انسیت اور محبت مذہب کی محتاج نہیں


انسیت اور محبت مذہب کی محتاج نہیں ہے۔ محبت انسانیت کا پہلا اصول ہے جس کے بغیر زندگی بے رونق ہے۔ یا پھر یوں کہہ لیں کہ اگر زندگی سے محبت کو نفی کر دیا جائے تو زندگی کی مثال اس صحرا کی سی ہو گی جہاں دور دور تک نخلستان نہ ہو سوائے کڑی دھوپ کہ جو ہر ذی روح کو جھلسا دے۔ رویوں میں محبت کی چاشنی بے حد ضروری ہے۔ دوسروں سے بات چیت کے دوران رویے میں محبت رکھیں چاہے وہ آپ کے مذہب کا پیروکار ہے یا پھر کسی اور مذہب کا۔

دنیا کا کوئی بھی مذہب نفرت نہیں سکھاتا بلکہ دنیا کے تمام مذاہب امن و محبت کا درس دیتے ہیں۔ کوئی بھی معاشرہ اس وقت ہی پھلتا پھولتا ہے جب اس معاشرے کے لوگوں میں باہمی محبت قائم ہو۔ پرامن معاشرے کی تشکیل میں باہمی احترام و محبت کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ مذہب کی بنا پر انسانی رویوں میں شدت پسندی معاشرے کی بنیادیں کھوکھلی کر رہی ہے۔ مذہبی شناخت کو ایک طرف رکھ کر بحیثیت انسان ایک دوسرے کو عزت دیں۔ محبت اور عزت صرف ہم مذہب کا حق نہیں بلکہ ہر انسان عزت اور محبت کا حق دار ہے خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھے۔

ایک دوسرے کے ساتھ احترام اور انسانیت کا رشتہ قائم کریں۔ پر امن اور صحت مند معاشرہ اس وقت ہی قائم ہو گا۔ جب بحیثیت انسان ایک دوسرے کو عزت دی جائے گی۔ محبت اور عزت و احترام ہر انسان کا پیدائشی حق ہے اور مذہب کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے سے نفرت نہ کریں۔ مذہبی شدت پسندی بد امنی کو جنم دیتی ہے۔ جہاں پھر زندہ انسانوں کو جلائے جانے جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ مذہب کے نام پر عبادت گاہوں کو مسمار کیا جاتا ہے۔

عبادت گاہوں میں عبادت کرتے معصوموں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے۔ شدت پسندی کسی بھی مذہب کے لئے ناقابل قبول ہے۔ شدت پسند گروہ مذہب کے نام پر معصوم انسانوں کے ذہنوں کو اپنے کنٹرول میں کرتے ہیں اور پھر مذہبی اشتعال انگیزی دلاتے ہیں۔ تا کہ معاشرے میں انتشار پھیلا سکیں۔ مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے والے مذہبی رہنما خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو معاشرے کے لئے ناسور ہیں۔ اور ایسے ناسوروں سے نبٹنے کی اشد ضرورت اور موجودہ وقت کا تقاضا بھی۔

Facebook Comments HS