چار آدمی


چند ماہ قبل بک کارنر جہلم کے شو روم پر کتابیں دیکھتے ہوئے ایک کتاب کے سرورق پر ”مولو مصلی“ کا نام پڑھ کر میں چونک سا گیا کیونکہ اس نام کی گونج چند سال پہلے قومی اسمبلی میں سنائی دی تھی جب کسی بڑے چوہدری کے گھر پولیس نے چھاپا مارا تھا۔ لیکن مولو مصلی نام کی اس کتاب میں ڈاکٹر امجد ثاقب نے اخوت کے حوالہ سے عام طبقے کے لوگوں کی کہانیاں بیان کی تھیں۔ گگن شاہد کی ایک بات مجھے بڑی پسند ہے، وہ شوروم میں آپ سے اچھی اچھی کتابوں کا تعارف اس انداز سے کراتے ہیں کہ کتاب میں آپ کی دلچسپی بڑھ جاتی ہے۔

اس دفعہ بھی میں کتابیں دیکھ رہا تھا کہ انہوں نے سنہرے ورق والی ایک کتاب کا تعارف کروایا جو اسی دن چھپ کر آئی تھی۔ سنہرے رنگ میں بہت ہی قیمتی کاغذ پر خوبصورت سرورق والی یہ مجلد کتاب اخوت والے ڈاکٹر امجد ثاقب کی نئی تصنیف ”چار آدمی“ ہے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی شخصیت کسی بھی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ پاکستان کی سول سروسز میں اپنی سروس کے عروج پر پرکشش عہدہ اور سرکاری نوکری کو خیر آباد کہہ کر عام اور غریب آدمی کی زندگی سنوارنے کے عزم کا آغاز کیا۔

ان کی تنظیم ”اخوت“ سے اب تک پچاس لاکھ سے زیادہ خاندان مستفید ہو کر برسرروزگار ہوچکے ہیں۔ اخوت کی قرض حسنہ کی سپورٹ سے غریب اور بے سہارا یہ لوگ اب اپنے پاؤں پر کھڑے ہیں۔ غربت کی چکی میں پسنے والے ان خاندانوں کو برسرروزگار بنا کر ان کا معیار زندگی بلند کرنے اور انسانیت کی مدد کرنے پر ڈاکٹر امجد ثاقب کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

”چار آدمی“ ان چار شوریدہ صفت انسانوں کی کہانی ہے جنھیں انسانیت اور انسانوں سے پیار تھا۔ انسانیت کی بھلائی کے لئے ایک جذبے، جنون اور ہمت کی ضرورت ہوتی ہے جو ان چاروں میں بدرجہ اتم موجود تھا۔ انسانیت کی بھلائی کے جذبے سے سرشار ان افسوں کاروں میں چوہدری محمد رشید، ملک معراج خالد، سر گنگا رام اور خود ڈاکٹر امجد ثاقب شامل ہیں جنہوں نے اس کتاب میں اپنی کہانیاں خود اپنے لفظوں میں بیان کی ہیں جو سب کی سب مکالماتی کہانیاں ہیں۔

سب سے پہلی کہانی فاؤنٹین ہاؤس لاہور کی ہے۔ فاؤنٹین ہاؤس وہ عمارت ہے جس پر سر گنگا رام کے دست ہنر نے گل بوٹے بنائے اور ملک معراج خالد اور چوہدری محمد رشید نے اسے فاؤنٹین ہاؤس میں بدل ڈالا۔ بنیادی طور پر یہ عمارت سر گنگا رام نے بیسویں صدی کے اوائل میں بیوہ ہندو عورتوں کی آبادکاری کے لئے تعمیر کی تھی۔ سر گنگا رام نے ہندوستان میں بیوہ ہو جانے والی ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ ہندو عورتوں کو ستی کی رسم سے بچانے کے لئے ان کی آبادکاری کے لئے کام کا آغاز کیا تھا جس کے لئے یہ ہندو بیوہ گھر تعمیر کیا گیا۔

ڈاکٹر چوہدری محمد رشید نے ہندو بیوہ گھر کی تعمیر کے چھیالیس سال بعد 1967 میں لاہور میں ذہنی امراض کے ایک ادارے کی بنیاد رکھی جس کا نام انہوں نے فاؤنٹین ہاؤس رکھا۔ سر گنگا رام، چوہدری محمد رشید اور معراج خالد تینوں ہی غریب والدین کے بیٹے تھے لیکن اپنی محنت سے ایک انجنیئر ایک ڈاکٹر اور ایک سیاستدان بنا۔ فاؤنٹین ہاؤس بنانے میں تینوں نے اپنا اپنا حصہ ڈال کر انسانیت کی خدمت کی۔ سر گنگا رام نے یہ عمارت بنائی، ملک معراج خالد نے بطور وزیر اعلی پنجاب یہ عمارت فاؤنٹین ہاؤس کے لئے یہ عمارت الاٹ کی اور ڈاکٹر محمد رشید نے اس عمارت میں ذہنی امراض کا ہسپتال فاؤنٹین ہاؤس قائم کیا۔ ڈاکٹر امجد ثاقب لکھتے ہیں کہ جب میں کل کے اس ہندو گھر اور آج کے فاؤنٹین ہاؤس کی خوبصورت عمارت میں داخل ہوتا ہوں، مریضوں سے ملتا ہوں تو یہ تینوں لوگ مجھے یاد آتے ہیں۔ ان تینوں کی زندگی کی کہانی میں نے بہت سے لوگوں سے سنی ہے اور خود بھی ان کی زندگی کے بارے میں تحقیق کی ہے۔

دوسری کہانی ڈاکٹر چوہدری محمد رشید کی ہے جنھوں نے نامساعد حالات اور غربت کے باوجود اپنی محنت اور استقامت سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی اور اس میں کمل حاصل کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس مقام تک پہنچانے میں میری والدہ نے میرا بہت ساتھ دیا۔ اسی لئے وہ سیگمنڈ فرائیڈ کی یہ بات دہراتے ہیں اور اس پر ان کا یقین بھی ہے کہ بہادری صرف محبت سے جنم لیتی ہے اور جس کو ماں کی لازوال محبت مل جائے تو وہ عمر بھر فتح کا ساتھ لے کر زندہ رہتا ہے۔

ان کی زندگی ایک لازوال محنت اور سفر سے عبارت ہے جس میں انہوں نے دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے ایسا شعبہ چنا جس میں مریضوں کو صحتمند ہونے میں ایک عمر گزر جاتی ہے۔ معاشرے کے ستائے ہوئے یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کو علاج کے ساتھ ساتھ دلگیری سے صحت مند بنایا جا سکتا ہے۔ وہ اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ 1947ئمیں ان کا گاؤں جلا کر راکھ دیا گیا۔ انھیں ہجرت کر کے پاکستان آنا پڑا، اگر وہ وہاں رہتے تو یقیناً قتل کر دیے جاتے۔

اس مشکل گھڑی میں ایک غیر مسلم ڈاکٹر نے انھیں پناہ دی اور بارڈر پار کیمپ میں پہنچایا۔ وہ کہتے ہیں کہ نیکی اور بدی ہمیشہ ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ انگلینڈ میں اعلی تعلیم کے دوران خاتون خانہ سمیت قیام کے دوران قلیل وظیفہ پر گزارہ کیا، ملازمت اس لئے اختیار نہ کی کہ پڑھائی کا حرج ہو گا۔ حصول علم کا شعار سامنے رکھ کر تعلیم مکمل کر کے وطن واپس آ کر ملک کی خدمت کے لئے کمر کس لی۔ یہ کتنے عظیم لوگ تھے جنھیں برطانیہ کی چکاچوند متاثر نہ کر سکی، ان کے اندر اپنے ملک کی خدمت کرنے کا جذبہ تھا اور یہ لوگ مادہ پرست نہیں تھے۔

میو ہسپتال میں خدمت کے جذبے اور جوش سے کام کیا جہاں سے انھوں نے عزت، شہرت اور نیک نامی کمائی۔ انہوں نے ذہنی مریضوں کے لئے فاؤنٹین ہاؤس کے نام سے ایک ہسپتال بنایا اور اس کو ایک کامیاب ادارے میں بدل دیا۔ اپنی کہانی میں انہوں نے فاؤنٹین ہاؤس میں علاج کے دوران مریضوں کو پیش آنے والے کچھ دلخراش واقعات کو بیان کیا ہے جن کو پڑھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ دکھی انسانیت کی خدمت کرنے پر 1969 ء میں انھیں تمغہ قائداعظم اور 1985 ء میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔ ایک سو پچاس سے زیادہ بین الاقوامی کانفرنسوں میں پاکستان کی نمائندگی کی اور دو سو پچاس سے زیادہ مقالات لکھے۔ انہوں نے اپنا پیغام ان الفاظ میں دیا ہے جو ان کی زندگی کا نچوڑ ہے۔ ”

فاؤنٹین ہاؤس ایک چھوٹی سی دنیا ہے اور دنیا ایک بڑا سا فاؤنٹین ہاؤس۔ زندگی میں اگر خوشی کی تلاش ہے تو لوگوں کے غم بانٹنے کی کوشش کرو، غم بانٹنے سے کم ہوتے ہیں اور خوشیاں بانٹنے سے بڑھ جاتی ہیں۔ ”

چار آدمی ”کی تیسری کہانی ملک معراج خالد کی کہانی ہے جو ان کی اپنی زبانی ہے۔ وہ لاہور کے نزدیک ڈیرہ چاہل میں ایک عام سے کاشتکار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ حصول تعلیم کے لئے بے پناہ محنت کی۔ مقابلے کا امتحان پاس کیا لیکن اعلی سرکاری نوکری ملنے کے باوجود اسے چھوڑ کر اپنے علاقہ کی غریب اور انپڑھ عوام کی خدمت کی راہ اپنائی۔ انہوں نے اپنے طرز زندگی سے یہ ثابت کیا کہ پڑھا لکھا نوجوان بھی ایک عام محنت کش کی سی زندگی گزار سکتا ہے۔

وہ بردباری، صبر اور استقامت کی علامت تھے۔ ان کا مقصد حیات یہ تھا کہ مسلمان معاشرہ ذات پات، حسب نسب، رنگ و نسل اور قبیلہ کے امتیاز سے نجات پائے جس پر انہوں نے زندگی بھر بہت کام کیا۔ لوگوں کو شعور دینے کے لئے علاقہ میں بہت سی تنظیمیں بنائیں۔ اعلی ترین عہدوں پر رہ کر بھی ایک درویشانہ زندگی گزاری۔ وفاقی وزیر، وزیر اعلی پنجاب، وزیر اعظم اور عالمی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر کے طور پر ملک کے اعلی ترین عہدوں پر فائز رہے لیکن صرف معراج خالد کہلوانا پسند فرمایا۔

کیونکہ ملک، خان اور میاں جیسے لاحقوں سے انھیں تکبر کی بو آتی تھی۔ پیپلز پارٹی کے بانی ارکان میں شمار، لیکن جب یہ دیکھا کہ نظریات پس پشت چلے گئے ہیں، عوام سے بے وفائی، غربت افلاس و محرومی اور روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے سے انحراف ہو رہا ہے تو وہ پیچھے ہو کر بیٹھ گئے لیکن پارٹی سے وفا کا عہد نبھایا اور پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے۔ نگران وزیر اعظم کے طور پر چند ماہ میں احتساب کی بنیاد رکھی، معیشت کو سنبھالا دیا، میرٹ پالیسی اپنائی، وی آئی پی کلچر کو کم کرنے کی کوشش کی اور اس کا عملی نمونہ پیش کیا۔

سول سروسز کو سادگی کا درس دیا۔ ان کا پیغام بھی درس انسانیت تھا۔ ان کے نزدیک قانون سب کے لئے یکساں ہے۔ لوگوں کو خاندانی دولت سے نہیں ذاتی شرافت اور کردار سے پرکھنا چاہیے۔ انسانی عظمت کے حوالہ سے خاندان، برادری یا قبیلہ کی تقسیم بے معنی ہے۔ مناصب کے لئے سفارش کی راہ اختیار نہیں کرنی چاہیے۔ معراج خالد قلندری، عاجزی، مسکراہٹ، نرم روی کا نمونہ تھے اور جہالت سے مقابلہ کرنے اور انسانی دردمندی میں پیش پیش تھے۔ انھوں نے اپنی گفتگو میں یہ پیغام دیا۔

زندگی میں خوشی چاہتے ہو تو لوگوں سے محبت کرو جس طرح جسم و جان کے لئے روٹی کا لقمہ چاہیے اسی طرح روح کی بقا کے لئے ایثار اور دردمندی درکار ہے۔ تنگ دستی میں سخاوت، غصے میں خاموشی اور طاقت رکھتے ہوئے معاف کر دینا زندگی ہے۔ فاؤنٹین ہاؤس کے لئے گنگا رام کا تعمیر کردہ ہندو بیوہ گھر بطور وزیر اعلی چوہدری رشید کی درخواست پر انہوں نے الاٹ کی تھا۔

چوتھی کہانی سر گنگا رام کی ان کی اپنی مکالماتی زبانی ہے۔ کون جانتا تھا کہ پولیس ملازم دولت رام اور اس کی خوبصورت بیوی کے ہاں دور دیہات میں پیدا ہونے والا گنگا رام ایک دن ہندوستان کا بہت مشہور آدمی بن جائے گا جس کا طوطی پورے انگریز راج میں بولے گا۔ سر گنگا رام ایک بہترین انجنیئر تھے جو جدید لاہور شہر کا بانی قرار پائے۔ وہ لاہور میں جنرل پوسٹ آفس، لاہور ہائی کورٹ، لاہور میوزیم، گورنمنٹ کالج، ایچی سن کالج، لاہور کیتھیڈرل، میو سکول آف آرٹس، اور درجنوں دوسری عمارتوں کے خالق تھے۔

انہوں نے لیڈی میکلیگن سکول، ہیلے کالج اور گنگا ہسپتال اپنی جیب سے بنوایا۔ ہندو بیوہ خواتین کے لئے پچیس کنال پر محیط ہندو بیوہ گھر بنایا جسے پاکستان بننے کے بعد فاؤنٹین ہاؤس میں تبدیل کیا گیا۔ مہاراجہ پٹیالہ کی درخواست پر پٹیالہ شہر کی تزئین نو اور بنارس میں ایک یونیورسٹی کی تعمیر کا کام بھی سرانجام دیا اس کے علاوہ ان کا سب سے بڑا کام جڑانوالہ کے نزدیک سیکڑوں ایکڑ بنجر اراضی کو قابل کاشت بنا کر وہاں پھلوں کے باغات لگانا تھا۔ وہاں انھوں نے گنگا پور کے نام سے ایک گاؤں آباد کیا۔ اتنی بڑی اور مصروف ہستی کے شب و روز کا معمول دیکھ کر آپ دنگ رہ جائیں گے جو ان کی کامیابی کی راز بھی ہے۔

صبح سویرے دو بجے بستر سے اٹھنا اور چھ بجے تک دلجمعی سے کام کرنا، چھ سے سات بجے تک آرام اور سات سے دس بجے تک زیر تعمیر منصوبوں کا معائنہ کرنا، دس سے بارہ بجے تک آرام کرنا، بارہ سے چار بجے تک دفتری کام نبٹانا، شام کو ٹینس کھیلنا اور شام سات سے آٹھ بجے اخبارات کا مطالعہ کرنا کیونکہ اخبار شام کو چھپتے تھے اور آٹھ بجے سو جانا ان کا روز کا معمول تھا۔ وہ کہتے ہیں زندگی بھر انہوں نے رشک و حسد کو اپنے سے دور رکھا اور کبھی کسی کا برا نہیں چاہا۔

زندگی کے آخری برس انھوں نے ہندو بیواؤں کے لئے بیوہ گھر کی تعمیر کی اور اپنے آپ کو انسانیت کی خدمت کے لئے مختص کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے جتنے سکول، ہسپتال یا ادارے بنائے وہ رنگ نسل اور مذہب کی تقسیم سے م اور ہ تھے۔ مجھے ہر مذہب کے پیروکاروں سے محبت تھی۔ میں نے زندگی میں کبھی ایسی کوئی بات نہیں کی جس سے کسی مذہب کے ماننے والوں کی دل آزاری ہو۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے بھائی رام کو بھی انھوں نے خراج تحسین پیش کیا ہے جو ان کی تعمیرات کے سفر میں ان کے برابر کے شریک تھے۔ آج ہم اپنے مخالفین پر اور دوسرے فرقوں پر کفر کے فتوے صادر کرتے نہیں ڈرتے ہیں۔ انہوں نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس سوال کا جواب ہمیں اس ہستی پر چھوڑ دینا چاہیے جس نے سب کو بنایا ہے۔ جنت یا جہنم میں بھیجنے کا فیصلہ اس کو زیب دیتا ہے جو ان دونوں کا مالک ہے یہ ہمارا کام نہیں ہے۔

چاروں کہانیوں میں مشترک فاؤنٹین ہاؤس کی عمارت ہے جو سر گنگا رام نے عمارت بنائی، ملک معراج خالد نے اسے فاؤنٹین ہاؤس کو الاٹ کر کے اس کے حوالے کرنے کی منظوری دی اور ڈاکٹر چوہدری محمد رشید نے اسے ذہنی مریضوں کے لئے ایک بہترین ہسپتال میں تبدیل کر کے ایک سنگ میل کر ایک مثال قائم کی۔

پانچویں اور آخری کہانی اخوت کی ہے۔ یہ ڈاکٹر امجد ثاقب کی اپنی کہانی ہے۔ بچپن کمالیہ میں گزرا۔ ابتدائی تعلیم جڑانوالہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لاہور اور پھر کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد سول سروسز کا امتحان پاس کر کے اسسٹنٹ کمشنر مقرر ہوئے۔ والدہ نے انہیں اپنے ماموں چوہدری محمد رشید کو اپنا رول ماڈل بنانے کا درس دیا تھا جس پر عمل پیرا ہو کر سول سروس میں اپنے عروج کے دور میں دکھی انسانیت کی خدمت اور غریبوں کی مدد کا جذبہ دل میں بٹھا کر سروس سے استعفی دے دیا۔

ان کی ایک سو ڈالر سے قائم ہونے والی اخوت اب ایک سو ستر ارب سے زیادہ رقم قرض حسنہ دے چکی ہے۔ پچاس لاکھ سے زیادہ خاندان اخوت سے استفادہ کر کے اپنے آپ کو غربت سے نکل چکے ہیں۔ ان کے اس سفر میں درد دل رکھنے والے ساتھی ان کے ساتھ ملتے رہے اور ایک کاروان بنتا گیا۔ مسلسل محنت، عمل پیہم اور استقامت کے ساتھ یہ ان کے جنوں اور انسانیت سے عشق کے جذبے کا کرشمہ تھا جس نے یہ سب ممکن بنایا۔ وہ کہتے ہیں کہ اخوت کا اصول انسان دوستی اور فلاح کے جذبے کا فروغ ہے۔ اس سفر کے دوران انھیں دنیا کے مختلف ممالک میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا برطانیہ سمیت کئی دوسرے ممالک نے ان کی خدمات اور اخوت کے لئے ان کو ایوارڈ اور تمغوں سے نوازا اور گراں قدر انعامی رقم بھی دی جو انہوں نے اخوت کو دے دی اپنے پاس کچھ نہیں رکھا۔

نیکی کے فلسفے پر بات کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ ایک سماجی کارکن کو انا کی گرفت سے آزاد ہونا پڑتا ہے۔ کامیابی انکسار کا نام ہے اصل نیکی یہ ہے کہ دوسروں کو نیکی کی راہ پر ڈال دیا جائے۔ معاشرے کے دھتکارے ہوئے لوگوں اور بچوں کے لئے اخوت کا پروگرام میک اے ڈریم، معصوم بچوں کی معصوم خواہشوں کو پوری کرنا ان میں زندگی کی امنگ جگاتا ہے۔

یہ خوبصورت کتاب بک کارنر جہلم نے چھاپی ہے۔ شاہد حمید کا لگایا ہوا پودا بک کارنر جہلم اشاعت کی دنیا کا ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ کتاب پر جتنی محنت یہ ادارہ کرتا ہے وہ فی زمانہ کہیں اور نہیں دیکھا۔ سرورق کا انتخاب، کا غذ کا معیار، کتابت، اردو املا کی درستی اور پروف ریڈنگ پر محنت ان کی ہر کتاب کو ایک شاہکار کتاب بنا دیتی ہے۔ جس کے لئے امر شاہد اور گگن شاہد مبارک باد کے مستحق ہیں۔

 

Facebook Comments HS