مردود مردے کی دلہن
اس نے ایک عمر جدوجہد اور نسبتاً عام لڑکی کے مقابلے میں نوجوانی۔ کڑے وقتوں میں گزاری۔ کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتے دیکھ کر مخالفین کو خیال آیا کہ شوشہ اٹھائیں۔ ابھی اور کام کرو۔ نا بالغہ ہو۔ وقت گزر گیا شاید وہ مان بیٹھی یوں بھی ظلم کے خلاف لڑنے میں کامیاب ہوں یہی بہت۔ اکیلے مردانہ وار مقابلہ کر لوں گی۔ زندگی گزار لوں گی۔ شاید وہ یہ سوچتی ہو کامیاب ہو جاؤں گی تو پھر اپنے ہم پلہ۔ شریک حیات کو ڈھونڈ لوں گی۔ کیا مشکل۔
یہ مشکل تھا بھی نہیں وہ ہر طرح سے قابل اور اس جدوجہد کی اہل تھی جو وہ کر رہی تھی۔ اس سے اعلی قابل ملکی غیر ملکی نوجوان شادی کے خواہشمند تھے بھی۔
کامیابی سے چند قدم دوری پہ مخالفین نے شوشہ چھوڑا۔ شادی تو کی نہیں۔ بھلا یہ کامیابی کیسے کہلائی جائے گی۔ مکمل کامیاب زندگی!
شوشا بڑھا کے ملا کے پاس پہنچایا۔ ملائیت نے فتوے جاری کر دیے۔ مخالفین و بزدلوں کو یہ فتوے بہت سازگار سہولت کار لگتے ہیں۔ اسی لیے مفت ملا گیری کا نظام بھی چلایا جاتا ہے۔ تاکہ ان کے سامنے کھڑے ہونے والے ایک چرکے میں منہ کے بل گرائیں جائیں یا گھٹنے ٹیک دیں۔ یہ تو ایک عورت تھی۔ اکیلی۔ بزدلوں کے سامنے ڈٹی ہوئی۔
فتوے جاری ہوئے۔ کنواری عورت کا منچ پہ بیٹھنا جائز ہی نہیں۔ پھر حالات کو شدت کی طرف موڑتے ہوئے مزید اختصارات کے اعلانات کرائے گئے۔ ”عورت کا بغیر نکاح کے کسی منچ پہ بیٹھنا گویا چھ کروڑ مردوں کو کھلے عام ورغلانے اور بے شرمی کی طرف اکسانے والی بات ہے“ ۔
اس لڑکی نے اپنے ہم پلہ لوگوں میں اپنا مناسب بر دیکھنا شروع کیا۔ فتوی آیا اب کوئی کافر یہودی ایجنٹ و غیر ملکی اس قوم کی ملی اور قومی غیرت کے منہ مارا جائے گا۔ ہم مردوں میں کوئی نہیں جو اس پلے کا ہو۔ یہ سمجھتی کیا ہے خود کو۔
سچ پوچھیں تو اس کا جوڑ اس ملک میں کوئی تھا بھی نہیں۔ اس بات کا اس لڑکی کو اچھی طرح ادراک تھا۔ شاید اس جدوجہد میں وہ بھول چکی تھی یہ مردوں کا معاشرہ ہے کم از کم اس کو اس کے ارادوں سے ہٹانے کے لیے مردوں کا یک طرفہ۔ تنگ نظر معاشرہ مصنوعی نوعیت کا۔ خودساختہ گھڑا جاسکتا تھا۔ وہ اس وقت نام نہاد مذہبی ملاؤں کے چکر میں پھنس کر جان چکی تھی کہ ملوکیت ملک پہ خوب پنجے گاڑ چکی ہے۔ گو وہ دین سے واقف تھی لیکن مذہبی شدت پسندی کے خلاف۔ اس انتہا پسندی کو مذہبی روپ میں لپیٹ کر اس کے باپ اور کئی اور لوگوں کو شدید ذہنی جسمانی اذیتوں سے دو چار کیا گیا تھا۔ یہاں تک کے اس کا باپ سولی چڑھ گیا تھا۔
ناچار۔ اس نے اپنے ملک میں نظریں دوڑائیں۔ یہ رشتہ اب وہ لڑکی نہیں بلکہ پورے ملک کے شادی شدہ مرد و عورت بھی دیکھ رہے تھے جن کے لیے شادی ہونا ہی کامیابی ہے چاہے جیسی بھی ہو۔
یہاں تک کی کامیابی تو ہر ایک کو پھینک کر بھی مل جاتی ہے۔ سو انہیں بھی حاصل تھی۔ یہ بھی سارے ایسے ہی کامیاب تھے۔ مخالفین اپنے تئیں اس کام کو کرتے ہوئے اس کی تضحیک بھی کر رہے تھے۔ لڑکی ہونا ایک واحد کمزوری تھی جو اس میں ڈھونڈ لی گئی تھی جسے سارے کامیاب مردانہ ذہنیت کے مارے ٹھونک بجا کے پیٹ رہے تھے۔ غور طلب پہلو یہ ہے کہ ناواقف و جاہل یہاں تک کے ان پڑھ اس قصے میں سرے سے ناپید تھے۔ یہ سب کہیں نا کہیں عہدے داران کر رہے تھے یا ان کے حواری۔
یہ بات لڑکی اور اس کی ماں کے لیے کافی پریشان کن ثابت ہوئی۔
اب جو حالات اس قابل عورت کے سامنے آئے تھے بالکل نئے تھے۔ اس کا اپنا معاشرہ جس کی آزادی کے لیے وہ جدوجہد کر رہی تھی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے بے نقاب ہونے جا رہا تھا۔ وہ مخالفین کی پسماندگی کی کئی سطحیں دیکھ چکی تھی لیکن اسے ہراساں لڑکی ہونے پہ بنایا جائے گا اس سے قدرے نابلد۔
ایسے میں ایک زمانے بھر کا چھٹا ہوا بدمعاش بدقماش جس سے کوئی اپنی لولی لنگڑی بیٹی بھی نا بیاہنا چاہتا تھا۔ اس ملک کی ذہنیت کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اس لڑکی کو اپنا پیغام پہنچاتا ہے۔ برادری کو اکساتا ہے۔ لڑکی کو ہراس کرتا ہے۔ اسی بدمعاش کی بدمعاشی اس درجے عروج پہ پہنچتی ہے کہ اس برادری کے سارے مرد ملکی قومی غیرت کے بانیان اس لڑکی کے خلاف مزید تعصبانہ۔ یک طرفہ برادری کے جبری اصول مسلط کرتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ کام اس بدمعاش سے ڈر کر کچھ اس بدمعاش کے آگے خاموشی اپنا کر۔
اپنا کردار اس لڑکی کے حق میں ادا نہیں کرتے۔ زیادہ تر عورت کے خلاف اپنے تعصبانہ ذہنیت اور انا پرستی کے بتوں کے آگے جھکے اس لڑکی اور اس کی ماں کو غیرت مند بننے اور بے غیرتی کے طعنے دیتے ہیں۔ اب عورت اور مردانہ ذہنیت آمنے سامنے تھی۔ یہاں کوئی مرد نہیں اٹھا سب نے بزدلی کے بت چوم ڈالے۔ اب انہیں اس بات سے کوئی سروکار نا رہا تھا کہ جدوجہد کیا ہے۔ ؟ ظالم کیا کر رہا ہے۔ ؟ لڑکی ان کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے۔
سب اپنی اناؤں کے بتوں پہ اپنی پگڑی۔ برادری کے بتوں کے آگے سجدہ ریز تھے۔ بلاواسطہ ہراس کو بڑھا کر برادری تک لے آئے تھے۔ بلاواسطہ بزدلوں کے سہولت کار بن گئے تھے۔ کچھ برادری خاندان خاندان کا آپس کا مسئلہ بتا کر اپنے ضمیر کو سلا کر پیچھے ہٹ گئے آنکھیں چراتے سہولت کار یہ بھی تھے۔ ضمیر سلانے کے سہولت کار۔ جھوٹی اناؤں کے سہولت کار۔ اپنے ناجائز کو مسلط کرنے کے سہولت کار۔ یہ ساری کارگزاری سہولت کاری اس بدمعاش کے لیے تو گویا توشہ خانہ ہی ثابت ہوا اس بدمعاش کے لیے جس کی ذرہ برابر اوقات نہیں تھی کہ اس لڑکی کی طرف میلی آنکھ سے بھی دیکھتا اگر معاشرہ عورت کے لئے غیر متعصب ہوتا یا اس معاشرے کی تشکیل۔ تکمیل۔ تعمیر کی بنیادیں تعلیم شعور و آگہی پہ رکھیں ہوتیں۔ لیکن یہ تو بزدلوں کا معاشرہ تھا یہ ان بنیادوں کی آبیاری کیوں کرتا جب کہ یہ صرف سہولت کار پیدا کرنا چاہتا ہو اور اب پوری طرح آشکار تھا۔ سب پہ عیاں۔
کمال حیرت یہ ہے کہ عوام کو جس مویشی بھیٹر بکری کی مد میں استعمال کیا جاتا ہے اس پورے معاملے میں وہ کہیں موجود ہی نہیں تھے۔
ایسے میں بلا پس و پیش و تردد وہ قابل۔ تعلیم یافتہ۔ بہادر۔ خوبصورت عورت ہراس کی بھینٹ چڑھا دی جاتی ہے جس میں اس قوم کے چند ہرکاروں نے کام کر دکھایا تھا۔
بقیہ چھ کروڑ مرد اسی انا۔ مردانہ ذہنیت کے ساتھ مویشی کی طرح ہانکے ہنکارے جانے لگے۔ اور بزدل مرد بنا لیے گئے۔
وہ عورت زندہ۔ مردوں کے قبرستان میں بدقماش مردود مردے کی دلہن بنا دی گئی۔


