عمران اور مودی: دو ملک، دو لیڈر، ایک مائنڈ سیٹ
پی ٹی آئی اور بی جے پی کا عمران خان اور مودی کی زیر قیادت اقتدار میں آنا اور ان دونوں کا طرز حکومت ایک ہی آئیڈیالوجی کا عکس نظر آتے ہیں۔ دونوں سیاسی پارٹیز اور دونوں سیاستدانوں نے سیاسی اور جمہوری رویوں کو قتل کر کے آمرانہ طرز حکومت کو پروان چڑھایا ہے۔
سب سے پہلے ہم اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ عمران خان اور مودی اقتدار کے ایوانوں تک کیسے پہنچے۔ مودی وزیراعظم بننے سے پہلے انڈیا کی ریاست گجرات میں بطور وزیراعلیٰ مسلمانوں کا قتل عام کروا کر خود کو ہندوتوا کا محافظ اور بزنس کلاس کو فری ہینڈ دے کر خود کو معاشی ترقی کا علمبردار ثابت کر چکا تھا۔ اس طرح وہ انڈیا کے لوگوں کو ایک ہارڈ لائنر محب وطن اور معاشی ترقی کا جھانسہ دینے میں کامیاب ہو گیا۔
ان دونوں سیاستدانوں نے محب الوطنی اور مذہبی کارڈ کا بھرپور استعمال کیا۔ دونوں نے مخالفین پر کرپشن اور غداری کے الزامات عائد کر کے لوگوں کو زمینی حقائق سے ہٹ کر ایک ایسی خیالی خوشحالی کا تصور دیا جس سے عوام ان کو اپنا واحد مسیحا سمجھنے لگی۔ مودی نے کانگرس اور عمران نے مسلم لیگ نون اور پی پی پی کی موروثی سیاست کو تمام مسائل کی جڑ قرار دے کر عوام کو ان کی غلامی سے نجات دہندہ کے طور پر خود کو پیش کیا۔
دونوں پارٹیز نے سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا سے اپنے آپ کو تمام مسائل کے حل کے لئے واحد آپشن کے طور پر پیش کیا۔ پی ٹی آئی کے ایجنڈے کو میڈیا پر بار بار دہرا کر ، ان کے جلسوں کو پرائم ٹائم میں فل کوریج دے کر ، اس مشن میں کچھ نئے صحافی لا کر اور تقریباً چار ہزار ٹاک شوز اس جماعت کے حق میں کر وا کر عوام کے سامنے عمران خان کو ان کے ہر مسئلے کے واحد حل کے طور پر پیش کیا گیا۔ اس کے پیچھے مقتدر حلقوں کا میڈیا کو کنٹرول کرنا اور ریٹنگ کے لالچی سنسنی خیز میڈیا چینلز کا بھرپور ہاتھ تھا۔
پوری دنیا میں بزنس کلاس سیاست کے میدان میں نئے ابھرتے گھوڑے پر پیسا لگا کر اس کو اپنا احسان مند بنا لیتی ہے اور پھر ایسے سیاستدانوں کی حکومت کو اپنے مقاصد اور ناجائز طریقے سے پیسا اکٹھا کرنے کے لئے استعمال کرتی ہے۔ اس طرح ایسے حکمران اپنے محسنوں کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔
اسی طرح انڈین میڈیا کو مودی کو ہیرو ثابت کرنے میں اور اس کی الیکشن کمپین پر انڈیا کی ٹاپ بزنس کلاس نے پیسا لگایا جنہوں نے مو دی کے اقتدار میں آنے کے بعد آدی واسیوں سے زمینیں چھین کر اپنی انڈسٹریز لگائیں اور اپنی بزنس انٹرسٹ کے حق میں حکومت سے بل پاس کروائے۔
عین اسی طرح عمران خان کی الیکشن کمپین میں جہانگیر ترین، علیم خان اور اے ٹی ایم کہلانے والی دیگر بزنس کلاس نے کھل کر پیسا لگایا۔ پھر جب عمران خان کی حکومت قائم ہوئی تو جہانگیر تر ین نے مبینہ طور پر شوگر سبسڈی لے کر اور شوگر مارکیٹوں کو کنٹرول کر کے اربوں روپے بٹورے اور علیم خان نے مبینہ طور پر قبضوں کے ساتھ پراپرٹی سکیمیں بنائیں۔
جب دونوں حکمران گڈ گورنس اور اپنے کیے ہوئے وعدوں کو نبھانے میں بالکل ناکام ہو گئے تو دونوں نے پھر سے مذہب اور حب الوطنی کی آڑ لینا شروع کر دی۔ مودی نے دوبارہ الیکشن جیتنے کے لئے پلوامہ واقع اور سرجیکل اسٹرائیکس کا کارڈ کھیل کر پاکستان مخالف ایجنڈے کا سہارا لیا اور اپنی بری گورنس کو ان جذبات کے پیچھے چھپا کر دوبارہ الیکشن جیت کر گورنمنٹ بنانے میں کامیاب ہو گیا۔
اسی طرح عمران خان گورنمنٹ بھی اندرونی اور بیرونی ہر محاذ پر پرفارم کرنے میں بری طرح فیل ہو گئی۔ مثال کے طور پر یہاں پر ہم اگر عمران خان کی الیکشن کمپین کے سب سے پاپولر نعرہ کرپشن کے خاتمہ کی ناکامی کا ہی تذکرہ کریں تو ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان صرف پچھلے ایک سال مطلب 2021 ء میں ہی کرپشن انڈیکس پر 16 پوائنٹس پیچھے چلا گیا اور 180 ممالک میں 124 سے 140 نمبر پر چلا گیا جبکہ 2018 ء میں عمران حکومت آنے سے پہلے پاکستان کرپشن انڈیکس میں 117 نمبر پر تھا۔ خان صاحب کی حکومت کے دوران اس طرح طوفانی اور فری فال کرپشن کی پاکستانی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
جب بیڈ گورنس سے تنگ آ کر ان کے لانے والوں نے سر سے ہاتھ اٹھا لیا تو عمران حکومت دھڑام سے گر گئی اور اب خان صاحب مودی کی طرح دوبارہ اپنی نا اہلی کو اینٹی امریکن، غداری اور محب الوطنی کے جذبات کے پیچھے چھپا کر ایک دفع دوبارہ پاکستانی عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہاں پر اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ جب مودی انڈیا کو مذہبی اور غداری کی بنیادوں پر تقسیم کر رہا تھا، جب مودی اپنے ملک کے دانشور طبقہ کی آواز دبا رہا تھا، جب جمہوری اداروں او ر قوانین سے کھلواڑ کر کے یونائیٹڈ انڈیا کے خلاف سازش کر رہا تھا، جب وہ بی جے پی کے غنڈوں کے ذریعے بیس کروڑ مسلمانوں اور دوسری مذہبی اقلیتوں پر گھیرا تنگ کر کے انہیں بغاوت پر اکسا رہا تھا اور جس طرح اس نے سیکولر انڈیا کا شیرازہ بکھیر دیا ہے اور یہ سارے گھناؤنے ہتھکنڈے ابھی بھی اس کی حکومت کے زیرنگرانی جاری ہیں جن کی وجہ سے اب یونائیٹڈ انڈیا کا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے۔
تو کاش اس وقت ہمارے مقتدر حلقے مودی فارمولا کو کاپی کر کے وطن عزیز میں ایسی حکومت برسراقتدار نہ لاتے تو آج ہم ایک نفرت سے بھری ہوئی، دلیل کی جگہ گالی دینے والی، ہر اختلاف کرنے والے کو غدار اور ملک دشمن کہنے والی، بات کی جگہ گریبان پکڑنے والی، شخصیت پسندی کو اصل حقائق پر ترجیح دینے والی ایک غیر مہذب اور منطق سے عاری نسل کو جنم دینے سے بچ جاتے۔ لیکن افسوس کہ یہ ہو نہ سکا اور اب اس جنریشن کو وطن عزیز کو بھگتنا پڑے گا۔


