربانی اسے ہر دن دینی پڑتی ہے۔ نہ وہ خاوند کو خوش رکھ پاتی ہے اور نہ بچوں کی بہتر تربیت کر سکتی ہے۔ زبردستی کی شادی نہ صرف لڑکی کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس کے شوہر اور بچوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جب ہم چھوٹی چھوٹی چیزوں میں یعنی کپڑے، جیولری وغیرہ میں بچیوں کی پسند کا خیال رکھتے ہیں تو زندگی کے اتنے بڑے فیصلے میں ان کی پسند کیوں نظر انداز کر دیتے ہیں۔

 

Facebook Comments HS