تبدیلی جماعت یا تبلیغی جماعت؟


برستی برکتوں والے مہینے کا یہ آخری عشرہ ہے، اپنی آخرت سنوارنے کے لیے ہر کوئی خدا کے سامنے گڑ گڑا رہا ہے۔ اکیلے خان ہیں جو اس قوم و ملک کو غیروں اور سازشیوں سے نجات دلانے کے لیے خدا تعالیٰ سے دعا مانگ رہا ہے، دعا کروا رہا ہے۔ خان کو تو خدا نے سب کچھ دیا ہے آزادی سے لے کر خوشحال زندگی تک۔ وہ ان برکت بھرے لمحات میں بھی اپنی ذات کے لیے خدا سے کچھ نہیں مانگ رہا، وہ قوم کے لیے دعا کروا رہا ہے، یہ ہوتی ہی قیادت، جو اپنے لیے کچھ نہیں مانگتی۔

خان اس عشرے کی برکتیں بھی قوم اور وطن پر قربان کرنے جا رہے ہیں۔ وطن عزیز کو دشمنوں کی ”مداخلت“ اور اپنوں کی ”سازشوں“ سے نجات دلانے کے لیے خان صاحب جہاد پر نکل پڑے ہیں۔ اس بار نیک کام میں ان کے ساتھ ان کا سیاسی کزن علامہ طاہر القادری نہیں مگر مولانا طارق جمیل ساتھ دینے کے لیے میدان میں اتر چکے ہیں۔ تبلیغی جماعت تبدیلی جماعت میں تبدیل ہوئی ہے یا تبدیلی جماعت تبلیغی جماعت میں؟ اس بحث میں الجھے بغیر آپ سب عید نماز کے بعد ایک دوسرے کو گلے لگاتے وقت یاد رکھنا کیا کہنا ہے یہ بات یاد رکھنے کی ہے۔

وزیر اعظم پاکستان سے اچانک چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بننے والا خان کا یہ پہلا تجربہ ہے۔ خان خود کو سابق وزیر اعظم ابھی تک ماننے کو وہ تیار نہیں۔ اس وجہ سے قوم کا سر بلند رکھنے کے لیے لڑی جانے والی اس جنگ کے سپہ سالار خان کو کم سے کم یہ حقیر تو سابق وزیر اعظم نہیں لکھ سکتا۔ اور ان کے سامنے ایسی وزارت عظمیٰ کی حیثیت ہی کیا ہے جو امریکہ کی مرضی اور مداخلت سے ملتی ہو! ایسی وزارت عظمیٰ خان کے جوتے (پشاوری) کے برابر بھی نہیں۔

قوم کے نوجوانوں کے لیے دین داری، سچائی، ایمانداری اور سادگی کا دوسرا نام عمران خان ہے۔ مریم نواز جتنا چاہیں کہتی رہیں فرح گوگی کا دوسرا نام عمران خان ہے، مریم کی باتوں کو سنتا ہی کون ہے۔ جس شخص کی قیادت کے گن مولانا طارق جمیل گا چکے ہوں۔ عدالت چلانے سے زیادہ چھاپے مارنے، چندے سے ڈیم بنانے اور ڈیم پر چوکیداری کرنے میں دلچسپی رکھنے والے سابق چیف جسٹس جس کو قانونی مشوروں سے نواز چکے ہوں، اس لیڈر کو چوروں اور سازشیوں کی اولاد جو چاہے کہتی رہے کیا فرق پڑتا ہے۔

اپنے ساتھ 27 رمضان یعنی شب قدر کی برکتوں کا بونس لے کر آنے والے جمعۃ الوداع کی رات خان قوم کے نوجوانوں کے ساتھ دعا کا ہاتھ اٹھا چکے ہیں۔ دعا کو مزید پر اثر بنانے کے لیے مولانا طارق جمیل کی مدد بھی مل گئی ہے۔ جو کہتے ہیں اس ملک کو اللہ، امریکہ اور آرمی چلاتے ہیں ان کی اس بات کے دوسرے الزام یعنی امریکہ والی بات کو غلط ثابت کرنے کے لیے خان اپنا سب کچھ قربان کرنے کی ٹھان چکے ہیں۔ یہاں تک کے ملک کے پارلیمانی نظام، آئین اور سیاسی روایات کو بھی خان اس وقت ماننے کو تیار نہیں۔

ان کا کہنا ہے حقیقی اور مکمل آزادی سے پہلے یہ سب کچھ غیر ضروری بن چکا ہے۔ آزادی بھی رواں سال نومبر سے پہلے یا دیر کی صورت میں نومبر تک ہی خان کو چاہیے۔ اس آزادی کے لیے 22 کروڑ لوگوں کے ملک میں خان کو اسلام آباد میں ایک دن اپنی کال پر صرف 20 لاکھ لوگ چاہئیں۔ خان جدوجہد میں مصروف ہیں اور ساتھ ساتھ انہوں نے دعا کے لیے ہاتھ بھی اٹھائے ہوئے ہیں، کیا پتہ کون سی گھڑی قبولیت کی ہو۔

نوجوانوں کو اس ملک میں ایسی قیادت اور کہاں ملے گی جس کے خطبات میں سیاست کے ساتھ ساتھ دین کا تڑکا بھی ہو۔ آج کل یہ سہولت صرف عمران خان کی قیادت میں میسر ہے۔ خان صاحب نے ”شب دعا“ کے لیے مولانا طارق جمیل صاحب کو تکلیف دی ہے ورنہ یہ کام پیر کامل شاہ محمود قریشی بھی کر سکتے تھے۔ سندھ میں خصوصاً صحرائے تھر میں قریشی صاحب کی دعا کا اثر بڑا مقبول ہے۔ خان چاہیں تو امریکی خط/مراسلے والی تجویز کی طرح دعا کا کام بھی اپنے باصلاحیت وائس چیئرمین سے لے سکتے ہیں۔

ملک 27 رمضان کو بنا تھا اور ”پاکستان کا مطلب کیا ’والا نعرہ کم سے کم جناح صاحب والے پاکستان کا تو بیانیہ نہیں ہے۔ اس بیانیہ پر سیاست کرنے والے خان صاحب پر کسی بھی وقت جماعت اسلامی بیانیہ چرانے کا مقدمہ دائر کر سکتی ہے۔ شاہنواز فاروقی نامی جماعت کا ایک لکھاری یہ ثابت بھی کر سکتا ہے کہ خان نے جماعت کا بیانیہ کیسے چرایا۔ خان پر مقدمات کے حوالے سے ویسے بھی آج کل سیاسی موسم نامہربان ہے۔ سیاسی بیانیہ چرانے والے الزام سے بچیں تو بہتر ہو گا۔ آزادی کی اس جنگ میں خان کا خدا حامی و ناصر رہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

اشفاق لغاری

لکھاری، میڈیا سائنسز کا طالب علم ہے۔ پڑھنا، لکھنا، گھومنا اور سیاحت کرنا اس کے محبوب کاموں میں شامل ہیں۔

ashfaq-laghari has 26 posts and counting.See all posts by ashfaq-laghari

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments