شتر کینے کی عرب روایت اور گھڑی کا بدلہ
سولہ اپریل کو شہزادے نے شہباز شریف کو فون کر کے سعودی عرب کے دورے کی دعوت دی تھی۔ دفتر خارجہ نے بھی بتایا کہ وزیراعظم وہاں شہزادے کی دعوت پر جا رہے ہیں۔ وہ سج گج کے پہنچ بھی گئے۔
لگتا ہے کہ پاک سعودی تعلقات دوبارہ بہتر ہو رہے ہیں۔ مگر سعودی قومی جانور شتر کا کینہ بھی مشہور ہے اور بدو اسے پسند بھی بہت کرتے ہیں۔ اب کینہ کو آپ کمینہ سے خلط ملط کر کے یہ مت سمجھیں کہ اونٹ بہت ذلیل، بدخصلت اور سفلہ جانور ہوتا ہے بلکہ شتر کینہ کا مطلب اونٹ کی عداوت، دشمنی اور بدلہ ہے۔
قبائلی معاشروں میں جہاں مہمان نوازی کی روایت اہم ہوتی ہے وہیں بدلے کی روایت اہم ترین ہوتی ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ کپتان کو امریکہ جانے کے لیے شہزادے نے خاص طور پر اپنا شاہی جہاز دیا تھا لیکن واپس پر آدھے راستے سے جہاز واپس بلا کر کپتان کو اتار دیا۔
اس سلسلے میں دو روایات عوام میں مشہور ہیں۔ پہلی یہ کہ کپتان نے شہزادے کی دی ہوئی نادر و نایاب گھڑی کو دل سے لگانے کی بجائے بازار میں بیچ دیا۔ گھڑی کیا بیچی، یوں کہیے کہ شہزادے کی محبت بیچ دی اور اس کا دل توڑ دیا۔ دوسری روایت یہ بیان کی جاتی ہے کہ کپتان نے شاہی جہاز میں پرواز کرتے ہوئے شہزادے کے بارے میں کچھ کلمات کہہ دیے۔ یہ خیال بھی نہ رکھا کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں، خاص طور پر شاہی جہاز کی دیواروں کے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ وہ کلمات اسی وقت شہزادے تک پہنچے تو شاہی جہاز نے کپتان کو وہیں واپس پہنچا دیا جہاں سے چلا تھا۔
لیکن جیسے ایک اونٹ دل میں بات رکھتا ہے، ویسے ہی ایک عرب بھی احسان یا طوطا چشمی کبھی نہیں بھولتا نہیں۔ اب ایسا نہ ہو کہ شہزادہ وہی مشہور گھڑی شہباز شریف کو تحفے میں دے دے کہ وہ جانتا ہے کہ عربوں اور اونٹ کے علاوہ شریفوں کا کینہ بھی بہت مشہور ہے۔ پھر شہباز شریف ہر سرکاری ملاقات اور جلسے میں وہی نادر گھڑی پہن کر تصویر اتروایا کریں گے۔ ویسے بھی بات کرتے وقت وہ مجسم حبیب جالب بنے رہتے ہیں اور بازو بہت لہراتے ہیں۔ اب وہ بازو اونچا کر کر کے گھڑی دکھایا اور شریکوں کا دل جلایا کریں گے۔
یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ گھڑی کا قصہ جتنا زیادہ مشہور ہو چکا ہے، اس کے بعد لوگ اعتراض کریں گے کہ وزیراعظم شہباز شریف کو ملنے والے تحفے کو توشہ خانے میں جمع ہونا چاہیے اور وزیراعظم وہاں قانونی ادائیگی کر کے گھڑی لے لیں تو پھر بھی بعض لوگ شور مچائیں گے۔
لیکن ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ بادیہ نشین بدوؤں کے کینے کے علاوہ ان کی دانش اور حکمت بھی بہت مشہور ہے۔ اگر شہزادے نے وہ تحفہ براہ راست پاکستانی وزیراعظم کو دینے کی بجائے سعودی عرب میں موجود ایک عام پاکستانی شہری مسمی حسین نواز شریف کو دے دیا اور اس عام پاکستانی شہری نے عید پر وہ تحفہ اپنے پیارے چچا جان کی نذر کر دیا تو پھر توشہ خانہ بائی پاس ہو جائے گا اور لوگ رسیدیں مانگتے رہ جائیں گے۔ اب پانامہ کا زمانہ تو ہے نہیں کہ اپنے بچوں بھتیجوں سے ہدیہ لینے پر بھی نااہلی ہو جائے۔


