رمضان میں اب بہت کچھ بدل گیا ہے!

جدید دنیا نے ہمیں فائدہ تو پہنچایا ہے مگر ہم سے ہماری بہت سی روایتی چیزیں چھین لی ہیں۔ بلکہ یوں کہے کہ جدیدیت نے ہماری روایتی چیزوں کو زنگ لگادیا ہے۔ اب رہ رہ کر پرانی چیزیں یاد آتی ہے اور شاذ و نادر ہی نظر آتی ہیں۔ جس طرح دنیا آگے کی جانب جا رہی ہے اس طرح پرانے طور طریقے، ریت روایت ختم ہو رہے ہیں۔ جدیدیت کا اثر ہر سلسلے، ہر روایت، ہر تہوار پر پڑتا نظر آ رہا ہے۔ عید ہو بقرعید ہو یا پھر رمضان ہر سلسلے میں کافی بدلاؤ آیا ہے۔
رمضان ایسا مہینہ تھا جس کا انتظار مسلمانوں کو سارا سال رہتا ہے۔ ہر ملک کا رمضان مختلف ہوتا ہے بلکہ ہر شہر کا رمضان مختلف ہوتا تھا۔ کراچی کا رمضان بھی ہمیشہ مختلف نظر آتا تھا۔ لیکن گزشتہ 10، 15 سالوں میں رمضان میں کافی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں۔
آج سے 10، 12 سال پرانی بات ہے کہ جب اسمارٹ فون نہیں تھا، روزہ کے آخری حصے یعنی شام افطار سے پہلے گھر میں فراغت ہوتی تھی تو اس فراغت کو کم کرنے کے لئے کراچی کے مردوں اور لڑکوں کا خاص مشغلہ پتنگ بازی تھا۔ گھر کی خواتین افطاری بناتی تھی اور گھر کے مرد اور بچے پتنگ اڑاتے تھے اور یہ خالصتاً وقت گزارنے کا ایک آسان طریقہ تھا کیونکہ وقت بھی گزر جاتا تھا اور پیاس بھی نہیں لگتی تھی۔ یہ سلسلہ کافی عرصے تک جاری رہا مگر اب یہ سلسلہ معدوم ہو گیا ہے اور اس کی جگہ اسمارٹ فون اور رمضان ٹرانسمیشن نے لے لی ہے۔
ایک دہائی پہلے افطار پارٹی اور ریسٹورنٹ میں افطار کرنے کا رجحان بہت کم تھا مگر گھر گھر جاکر دینے والی محلے کی افطاری کا بہت خاص رواج تھا۔ وہ افطاری کا کپڑے سے ڈھکا تھال، مضبوط محلے داری کی پہچان ہوتی تھی۔ ماہ رمضان میں بہت سے ایسے دن ہوتے تھے کہ محلے کے گھروں سے افطاری آتی تھی بلکہ باقاعدہ دن بٹے ہوئے ہوتے تھے۔ اس تھال میں لذیذ ترین افطاری ہوتی تھی۔ اس افطاری میں ذائقہ سے زیادہ محلے والوں کا خلوص اور محبت نظر آتا تھا مگر اب بڑی بڑی افطاری ہوتی ہے، لذیذ اقسام کے پکوان ہوتے ہیں مگر خلوص اور عاجزی نظر نہیں آتی۔
رمضان کے آخری عشرے میں جہاں عید کی تیاریاں ہوتی تھا وہاں عید کارڈ کا بھی خصوصی اہتمام کیا جاتا تھا۔ دوستوں کو لئے، گھر والوں کے لئے، رشتے داروں کے لئے عید کارڈ بنائے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ مزے مزے کی شعر و شاعری بھی تحریر کی جاتی تھی مگر بد قسمتی سے اسمارٹ فون نے یہ خوبصورت سلسلہ بھی چھین لیا۔
سب سے بڑی بات یہ تھی کہ رمضان کا ایک پروٹوکول تھا، رمضان میں ہر کوئی عاجزی و انکساری دکھاتا تھا مگر اب یہ مزاج تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ سیاسی معاملات ہو یا پھر ٹی وی شوز، ہر جگہ اس ماہ کا تقدس ختم ہو گیا ہے اب صرف کمرشل ازم ہے یا پھر گندی سیاست۔ جدید دور نے ہم سے روحانیت چھین لی ہے اور کمرشل ازم میں مگن کر دیا ہے اور ہمیں اس چیز کا احساس تک نہ ہوا۔

