فیض احمد فیض:عشق بن یہ ادب نہیں آتا


فیض صاحب کے شاعرانہ انداز فکر کی ایک دنیا اسیر ہے۔ ان سے محبت کرنے والوں کے کئی درجے ہیں۔ ایک تو ان کی شاعری کے مداح ہیں۔ ان کے لب و لہجہ کے اسیر، فارسی، عربی و ہندی کی آمیزش سے بنی اردو زبان کے رسیا۔ دوسرے ان کے فکری و فنی رعنائیوں سے سجے رومانوی تصور عشق کے عاشق اور تیسرے فیض کی شاعری میں موجود انسانی آزادی اور سیاسی اور انقلابی شعور کے قصیدہ گو اور ثناخواں۔ فیض صاحب کے یہاں بین الاقوامیت کا گہرا شعور، ملکی صورت حال کے مختلف ادوار کی بے مثال عکاسی، دنیا بھر کے مظلوموں کی ترجمانی اور انسانی احساسات اور جذبات کا ارفع بیاں انہیں دیگر شعرا سے منفرد و ممتاز کرتا ہے۔ کئی سخن شناس و سخن فہم ہوں گے جو فیض سے زیادہ کسی اور شاعر کو پسند کرتے ہوں گے یا فیض کی شاعری پر ان کی شاعری کو فوقیت دیتے ہوں گے، مگر حقیقت یہ ہے کہ 2021 تک ڈاکٹر محمد اقبال کے بعد اگر کسی شاعر کو اردو زبان و شاعری سے شغف رکھنے والوں میں اس درجہ پذیرائی ملی ہے تو وہ فیض ہیں۔

اس وقت میرے سامنے جناب اشفاق حسین کی کتاب، ”فیض کی محبت میں“ ہے۔ جس کا بنیادی متن سید نعمان الحق کی کتاب ”نسخہ ہائے وفا: کلیات فیض“ ہے۔ اشفاق حسین صاحب کی کتاب کے مندرجات پر تفصیلی بات کرنے سے پہلے میں نعمان الحق صاحب کی کتاب پر کچھ کہنا ضروری سمجھتی ہوں کہ اشفاق صاحب کی کتاب کا بنیادی حوالہ یہی کتاب بنی ہے۔ نعمان الحق صاحب کے ”مقدمہ“ کو میں نے ایک بار نہیں دو بار پڑھا ہے۔ اچھے الفاظ، طویل مگر موزوں جملوں اور محاوروں سے سجی اچھی نثر لکھتے ہیں۔

مگر ان کی اس تحریر نے مجھے جابجا چونکایا ہے۔ نعمان صاحب فیض صاحب کے حوالے سے رقم طراز ہیں : ”ان کی دنیا میں حقیقت سے بلند تر مقام مجاز کا ہے۔“ مزید برآں یہ کہ ”اس کا غم نہیں، کہ بنی نوع انسان مصلوب کیے جا رہے ہیں، بلکہ رونا اس بات کا کہ چاند قتل ہو رہا ہے۔“ میں حیران ہوں کہ بنی نوع انسان کی مصلوب حیات، زیست کے مصائب و مشکلات اور المیے اگر فیض کی شاعری کے موضوعات نہیں ہیں تو پھر کس کے ہیں؟ مزدوروں اور محنت کشوں کے آلام، عوام کے دکھ درد کی ترجمانی، سرمایہ داری اور سامراجی طاقتوں کے خلاف نبرد آزمائی، جبر کی فضا میں آخری فتح تک جدوجہد، سماجی، شعوری و سیاسی بیداری، ظلم، زیادتی، استحصال و استبداد اور بے انصافی کے خلاف بھرپور احتجاج، وطن عزیز میں بپا ہونے والے سانحات، اور عالمی سطح پر امن کے حصول کی آرزو مندی، فیض صاحب کی شاعری کے بنیادی موضوعات ہیں۔ ہاں مگر ”زنداں کی ایک شام“ جسے فیض صاحب نے یہ چیلنج دے کر امر کر دیا ہے کہ :

چاند کو گل کریں تو ہم جانیں

اردو شاعری کے عاشقوں کے لئے یہ مصرعہ ایک عجیب کشش کا حامل ہے۔ جب کہ نعمان صاحب کہتے ہیں کہ، ”رونا اس بات کا ہے کہ چاند قتل ہو رہا ہے۔“ تو چلئے اب اس آفاقی نظم کی آخری سطر سے قبل کی چند سطریں ملاحظہ ہوں :

ظلم کا زہر گھولنے والے
کامراں ہو سکیں گے آج نہ کل
جلوہ گاہ وصال کی شمعیں
وہ بجھا بھی چکے اگر تو کیا
چاند کو گل کریں تو ہم جانیں

رومانویت کی تہ داری میں لپٹا ہوا، دل میں ”درد کے کاسنی پازیب“ بجاتا، دماغ کو اسیر کردینے والا یہ مصرعہ، قید خانے کی تنہائی، تاریکی، اذیت، دکھ اور بے بسی کی انتہا پر خود کو ناکامی اور مایوسی سے بچانے اور اسی خارزار راستے پر چلتے رہنے کی ایک عظیم کمٹمنٹ کے طور پر ابھرتا ہے کہ اس راستے پر پاؤں ہی نہیں بلکہ جگر بھی چھلنی ہوتے ہیں اور اکثر خودسری کے پیمان بھی ٹوٹتے ہیں۔ فیض صاحب کا کمال یہ ہے کہ اس افسردہ نظم کی ایسی دلدوز فضا کو بیان کرتے ہوئے بھی نظم کی سطح پر شعری جمالیات کو مجروح نہ ہونے دیا۔ اور یہیں کچھ لوگوں کو گمان گزرتا ہے کہ فیض صاحب حقیقت کے نہیں مجاز کے شاعر ہیں۔

نعمان صاحب کو غم ہے کہ ”فیض کی شاعری کو زمانی و مکانی زندگی کے تابع کر دیا گیا ہے۔“ شاعر کے زمان و مکان کا تعین کیے بغیر بھلا کسی کی شاعری کو سمجھنے کی کوشش کامیاب ہو سکتی ہے۔ ہر بڑے شاعر کی شاعری اپنے زمان و مکان کا احاطہ کرتی ہے۔ شاعری خلا میں معلق نہیں ہوتی ہے۔ شاعر اپنی ذاتی زندگی کے اتار چڑھاؤ کے علاوہ، اپنے اردگرد کے معاملات، معاشی و معاشرتی، مذہبی و سیاسی صورت حال، تہذیب و تمدن، غرض کہ جو کچھ معاشرے میں ہو رہا ہوتا ہے، اس سے براہ راست اکتساب کرتا ہے اور یہی اس کی شاعری کے موضوعات بنتے ہیں، ۔ مثال کے طور پر غالب کی معرکت الآرا غزل، جس کا پہلا شعر ہے کہ:

ابن مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی

کا پس منظر جاننے کے بعد یعنی ”زمان و مکان کا تعین“ کرنے کے بعد ہی اس پوری غزل کا مفہوم آپ پر واضح ہو گا۔ اگر آپ صاحب دل ہیں تو یہ شعر آپ کو غالب کے دکھ تک رسائی دے گا۔ اس شعر کی اثر پذیری آپ پر واضح ہو گی کہ اس غزل کے وجود میں آنے کے محرکات کیا تھے۔ اس ضمن میں دوسری مثال شکسپیئر کے حوالے سے دینا چاہوں گی۔ دنیا میں جہاں جہاں انگریزی ادب پڑھایا جاتا ہے، وہاں وہاں شکسپیئر پڑھایا جاتا ہے۔ شکسپیئر انسٹیٹیوٹ برمنگھم ہو یا دیگر ادبی ڈپارٹمنٹ، ساڑھے چار سو سال سے شکسپیئر کی شاعری، ڈراموں اور اس کی زندگی کے مختلف ادوار پر ریسرچ جاری ہے۔ کئی کتابیں شایع ہو چکی ہیں۔ کئی پیپرز شایع ہو چکے ہیں اور تواتر کے ساتھ شایع ہو رہے ہیں۔ مگر ایک سوال وہ کہ جس کا جواب شکسپیئر پر کام کرنے والے ریسرچرز اب تک نہ ڈھونڈ پائے۔ اور اس سوال کا تعلق براہ راست شکسپیئر کی ”زمانی و مکانی زندگی“ سے ہے۔ جب بھی ادب کے اسکالرز شکسپیئر اور سولہویں صدی کے گولڈن ادبی پیریڈ یا سولہویں صدی کے ڈرامے اور شاعری پر کوئی نیا پیپر شایع کرواتے ہیں، تب شکسپیئر کے مداحوں میں چار صدیوں پہلے اٹھائے گئے اس سوال کے جواب کو جاننے کی خواہش پھر سے بیدار ہوتی ہے کہ شیکسپیئر کے سونیٹس میں بیان کردہ دو کردار ”فیئر یوتھ“ اور ”ڈارک لیڈی“ آخر کون ہیں۔

اور ان کرداروں کی کھوج میں ریسرچرز نہ صرف شکسپیئر کی زمانی و مکانی زندگی کو ہزارہا زاویوں سے کنگھالتے ہیں بلکہ شکسپیئر کے ہم عصروں کی تحریروں میں بھی ان کرداروں کو دریافت کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ کبھی وہ سولہویں صدی کی سرد شاموں میں عرشے پہ بیٹھے ملاحوں کے اداس گیتوں میں ”فیئر یوتھ“ کو ڈھونڈتے ہیں تو کبھی لندن کے گلوب تھیٹر کی آخری سیڑھی پہ بیٹھی نازنینوں میں ”ڈارک لیڈی“ کو تلاشتے ہیں۔ مگر اب تک یہ کردار دریافت نہیں ہو پائے ہیں۔ اس ضمن میں کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔

زبانوں کی وسعت کے حوالے سے، اردو زبان کے اثرات کے سوتوں پر بات کرتے ہوئے نعمان صاحب، ہندوستان کی فلم انڈسٹری کو ”بالی وڈ کا سوقیانہ کارخانہ ”قرار دیتے ہیں۔ یا الٰہی! فن کی ایک شاندار دنیا کے لئے یہ الفاظ؟

وہ بالی وڈ جہاں یوسف خان، دلیپ کمار بن کر پون صدی آرٹ کے سنگھاسن پر راج کرتا ہے اور اللہ رکھا دلیپ کمار، اے آر رحمن بن کر دنیا کے کامیاب ترین موسیقاروں کی صف میں آ کر دنیائے فلم کا معروف ترین آسکر ایوارڈ لیتا ہے۔ ہندوستان پر جتنی یلغاریں ہوئیں، جس طرح اس کے حصے بخرے کیے گئے، جس طرح وہاں انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنائے گئے اور خون کی ندیاں بہائی گئیں اور اس کے تمدن کو تاراج کرنے کی کوشش کی گئی، وہ تاریخ کا انمٹ باب ہے۔

چونکہ قوموں کا زوال ان کے ادب اور تمدن یعنی فنون لطیفہ کی بربادی سے مشروط ہے اور تہذیب کا براہ راست دار و مدار ”فنون لطیفہ“ پر ہوتا ہے۔ لہذا معاشی بدحالی و معاشرتی استحصال کے بدترین دور میں بھی ہندوستانیوں کی مزاحمت ان کے فن میں زندہ رہی۔ بالی وڈ کا وہ ہندوستان جس کی GDPانگریزوں کے آنے سے پہلے 27 فیصد تھی اور جب انگریز اسے تباہ حال کر کے اپنے گماشتے یہاں چھوڑ کر بھاگے تو اس بدقسمت خطے کی GDPمحض 3 فیصد تھی۔

مگر چونکہ یہ زمین ”تہذیب“ کی زمین تھی۔ بابل و نینوا اور یونان سے بھی قبل یہاں تہذیب کی حکمرانی تھی لہذا اس نے اپنی خاک سے پھر اک نیا جنم لیا۔ اور فائن آرٹس کی تمام تر جہتوں کو ساتھ لے کر دنیا کی سب سے بڑی آرٹ و فلم انڈسٹری بن کر اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی۔ رقص، موسیقی، شاعری، فن مجسمہ تراشی اور مصوری۔ یہی ہے نہ کل پونجی آرٹ کی؟ دنیا میں فنون لطیفہ کی یہ تمام تر فارمز کہیں اور اپنی تمام تر تابناکی کے ساتھ اس طرح پائندہ ہیں تو مجھے دکھائیے۔ اس کا مرکز و منبع ہندوستان کا بالی وڈ ہے جہاں فنون لطیفہ کی عظمت اپنی پوری آب و تاب سے جگمگا رہی ہے۔

اردو جسے ہم کہتے ہیں، اسے ہندوی کہئے یا ریختہ۔ ہندی کہئے یا اردو۔ آج کے دور میں اس کی اثر پذیری بہت حد تک اسی بالی وڈ کی مرہون منت ہے جسے آپ ”سوقیانہ“ قرار دے رہے ہیں۔ اردو کو ہندوستان میں ”ہر قوم کی زبان“ بنانے والی یہی ہندی (اردو) ہے جو کمال نغموں، شاندار اداکاری و ڈائریکشن اور رقص و موسیقی کے ہمراہ حقیقی، تصوراتی، تخیلاتی اور دل لبھاتی داستانوں کی دنیا کے ہزار ہا ناٹک لئے سینما کے پردے سے گھر گھر پہنچی ہے۔

معاشی، اخلاقی یا معاشرتی طور پر جنگوں میں برباد قومیں نابود بھی ہو جائیں تو بھی اپنی تہذیب کی بنا پر ہی پہچانی جاتی ہیں۔ وادیٔ سندھ کی مدفون تہذیب میں ہتھیار نہیں ملا۔ ڈانسنگ گرل کا مجسمہ ملا ہے تو سندھ کی تہذیب، خواہ اکھڑے سانسوں کے ساتھ ہی سہی، زندہ ہے۔ اور ملیا میٹ ہو گئیں وہ جارح اقوام جو اس تہذیب کو برباد کرنے حملہ آور ہوئیں تھیں۔

نعمان الحق صاحب یہ بھی فرماتے ہیں کہ ”خیال رہے کہ انگریزی اسی وقت تک زندہ ہے جب تک آکسفورڈ انگلش ڈکشنری زندہ ہے۔“ الہی خیر! ایسا اندھا اعتماد اور ایسا کلمہ! زبان و بیان کے عاشقوں کو تو میر کے تتبع میں،

لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام

ایسے انتہا پسندانہ اور سویپنگ ریمارکس سے ہر ممکن گریز کرنا چاہیے۔ عالم کی بصیرت و بصارت، مطالعہ و مشاہدہ اس کو تشکیک کے مراحل تک لے جاتا ہے۔ حرف آخر اس کی لغت میں نہیں ہوتا۔ سقراط جیسا دانا بھی اپنے علم پر نازاں ہونے کے بجائے کہہ اٹھا تھا کہ: ”I know that I know nothing“

اگر تو انگریزی زبان کا جینا مرنا آکسفورڈ ڈکشنری کے ساتھ مشروط ہے تب تو اس زبان کو آکسفورڈ ڈکشنری سے پہلے زندہ ہونا چاہیے تھا نہ رہنا چاہیے تھا۔ آکسفورڈ ڈکشنری 1884ء میں پہلی بار شایع ہوئی تو کیا اس سے مراد یہ لی جائے کہ 1884ء سے پہلے انگریزی زبان زندہ نہیں تھی؟ واضح رہے کہ یہ بات اس زبان کے لئے کہی جا رہی ہے جس زبان میں تین ہزار ایک سو بیاسی سطروں پر مشتمل شاہکار رزمیہ نظم Beowulf آٹھویں صدی میں تخلیق ہوئی، یعنی آکسفورڈ ڈکشنری کے وجود میں آنے کے دس صدیوں پہلے، اور یہ نظم آج بھی دنیا کی عظیم ترین درسگاہوں میں پڑھائی جاتی ہے۔

یونیورسٹی آف آکسفورڈ کا قیام 1096ء اور یونیورسٹی آف کیمبرج کا قیام 1209ء میں عمل میں آیا۔ اور اکیسویں صدی کی دوسری دہائی تک، دنیا کے ہر تعلیمی سروے کے مطابق، یہ دونوں یونیورسٹیاں دنیا کی پانچ بڑی یونیورسٹیوں میں شامل ہوتی ہیں۔ اور پھر ادبی حوالے سے سرزمین انگلستان نے آکسفورڈ ڈکشنری مرتب ہونے سے پہلے کیا کیا ہیرے پیدا کیے ۔ جیوفری چوسر، جون ڈن، ایڈمنڈ سپینسر، کرسٹوفر مارلو، فلپ سڈنی، بن جانسن، جان ملٹن، شکسپیئر، ڈینئل فو، جوناتھن سوئفٹ، غرض یہ کہ شاعری، افسانے، مضامین، تنقید اور ناول لکھنے والے ناموں کی ایک کہکشاں ہے جو ختم ہونے کو نہیں آتی۔

ا ور پھر وہ زبان کہ رومان کی زبانیں بھی جس پر رشک کریں۔ جہاں بھی دو نفوس محبت کے لئے جڑیں تو I love you کے بنا اظہار گونگا ہی رہے۔ جو سائنس کی زبان بھی ہے تو فلسفے کی زبان بھی۔ جو نفسیات کی زبان بھی ہے تو کمپیوٹر کی زبان بھی۔ اور ادب کی زبان تو وہ ہے ہی، اگر دیکھئے تو آج بھی سب سے بڑا ناول نگار اور نظم نگار برطانیہ کا ہی تو ہے۔ تو ایسے میں یہ دعویٰ کیا معنی رکھتا ہے۔

انگریزی اب دنیا کے ہر ترقی یافتہ و ترقی پذیر خطے کی زبان ہے۔ آج کے دور میں ماڈرن، تہذیب یافتہ یا ترقی یافتہ کہلوانے کے لئے انگریزی جاننا ہی کافی ہے۔ انگریزی زبان نہ صرف برطانیہ، آئرلینڈ، کینیڈا، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا و امریکا کی دفتری، سرکاری و عوامی زبان ہے، بلکہ دنیا بھر میں غیرملکی زبان اور سیکنڈ لینگویج کے طور پر بھی اس زبان کے بولنے والے ممالک کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ دنیا جہاں کے تارکین وطن اسے سیکھنے کے لئے ہزاروں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔

وہ زمانے ہوا ہوئے جب کہا جاتا تھا کہ چین ہر سبجیکٹ اپنی ہی زبان میں ترجمہ کر کے پڑھا تا ہے۔ آج انگریزی زبان کے آن لائن اسکولوں اور اداروں میں انگریزی سیکھنے والے چینی بچوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ غور کیا جائے تو جو مقام و مرتبہ آج انگریزی زبان کا ہے وہ دنیا میں کبھی کسی زبان کا نہیں رہا ہے۔ کوئی بھی زبان اتنی ڈھیر ساری سرحدیں عبور کر کے دنیا کے گولے پر اس طرح کبھی نہیں پھیلی۔ آج جہاں جہاں انٹرنیٹ کی رسائی ہے وہاں تک انگریزی زبان پہنچ سکی ہے۔

اور اگر ادب کی بات کریں تو آج اگر ہم روس، چین، جاپان، ساؤتھ کوریا، فرانس، جرمنی، انگولا، برازیل، میکسیکو یا رومانیہ یا دیگر ممالک میں لکھے ہوئے ادب کو پڑھ پاتے ہیں یا یہ ادب ہم تک پہنچتا ہے تو یہ بھی انگریزی کی وجہ سے ہی ممکن ہے۔ بغیر انگریزی میں ترجمہ ہوئے کیا کسی کے لئے بھی ان تمام زبانوں میں لکھا جانے والا ادب پڑھنا ممکن ہے۔ تو خیر۔ اس ضمن میں تو بات سے بات نکلتی چلی جائے گی۔

احساسات کی ترجمانی، جذبات کے بہاؤ اور زندگی کرنے کے امکانات کو کسی ڈکشنری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ زبانیں اور زبانوں کی اساطیر، نظمیں، کہانیاں اور قصے، پہیلیاں اور لطائف کسی بھی ڈکشنری کے مرتب ہونے سے بہت پہلے انسانی روابط، واقعات، حادثات، تجربات، مشاہدات اور محسوسات کی لاجواب کہانیاں بیان کرتی تھیں۔ جب ڈکشنریاں نہیں تھیں، گیت لکھے جاتے تھے، سنے اور گائے جاتے تھے۔ طویل داستانیں سنی اور سنائی جاتی تھیں۔ جن میں انسانی تصورات و خیالات، جذبات و احساسات، آسمانی و زمینی معاملات اور زندگی کے ہیجانی، نفسیاتی اور نفسانی مسئلے و فلسفے پوشیدہ تھے، جن کا بیان آج بھی حیرت زدہ کر دیتا ہے۔

یہ ڈکشنریاں یا لغات مرتب کرنا تو ماضی قریب کی بات ہے۔ جب انسان کو یہ اندازہ ہوا کہ کسی بھی زبان کے وہ الفاظ و محاورے جو روزمرہ کے علاوہ کبھی کبھار ہی سہی مگر بولے جاتے ہیں یا وجود رکھتے ہیں، یا وجود رکھتے تھے اور نت نئی زبانوں کے اشتراک سے بننے والے نئے الفاظ کے کثرت استعمال سے متروک ہوتے جا رہے ہوں ان کا ریکارڈ ان کے مفاہیم کے ساتھ رکھا جائے۔ اور ان کو یکجا کر دیا جائے۔ انگریزی کی طرح ہر اہم زبان کی لغت میں دیگر زبانوں کے الفاظ، یا بگڑتے بنتے مروج و غیر مروج الفاظ سے لے کر نئی ایجادات کے ناموں او ر ان کے استعمال کے لئے نت نئے الفاظ مسلسل شامل ہوتے رہتے ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی جس حساب سے ہر روز حیرت کا ایک نیا چیپٹر رقم کر رہی ہے، اسے سوائے انگریزی زبان کے کن زبانوں کے الفاظ میسر ہیں؟ ایک ایسی زبان جس کی دس سو سال پرانی یونیورسٹی آج بھی ہر سروے میں اول درجے پر ہو، اس زبان کے متعلق ایسا بے بنیاد دعویٰ لغو ہی کہلائے گا۔ اس طرح کے شگوفے کھلانا دانشمندانہ فعل نہیں ہے۔

اور اس کے بعد نعمان صاحب نے فیض صاحب کی شاعری کے غلط سلط املا اور عروض کو درست کرنے کی ٹھانی ہے۔ میں شاعر نہیں ہوں مگر میرا شاعری سے تعلق ایسا ہی ہے جیسا کہ فطرت کے حسن یا مظاہر کے عاشق کا ہوتا ہے۔ مجھے پرندوں کی چہچہاہٹ میں نغمے سنائی دیتے ہیں۔ ہواؤں کے چلنے سے پھولوں کی لرزاہٹ میں شعر سنائی پڑتے ہیں اور صحرا میں ناچتے مور کی سنگت میں جھومتے بارش کے قطروں پہ لکھی نظمیں صاف دکھائی پڑتی ہیں۔ اور پھر فیض صاحب کی افسوں بھری شاعری نے عمر بھر مجھے اپنے حصار میں رکھا ہے۔ لہذا اس کتاب سے، جس کے بارے میں نعمان صاحب کا یہ خیال ہے کہ ”آج تک کلام فیض کے جتنے ایڈیشن شایع ہوئے ہیں ان میں سب سے زیادہ معتبر نسخہ غالباً یہی کلیات فیض ہے۔“ تو اس کتاب میں دلچسپی پیدا ہونا ایک فطری امر تھا۔

مگر یہ کتاب پڑھنے کے بعد مجھے حیرت ہوئی کہ فیض صاحب کی مقبول نظمیں اور ان کی معروف غزلوں کے وہ اشعار جو عوامی پذیرائی حاصل کر چکے ہیں، انہیں بھی غلط نقل کیا گیا ہے۔ دیکھئے فیض صاحب کے کلام کو درست لکھنے، پڑھنے اور سمجھنے کے چار مستند حوالے ہو سکتے ہیں۔ بالترتیب :فیض صاحب کے ہر مجموعے کا ایڈیشن، نسخہ ہائے وفا کتابی سائز، نسخہ ہائے وفا پاکٹ سائز اور سارے سخن ہمارے۔ نعمان صاحب کے دعوے کے مطابق ان کا ترتیب و تدوین شدہ مجموعہ ان چاروں حوالوں سے خوب تر سمجھا جائے کہ اس میں املا کے ساتھ ساتھ تمام تر دیگر اغلاط کو درست کر دیا گیا ہے۔

مگر یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ اس میں جا بجا غلط اشعار نقل کیے گئے ہیں۔ لاپرواہی یا لا علمی ملاحظہ ہو کہ کہیں کہیں تو ٹوٹل چار مصرعے یعنی ایک قطعہ ہے مگر چاروں مصرعوں میں غلطیاں موجود ہیں۔ اعراب کی غلطیوں سے کئی مصرعوں کو بے وزن کر دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ اہل حکم کے سر اوپر بجلی کڑکڑا دی گئی ہے۔ اعراب کے نہ ہونے سے تلفظ کے مسائل پیدا ہو نا لازمی ہیں۔ اعراب، الفاظ کی درست ادائیگی میں معاون ہوتے ہیں۔

کئی ایسے الفاظ ہیں جو زیر اور زبر کے فرق سے با اعتبار مفہوم بے حد مختلف ہو جاتے ہیں۔ انہیں صرف اعراب کی مدد سے ہی درست پڑھا اور سمجھا جا سکتا ہے۔ اس وقت اردو زبان پر اعراب کی جس قدر ضرورت ہے شاید ماضی میں کبھی نہ رہی ہو۔ جس کی ایک مثال لفظ ”کتابچہ“ ہے۔ حالات یہ ہیں کہ ٹیلی ویژن سکرین پہ اناؤنسر کو ”کتابچہ“ کے بجائے ”کتا۔ بچہ“ کہتے سنا گیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ غلط تلفظ کے حق میں جو دلائل سننے کو ملتے ہیں وہ مزید روح فرسائی کا باعث بنتے ہیں۔

اشفاق حسین صاحب کی جانب سے، نعمان صاحب کی کتاب میں اعراب پر اٹھائے گئے اعتراضات پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ فیض صاحب کے چاروں مستند نسخوں میں بھی اعراب کہیں ہیں، کہیں نہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ پھر تدوین کرنے والے کا کیا کمال ہوا؟ لہٰذا قاری کے لئے اس ضمن میں یہ سوال اٹھانا ناگزیر ہے کہ آخر اتنی اہم ذمے داری سے صرف نظر کیوں کیا گیا؟ عین ممکن ہے کہ نعمان صاحب کہیں کہ بھئی اصل نسخوں میں بھی تو کہیں اضافت ہے کہیں نہیں ہے یعنی۔

ہر چند کہیں کہ ہے نہیں ہے۔ مگر تنقید و تحقیق کے طالب علم ہونے کے ناتے یہ ان کا فرض ہونا چاہیے تھا کہ وہ مستند ترین حوالے کو پیش نظر رکھتے، تحریف تو خیر کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں مگر پیش نظر یہ ہونا چاہیے تھا کہ معمولی سے معمولی اشارہ بھی نظرانداز نہ ہو۔ نعمان صاحب اگر اضافتوں اور اعراب کی اہمیت سے انکاری ہیں تو پھر ان کے ہاں مکمل طور پر ”اعراب“ نہیں ہونے چاہیے تھے۔ کہیں اعراب ہیں کہیں نہیں، والا معاملہ تو بہت مستحسن معاملہ نہیں ہے۔

یہ محض ع غ، ش، ق یا زیر زبر کا معاملہ نہیں ہے۔ عروض کے علاوہ یہ اردو زبان کا تلفظ درست رکھنے بلکہ اردو زبان کو پاکستان میں بچانے اور سنوارنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ اساتذہ سے سیکھا ہے کہ ادب کی دنیا میں بڑا دعویٰ کرنے سے احتراز کرنا چاہیے، اور اگر ایسا دعویٰ ناگزیر ہے، تب بھی کئی اساتذہ کی صائب آرا کی مدد سے الفاظ کے محتاط چناؤ سے ایسی بات کہنی چاہیے جو حرف آخر محسوس نہ ہو۔ اور یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر اشفاق حسین جیسے عاشق فیض کو ڈاکٹر نعمان صاحب کی کتاب میں موجود فیض صاحب کے کلام کی درستگی کے لئے ایک اور کتاب لکھنی پڑی۔

کسی بھی کتاب کی خوبیوں اور خامیوں پر سرسری بحث، تنقیدی محافل میں گفت و شنید یا اس کے بارے میں علمی و ادبی حوالوں سے رائے دینا بھی یقیناً مستحسن اقدامات ہیں۔ مگر ایک ایسی کتاب، جس پر بات کرنے کے لئے، یا جس پر تنقید کرنے کے لئے بہت زیادہ گنجائش موجود ہو، اسے غیر اہم کہہ کر ریجیکٹ کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ اس کے کمزور پہلوؤں کی نشاندہی مدلل طریقے سے، تفصیل کے ساتھ کی جائے۔ میں میتھیوآرنلڈ کے بیان کردہ تنقید کے بنیادی اصولوں کی معترف ہوں کہ تنقید کام پر ہوتی ہے نہ کہ کام کرنے والے پر ۔

اور یہ کہ نقاد کو منصف اور بے لاگ ہونا چاہیے۔ گروہ بندی و ذاتی منفعت سے دور ہونا چاہیے اور تنقید کے بنیادی تقاضوں، اصولوں اور مدارج سے آگاہی ہونے کے ساتھ ساتھ اسے تنقید کے مکاتب فکر کی بھی جانکاری ہونی چاہیے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسے اپنے کہے ہوئے اور لکھے ہوئے لفظوں اور خیالات کی مکمل ذمے داری لینی چاہیے۔ اور مجھے یہ لکھنا اچھا لگ رہا ہے کہ اس کتاب میں اشفاق حسین صاحب نے تنقید و تحقیق کے ان بنیادی فنی لوازمات سے روگردانی نہیں کی۔

تحقیق ایک طویل، پیچیدہ اور صبر آزما کام ہے۔ تحقیق کے مختلف طریقے ہیں۔ مگر عام طور پر ہمارے پاس تحقیق دو طرح سے ہوتی ہے یعنی یا تو آپ اپنی ملازمت کی وجہ سے معاشی فائدے کے لئے فنڈ کے حصول کے بعد ڈپارٹمنٹ پسند تحقیق کرتے ہیں، یا پھر اگر تحقیق آپ کے مزاج کا حصہ ہے تب پھر آپ اپنے من پسند موضوع یا کسی اہم ادبی شخصیت پر تحقیق کرتے ہیں اور اس میں صلے یا ستائش کی تمنا اور کسی مالی منفعت کا امکان زیر غور نہیں آتا۔

بس موضوع یا صاحب تحقیق کے حوالے سے مکمل انصاف کا خیال دامن گیر رہتا ہے۔ اس کے علاوہ بہت کم ایسا دیکھا گیا ہے (گو مغربی دنیا میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں ) کہ کسی غیر مکمل تحقیق پر نظرثانی کرتے ہوئے کسی محقق کو اس پر ایک تحقیقی کتاب تصنیف کرنی پڑ جائے۔ ایسی تحقیق کو ریکارڈ کی درستگی کے ساتھ ساتھ ادبی تاریخ کی درستگی کی اہم علمی و ادبی کوشش کہنا بے جا نہ ہو گا۔ زیر نظر کتاب ”فیض کی محبت میں“ تحقیق کی بے شمار وجوہات سے آگے نکل کر ایک ایسے دائرے میں داخل ہو گئی ہے جہاں ماجرائے عشق بھی اس کے ہم رکاب ہے۔

فیض صاحب پر اشفاق حسین کی پہلی کتاب ”فیض حبیب عنبر دست“ 1992 میں آئی۔ جس میں فیض صاحب کی جلاوطنی کے دن جو انہوں نے ٹورنٹو (کینیڈا) میں گزارے اور اس بابت ان کا انٹرویو اور اشفاق صاحب کا ایک بھرپور مضمون شامل ہے۔ اگلے سال یعنی 1993 میں ان کی کتاب ’فیض کے مغربی حوالے ”آئی جسے انہوں نے

’an imagery of Faiziology in Western hemisphere‘ .

کا عنوان دیا۔ 1994 میں اشفاق صاحب نے ”مطالعہ فیض یورپ میں“ مکمل کی۔ جس میں یورپ کے حوالے سے لکھی فیض صاحب کی شاعری، فیض صاحب کے انٹرویوز، اور مغری مشاہیر کے فیض صاحب کو لکھے گئے خطوط اور ان کی شاعری و شخصیت پر لکھے مضامین شامل ہیں۔ گوپی چند نارنگ صاحب نے اس کتاب کا دیباچہ تحریر کیا۔ 1994 میں ہی اشفاق صاحب نے ”مطالعہ فیض امریکہ اور کینیڈا میں“ مکمل کی جسے ایجوکیشن پبلشنگ ہاؤس دہلی نے شایع کیا۔ اس کتاب میں امریکہ اور کینیڈا میں رہنے والے تارکین وطن کے فیض صاحب کے بارے میں لکھے مضامین شامل ہیں۔

2006 میں اکیڈمی آف لیٹرز کے تعاون سے اشفاق حسین صاحب کی کتاب ”فیض احمد فیض شخصیت اور فن“ منظر عام پر آئی۔ اسے فیض صاحب پر پہلی باقاعدہ بائیو گرافی کہا جاتا ہے۔ نامور شاعر جناب افتخار عارف صاحب نے اس کتاب کا دیباچہ لکھا۔ 2011 میں ”فیض تنقید کی میزان پر “ شایع ہوتی ہے۔ اشفاق صاحب نے اس کتاب میں 1942 سے لے کر 2010 تک، فیض صاحب پر 53 اکابرین کے لکھے مضامین پر نہایت سیر حاصل مقدمہ لکھا۔ اسی سال شیشوں کا مسیحا ”کے عنوان سے اشفاق صاحب نے فیض صاحب کے مداحوں کے لئے، فیض صاحب پر لکھی اپنی پانچ کتابوں کو منظم کیا۔

جو کہ نئی دہلی انڈیا سے شایع ہوئی۔ اسی سال یعنی 2011 میں ہی“ فیض اے پویٹ آف پیس فرام پاکستان ”اس کتاب کو اشفاق صاحب نے ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کے ساتھ مرتب کیا۔ اس کتاب میں فیض صاحب کی شاعری اور فلسفے پر لکھے گئے مضامین کو یکجا کیا گیا ہے۔ یہ کتاب پاکستان سٹڈی سینٹر کراچی نے شایع کی ہے۔ 2015 میں اشفاق صاحب نے“ فیض بیروت میں ”لکھی۔ جسے مثال پبلشر فیصل آباد نے شایع کیا۔ یہ کتاب دراصل فیض صاحب کے حوالے سے من گھڑت اور بے بنیاد قصے کہانیاں بیان کرنے والی ایک کتاب کے ردعمل کے طور پر لکھی گئی۔

اس کتاب کا مقصد فیض صاحب کی زندگی اور ان سے جڑے واقعات کو درست صحت کے ساتھ، حقائق کو مد نظر رکھتے ہوئے بیان کرنا تھا تاکہ آئندہ آنے والے محققین کی رہنمائی کی جا سکے۔ زیر نظر کتاب بھی فیض صاحب کی شاعری کو درست تناظر میں دیکھنے کی ایک قابل تعریف کاوش ہے۔ اس تحقیقی تصنیف کے ذریعے فیض صاحب اب“ اکیڈیمک ریسرچ ”کے دائرے میں داخل ہو چکے ہیں۔ بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گی کہ فیض اب باقاعدہ موضوع تحقیق و تالیف ہو چکے ہیں۔ اب خواہ نعمان صاحب اسے“ فیشن ”کہیں یا کچھ اور۔

اردو زبان و ادب میں ریسرچ کے اعتبار سے ”ریسرچ ورک کا کنونشن“ شاید متعین نہیں ہے۔ جیسا کہ انگریزی زبان میں کی گئی ریسرچ کے لئے کم از کم تین عدد ریسرچ اسٹائل APA، MLA، Harvard موجود ہیں اور ہر یونیورسٹی کا ہر ڈپارٹمنٹ اپنے ریسرچرز کو کسی ایک سٹائل میں کام کرنے کا پابند بناتا ہے۔ تمام تر پنکچوایشن، یعنی فل سٹاپ، کا مہ، کولن، سیمی کولن، بریکٹ، کوٹیشن مارک، سپیس، نمبرز اور ایکرونمس وغیرہ کے استعمال کا ایک مخصوص اصول بتایا جاتا ہے اور پورا تھیسس یا مقالہ انہی اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے لکھا جاتا ہے۔

آپ کہیں بھی، کسی بھی حوالے سے ان اصولوں سے روگردانی نہیں کر سکتے۔ جب کہ اردو زبان میں ایسا کوئی تحقیقی کنونشن متعین نہیں ہے۔ کہیں وقفہ، کہیں سکتہ، کہیں کسی علامت سے پہلے یا بعد میں کیا کرنا ہے یا کیا نہیں لکھا جا سکتا، وغیرہ وغیرہ، اس ضمن میں ہمارے یہاں کوئی لگے بندھے اصول یا ضوابط نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں کی گئی ریسرچ کی کتابوں میں بہت بے ضابطگیاں نظر آتی ہیں۔ اشفاق صاحب نے اس ضمن میں کچھ اصول واضح کیے ہیں جو درج ذیل ہیں۔ وقفہ اور سکتہ کے بعد ایک سپیس۔ انورٹڈ اور سنگل کا مہ سے پہلے یا بعد میں کوئی سپیس نہیں۔ مصرعہ کے آغاز میں کوئی سپیس نہیں۔

کتاب کلچر دنیا کے ایک بڑے حصے میں زوال پذیر ہے۔ پاکستان میں بھی کتابیں شایع کرنا ادب یا علم کی پروموشن سے زیادہ تجارت بن چکا ہے۔ کتاب میں کیا لکھا گیا ہے، اس سے ہمارے پبلشر کا لینا دینا کم ہے۔ نہ ہی پبلشرز کی اکثریت کے پاس پروفیشنل پروف ریڈرز ہیں جو یہ دیکھیں کہ کتاب کی طباعت میں املا یا اعراب وغیرہ کی کہیں کوئی غلطی تو نہیں رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پبلشر کسی بھی موضوع پر کتاب شایع کرنے سے پہلے اس موضوع پر دسترس رکھنے والے سکالرز سے رابطہ نہیں کرتے جو کہ کتاب کو شایع کرنے سے پہلے اس کا ”پیئر ریویو“ کریں۔

پیئر ریویو کرنے والا اسکالرز کا وہ گروپ ہوتا ہے جو کتاب کے موضوع اور متن پر مہارت رکھتا ہے۔ اور کتاب کو شایع کرنے سے پہلے اس کے سائنسی، علمی، ادبی اور پیشہ ورانہ مندرجات پر غور و فکر کے ساتھ اپنی نپی تلی دیانت دارانہ رائے دیتا ہے کہ آیا یہ کتاب شایع کی جانی چاہیے یا نہیں اور یہ کہ اس کتاب کی اشاعت کیوں ضروری ہے اور اس کتاب کو کن مکاتب فکر کی طرف سے پذیرائی ملنے کا امکان ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس کتاب کی اشاعت ایک بزنس سے زیادہ نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ میں کتابوں کی بھرمار ہے مگر ان کی کوالٹی کے بارے میں خاموشی اختیار کرنا بہتر ہے۔ آخر یورپ سے چھپنے والی انگریزی کتابوں میں غلطیاں کیوں نہیں ہوتیں۔ اس سوال کا جواب مجھے اس وقت ملا جب میری کتابیں برطانیہ سے شائع ہوئیں۔

کتابیں چھپتی ہیں۔ صاحب ذوق افراد کی لائبریریوں کی زینت بنتی ہیں۔ اسکول، کالج، یونیورسٹیز اور دیگر لائبریریز میں پہنچتی ہیں۔ مگر بہت کم لوگ ایک ایک لفظ پر دھیان دیتے ہیں، کیونکہ یہ عام قاری کا مسئلہ نہیں ہے۔ اچھے قاری یعنی مستقل پڑھنے والے کتاب دوست قاری کی تربیت یوں ہو جاتی ہے کہ ٹائپوز، املا یا گرائمر کی معمولی غلطی کو اس کا ذہن اسے درست کر کے پیش کرتا ہے، اگر نہیں تب بھی وہ ان غلطیوں سے صرف نظر کرنا سیکھ جاتا ہے اور انہیں درست ہی پڑھتا ہے۔

مگر نثر اور شعر کے معاملے میں نقاد اور محقق کا معاملہ مختلف ہوتا ہے اور اگر نہیں تو مختلف ہونا چاہیے۔ اسے باریک بین ہونے کے ساتھ ساتھ دیدہ ور بھی ہونا چاہیے، ساتھ ہی غلطیوں کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ان کی درستگی کا فریضہ بھی انجام دینا چاہیے۔ یہ الگ بات ہے کہ ادب کے میدان میں ایسے فیصلے محبت اور ریاضت کے ساتھ ساتھ آنکھوں کا نور، خون جگر اور عمر کا ایک حصہ بھی مانگتے ہیں۔ بہت کم دانشمند ادب دوست اہل قلم آج کے دور میں ان تمام ذمے داریوں سے اس قدر خوش اسلوبی سے عہدہ برا ہو سکتے ہیں۔

یہ بات بذات خود کس درجہ لائق تحسین ہے کہ کوئی صاحب علم کسی کتاب کی کمی بیشی کو درست کرنے کے لئے ایک کتاب لکھے تاکہ معیار ادب کا تعین ہو سکے، شاعر کا اصل کلام درست صحت و معنٰی و مفہوم کے ساتھ محفوظ رہ سکے اور تنقید و تحقیق کے میدان میں قاری کی تربیت بھی ہو۔ جس طرح سمجھدار مورخ تاریخ کی سمت درست رکھنے کے لئے درست اعداد و شمار جمع کرتے ہیں اور زمینی حقائق کو مسخ کیے بغیر لکھتے ہیں۔ اسی طرح ادب کے حوالے سے بھی اگر کوئی غلط اور غیرمعیاری بات منسوب ہو جائے تو پھر اس کو درست کرنا ایک مشکل امر ہو جاتا ہے۔ لہذا ایک اچھے نقاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بگاڑ کو درست کرے اور پڑھنے والوں کی رہنمائی کرے۔

مجھ سمیت نہ معلوم کتنے عاشقان فیض ہوں گے جو کہیں گے ”جانے دیجیے“ مگر اشفاق حسین جیسے صاحب بصیرت محقق، شاعر، استاد، ادب و سخن شناس نے ”جانے دیجیے“ پر قناعت نہیں کی۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ شاعر کو اپنی شاعری سے عاشقی کرنا ہی مطلوب و مقصود ہوتا ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا شاعر ہو جو اپنے پسندیدہ شاعر کے لئے اس قدر سنجیدگی سے کام کرے کہ اس پر لکھی جانے والی ہر تحریر اور کتاب کی قرات کرنا بھی اپنی ادبی ذمے داری خیال کرے۔

اور اگر اس کتاب یا تحریر میں کوئی سقم ہے تو احسن طور سے اس کتاب کے مندرجات کی روشنی میں اس کی اصلاح کرے۔ اب چونکہ محبوب اور عاشق کا معاملہ دوسرا ہوتا ہے۔ عاشق محبوب سے کی جانے والی معمولی سی زیادتی پر بھی تڑپ اٹھتا ہے۔ چونکہ اشفاق صاحب ایک صاحب دل شاعر اور موزوں طبع محقق ہیں اور ان کی تحریروں میں دلداریٔ فیض موجزن ہے۔ لہذا تقاضائے حب کی شمولیت سے اس کتاب میں چاشنی، جمالیات، دلنشینی، دلربائی اور محبوبیت تو پیدا ہونی تھی۔

ممکن ہے کچھ لوگ اشفاق صاحب سے سوال کریں کہ آخر نعمان الحق کی کتاب پہ کیوں لکھا؟ اس کا سادہ سا جواب ہے کہ اگر آپ کسی سبجیکٹ پر دسترس رکھتے ہیں تو صاحب علم کو اپنے علم کی خیرات نکالتے رہنا چاہیے۔ علم بانٹنے سے پڑھتا ہے اور اجالا بڑھانے میں آپ کا نام بھی شامل ہو گا۔ اپنے حصے کی شمع جلاتے جائیں۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ معمولی غلطیاں نہیں ہیں۔ اشفاق حسین کے دلائل موثر ہیں۔ ان میں عروض و قواعد کی سمجھ اور شاعرانہ دانش موجود ہے۔

اور نہایت باریک بینی و عرق ریزی سے انہوں نے اس دقیق کام کو عالمانہ انداز سے پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔ یہ ایک مشقت طلب کام تھا۔ ہر مصرعے کی درستگی سے قبل ایک شائستہ اور دلچسپ فقرہ یا جملہ باعث مسکراہٹ بنتا ہے۔ اور یہ خشک اور سنجیدہ کاوش دلچسپ بن جاتی ہے۔ یہ ایک نہایت خوش آئند امر ہے کہ کسی بھی کتاب کی خوبیوں اور خامیوں کو اجاگر کرنے کے لئے اور طالبعلموں کی رہنمائی کرنے کے لئے ایک اور کتاب لکھی جائے۔

بلکہ میں تو کہتی ہوں کہ ہر اہم کتاب کو اسی باریک بینی سے دیکھنے، غور کرنے اور درستگی کے مراحل سے گزارنے کی ضرورت ہے۔ اردو ادب کے طلباء کے لئے تو یہ خیر ہے ہی مگر عاشقان اردو شاعری اور فیض صاحب کے چاہنے والوں کے لئے بھی اشفاق صاحب کی یہ کتاب ایک نایاب تحفہ ہے۔ فیض صاحب کا کلام محفوظ تو تھا ہی مگر اشفاق حسین صاحب کی زیر توجہ کتاب ”فیض کی محبت میں“ کے ذریعے نہ صرف ان کے کلام کو غلط تلفظ کے ساتھ پڑھنے کا راستہ روک دیا گیا ہے، بلکہ جو غلطیاں چاروں نسخوں میں ہیں ان کی بھی تصحیح ہو گئی ہے۔ کیونکہ جو اعراب، علامتیں، اضافتیں، مرکب الفاظ اور تراکیب ان چاروں نسخوں میں غلط تھے، نعمان صاحب کے ہاں بھی غلط ہی ہیں۔

یہ کتاب ادب، لغت، لفظیات، گرائمر اور فیض صاحب کی شاعری کی تفہیم کے حوالے سے دوررس نتائج کی حامل ہے۔ اس میں شاعری کے رموز سے بھی سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس خالصتاً علمی، ادبی اور تحقیقی کاوش کو ہمارے ادباء و شعراء، تحقیقی منزلوں کے مسافر، اور قابل صد احترام پروفیسرز اور ادبی چیئرز کے سربراہان کس طرح دیکھتے ہیں؟ آج اور مستقبل کا ادبی مورخ جب فیض صاحب کی شاعری یا ان کی شخصیت اور زندگی کے متعلق سوالات اٹھائے گا، اسے اشفاق صاحب کی کتابوں سے رہنمائی لینی ہو گی اور اس کتاب کا حوالہ ایک اہم ترین ریفرنس کی صورت میں آئے گا۔

اشفاق صاحب کے فیض پر تحریر کردہ ادبی سرمائے سے فیض چیئر کا انعقاد تو کیا ہی جا سکتا ہے۔ کم از کم اس کتاب پر اعزازی پی ایچ ڈی کی سند کی سفارش تو کی ہی جا سکتی ہے۔ اب اشفاق صاحب پر لازم ہے کہ فیض شناسی و فیض فہمی سے لے کر فیض یابی کا سلسلہ اس نسل کے لئے شروع کریں جو کہ اردو بھی رومن میں لکھتی ہے اور زیر زبر سے سروکار بہت ہی کم رہ گیا ہے۔ ان پر یہ ذمے داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ فیض صاحب کے کلام کا ایسا مجموعہ مرتب کریں، جس میں اعراب ہو ں تاکہ پڑھنے والے مستقبل میں فیض صاحب کے اس نسخے کو بحیثیت ریفرنس استعمال کریں۔

فیض صاحب کے کلام کے معنی اور ان کی تفہیم و تفسیر کے لئے بھی اشفاق صاحب کو آگے آنا پڑے گا۔ اور اگر ممکن ہو تو کلام فیض کو سمجھنے کے لئے ایک شرح بھی لکھیں کہ ان سے بہتر کون لکھ سکتا ہے۔ یہ سلسلہ رد و تشکیل، بہتر سے بہتر کام کرنے کا عمل رواں رہنا چاہیے۔ لفظ لفظ پر محنت و محبت ایک کار عظیم ہے اور بقول خدائے سخن :

عشق بن یہ ادب نہیں آتا


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments