دعا زہرا: پاکستان میں کم عمری کی شادیاں روکنا اتنا مشکل کیوں؟

ترہب اصغر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور


کم عمری میں شادی
کچھ روز پہلے تک دعا زہرا وہ 14 سال کی بچی تھیں جنھیں کراچی میں ان کے والدین لاپتا ہونے کے بعد ڈھونڈ رہے تھے اور مختلف ٹی وی چینلز پر نظر آ رہے تھے۔

بعض حلقوں کا خیال تھا کہ دعا زہرا کو ان کی رہائشگاہ سے اغوا کیا گیا لیکن پھر منگل کے روز دعا نے خود ایک ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا کہ ان کی عمر 18 سال ہے اور انھوں نے خود کراچی سے لاہور آ کر کورٹ میرج کی ہے۔

اس شادی کو دعا کے والدین نے یہ کہہ کر غیر قانونی قرار دیا کہ جب ہماری شادی کو ہی 15 سال ہوئے ہیں تو دعا 18 سال کی بالغ کیسے ہو سکتی ہیں۔

دعا زہرا کے کیس میں یہ پہلو بھی زیرِ بحث ہے کہ کیا عدالت خود سے لڑکی کی عمر کا تعین کر سکتی ہے۔

کئی قانونی ماہرین کی یہ رائے ہے کہ جب تک دعا کی عمر پر کوئی عدالت جا کر سوال نہیں اٹھاتا اور اس کے خلاف درخواست دائر نہیں کرتا تب تک عدالت خود ایسا نہیں کرتی۔

جب بی بی سی نے یہی سوال دعا زہرا کے والدین کے سامنے رکھا کہ آپ نے اب تک عدالت سے رجوع کیوں نہیں کیا تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے دعا کے اغوا کے تین گھنٹے کے اندر اندر پولیس کو اطلاع کر دی تھی اور اب ہم اس کی کم عمری کے حوالے سے اپنی درخواست بھی تیار کر رہے ہیں جو ہم جلد ہی عدالت لے کر جائیں گے اور ثابت کریں گے کہ دعا نابالغ ہے اور اس کا زبردستی نکاح کیا گیا ہے۔‘

دعا کے والدین کے مطابق ابھی تک انھیں اپنی بیٹی کے بارے میں جو معلومات بھی مل رہی ہیں وہ میڈیا سے مل رہی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ابھی تک ہمارا اس سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔‘

دعا کے والد مہدی کاظمی کا کہنا تھا کہ اپنی اہلیہ سے ان کی شادی سات مئی 2005 کو ہوئی تھی اور اس حساب سے دعا کی عمر ہرگز 18 برس نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی بیٹی کا جعلی نکاح نامہ تیار کروایا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے قوانین کے تحت مختلف علاقوں میں شادی کی کم از کم عمر 16 یا 18 سال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ پر اس مبینہ کم عمری کی شادی پر تنقید کی جا رہی ہے۔

ادھر پولیس کے مطابق دعا نے اپنے اہلخانہ کے خلاف ہراسانی کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے۔

دعا زہرہ کے اس بیان کے بعد عدالت کی جانب سے بھی یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ لڑکی کے قلم بند کرائے گئے بیان کی روشنی میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے نکاح کیا اور وہ اپنے خاوند کے ساتھ خوش ہے۔

جبکہ اس موقع پر پولیس کی جانب سے جوڈیشل مجسٹریٹ سے استدعا کی گئی تھی کہ بچی کو دارالامان بھیجا جائے جس پر عدالت نے یہ حکم دیا کہ لڑکی جہاں جانا چاہتی ہے، جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کم عمری کی شادی کے خلاف آگاہی کا انوکھا انداز

’کم عمری‘ میں شادی کرنے والے جوڑے کی دھوم

حیدر آباد سے اغوا ہونے والی کم سن لڑکی عین نکاح کے وقت بازیاب

کیا دعا زہرا سے غیر قانونی طور پر شادی کی گئی؟

پاکستان میں چائلڈ میرج کے خلاف قانون موجود ہے۔ پنجاب کے قانون کے مطابق شادی کے لیے لڑکا اور لڑکی کی عمریں 16 سال ہونا ضروری ہیں جبکہ سندھ کے قانون کے مطابق یہ عمر 18 سال مقرر ہے۔

پاکستان میں یہ قانون صرف یہاں تک ہی محدود نہیں بلکہ اس معاملے پر شرعی قانون بھی لاگو ہوتا ہے جس کے مطابق جب لڑکا اور لڑکی بلوغت کو پہنچ جائیں تو ان کا نکاح کیا جا سکتا ہے۔

اس معاملے میں قانونی پہلوؤں کے بارے میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر فاونڈیشن سے منسلک ایڈووکیٹ ندا علی کا کہنا تھا کہ ’قانون یہ تو کہتا ہے کہ 16 یا 18 سال کی عمر کی بچی کی شادی نہیں ہو سکتی اور اگر کوئی ایسا کرنے کی کوشش کرتا ہے یا کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے تو جرمانے کے ساتھ چھ ماہ کی قید ہو گی۔ اس کے علاوہ اس نکاح کو روکا جائے گا۔‘

تاہم وہ بتاتی ہیں کہ ان قوانین میں کچھ خامیاں بھی موجود ہیں۔ ’اس سے آگے قانون بھی خاموش ہے۔ قانون آگے اس پر کچھ نہیں کہتا کہ اگر نکاح ہو جائے تو پھر کیا کرنا ہے اور کیا اس نکاح کو ختم کیا جا سکتا ہے۔‘

کم عمری میں شادی

وہ بتاتی ہیں کہ ’شرعی قانون کو لاگو کر دیا جاتا ہے جس کے مطابق اگر کوئی لڑکی اور لڑکا بلوغت کو پہنچ گئے ہیں تو نکاح جائز ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اور اسی بات کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔

دعا زہرا کے کیس کے بارے میں بات کرتے ہوئے ندا نے بتایا کہ ’عدالت کے پاس جب ایسا کوئی کیس آتا ہے تو انھیں لڑکی کی عمر کا تعین کرنا چاہیے تھا جس کے کئی طریقہ کار ہیں۔ یہ میڈیکل کے ذریعے بھی کیا جا سکتا ہے اور بے فارم (پیدائش پر بننے والا سرٹیفیکیٹ) بھی یہ مسئلہ حل کر سکتا ہے۔‘

’اس کیس میں عدالت کو چاہیے تھا کہ وہ بچی کو پہلے دارالامان بھیجتے تاکہ اس پر کسی قسم کا کو دباؤ نہ ہوتا۔‘

’کم عمری والا نکاح ختم کرنے کی کوئی مثال نہیں ملتی‘

ایڈووکیٹ ندا علی کا کہنا ہے کہ اس کیس کو والدین یا شوہر کی موجودگی میں نہیں سنا جانا چاہیے کیونکہ ’ہمارے معاشرے میں یہ بھی حقیقت ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کیے جاتے ہیں یا شوہر کی طرف سے بیوی پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے (اور) اسے دھمکایا جا سکتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’ایسے نکاح کا اندراج بھی یونین کونسل میں نہیں کروایا جاتا۔ اس حوالے سے ہمیں پاکستان میں کسی قسم کا کوئی ڈیٹا نہیں ملتا۔‘

ندا علی نے بتایا کہ پاکستان میں آج تک کوئی ایک مثال بھی نہیں ملتی ہے جس کے تحت کسی کم عمری والے نکاح کو ختم کیا گیا ہو۔

’تاہم سندھ میں ایک مثال ملتی ہے جس میں ایک مسیحی لڑکی کو مسلمان بنا کر اس کی کم عمری میں شادی کی گئی۔ اس کیس میں عدالت نے اس بنیاد پر وہ نکاح ختم کیا تھا کہ اس لڑکی کو زبردستی مسلمان کیا گیا تھا۔ اگر وہ مسلمان ہوتی تو شاید عدالت یہ نہ کرتی۔‘

اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے سابق چیئر پرسن پنجاب کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن فوزیہ وقار نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ زیادہ تر کم عمری کی شادی میں نکاح نامے کو خالی چھوڑ دیا جاتا ہے اور دستخط کروا لیے جاتے ہیں۔

’ان نکاح ناموں پر بعد میں اپنی مرضی سے لکھ لیا جاتا ہے جس کی کوئی تصدیق نہیں کروائی جاتی۔‘

ان کے مطابق ’اس معاملے کو روکنے کے لیے قاضی کا کردار انتہائی اہم ہے (کہ) وہ تمام تر معلومات کی تصدیق کے بعد نکاح کروائیں۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24135 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments