یہ کوئی کتاب نہیں
محمود الحسن کو میں نے ادیب یا صحافی کے بجائے ادب کے ایک پُر شوق اور بے مثال قاری کے طور پر جانا۔ کوئی دس بارہ سال پہلے، اُن سے ملاقات ہوئی، آصف فرّخی نے تعارف کرایا، اور وہ مجھے بھا گئے۔ اس کا روباری دنیا میں ادب سے ایسا عشق! طبیعت میں اتنا ضبط اور ٹھیراﺅ! پھر تو جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اور محمود الحسن سے ملاقاتیں یا باتیں ہوتی گئیں، میرے دل میں ان کی قدر بڑھتی گئی۔ اور اِس وقت تو صورتِ حال یہ ہے کہ ہماری سرحدوں پر سیاست کی جو دیوار کھڑی ہے، اور جس کی روز بروز اونچی اور اونچی ہوتی ہوئی قامت سے وحشت ہونے لگی ہے، اس دیوار میں محمود الحسن کی حیثیت ہمارے لیے ایک کھڑکی کی ہے۔ ہم اسی سے کچھ تاک جھانک کر لیتے ہیں اور محمود کے لیے دعا کرتے ہیں۔
ہم تو خیر دور ہیں مگر انتظار حسین تو لاہور میں رہتے ہوے بھی محمودالحسن کے منتظر رہتے تھے۔کسی کتاب کی ضرورت ہو، کوئی حوالہ درکار ہو، ایسی ہر مشکل ان کے لیے محمود کی ہی مدد سے آسان ہوتی تھی۔ امریکا میں بیٹھے ہوے احمد مشتاق اور یہاں دِلّی میں محصور اِس حقیر کے لیے محمود کی ہستی کتنی بابرکت اور ضروری ہے، ہمی جانتے ہیں۔ میرے لیے، مشفق خواجہ کے بعد، محمود الحسن اس نیکی کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ اصل میں ادب کو زندگی کا مستقل وظیفہ بنا لینے والے تو بہت ہوں گے مگر اس بے لوثی کے ساتھ دوسروں کی مدد کرنا کچھ محمود کو ہی آتا ہے۔
انھوں نے اس سے پہلے انتظار حسین سے غیر رسمی بات چیت کا احاطہ کرنے والی ایک کتاب کے بعد اپنے محبوب شہر لاہور اور لاہور میں وقت گزارنے والے کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی اور کنھیا لال کپور کے بارے میں ایک انوکھی دستاویزی کتاب بھی شائع کی ہے۔ ”انوکھی اور دستاویزی“ اس لیے کہ اس نوعیت کی کتابیں اُردو میں بہت کم لکھی جاتی ہیں۔ محمود الحسن کے رویّے اور اسلوبِ تحریر میں خود نمائی کا عنصر یکسر مفقود ہے۔ اس میں کسی قسم کا مبالغہ ، تصنّع، تضحیک، بے جا تحسین اور تعریف بھی نہیں، ایک سیدھے سادے انسان کی دو خاموش، متلاشی اور متجسس نگاہیں ہیں جو اپنے موضوع کے اطراف بھٹکتی رہتی ہیں اور ادبی صحافت کے میدان میں سرگرم ایک نووارد لکھنے والا ہے جو نہایت مہذّب، متین اور محبت آمیز طریقے سے، ادب اور ادیبوں کے واسطے سے اپنے تأثّرات اور تجربوں کی روداد قلمبند کرتا جاتا ہے۔ محمود الحسن نے ایک مدت تک ادیبوں اور علمی دنیا یا کرکٹ کی دنیا کے مشاہیر کی یادیں مرتّب کیں اور اُن کے پروفائلز (نیم رُخ) لکھے۔ ہر اچھی تحریر کی طرح اُن کا مرکزی وصف بھی لکھنے والے کی سادہ بیانی اور دیانت داری ہے۔ ایک اور بہت بڑی خوبی جس سے محمود الحسن کی تحریریں مزین دکھائی دیتی ہیں، اُن کے حافظے کی دین ہے۔ وہ کوئی ضروری بات بھولتے ہی نہیں اور کسی غیر ضروری اطلاع کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اُن کا زاویۂ نظر ہر حال میں ایک ہوش مند قاری کا زاویۂ نظر ہوتا ہے، رائے زنی، اپنے ادیب یا مصنف ہونے کے زعم سے بالکل آزاد اور ایک خلوص آمیز انسان دوستی کے آثار سے گھرا ہوا۔ اُن کی یہ کتاب محمد کاظم، ڈاکٹر خورشید رضوی،انتظار حسین، ناصرکاظمی، محمد سلیم الرّحمن،منیر نیازی وغیرہ سے ہوتی ہوئی اسلم فرّخی کے تذکرے تک آتی ہے۔ بیچ بیچ میں گھر گلی اور بستیوں کا احوال۔ادب اور آرٹ کے مظاہر اور مسئلوں کی نشان دہی۔کتابوں کا تذکرہ۔ اس امتزاجی نظر سے اشخاص اور تصورات کی تصویر کشی نے ان مضامین کو (جو زیرِ نظر کتاب میں شامل ہیں) بہت دلچسپ، توجہ طلب اور متنوّع بنا دیا ہے۔ یہ کتاب نہ تو تنقید و تاریخ کی کتاب ہے، نہ روایتی معنوں میں قصّہ، تذکرہ یا داستان۔ یہ خیال کی آزادا نہ رَو یا میرا جی کے لفظوں میں ”دھیان کی موج“ بھی نہیں۔ اسے ہم محض اپنے ادبی اور تہذیبی ماضی کی دستاویز بھی یوں نہیں کہہ سکتے کہ اس کے اوراق میں اجاگر ہونے والے چہروں سے ہماری زندگی، ہمارے شہر اور راستے، ہماری محفلیں ابھی حال تک روشن تھیں۔ مگر راستے کس طرح چپ چاپ خالی ہو جاتے ہیں، ہماری زندگی کتنی خاموشی سے سُونی ہوتی جاتی ہے اور گھر، بستیاں، جلسے کیسے یکایک اُجاڑ نظر آنے لگتے ہیں، محمود الحسن کے ہر مضمون میں اس خسارے، محرومی اور افسردگی کے احساس کی آہٹ سنائی دیتی ہے۔ بڑے ضبط اور احتیاط کے ساتھ وہ نہ تو جذباتی ہوتے ہیں نہ کہیں اپنے رویّے کی متانت سے دست بردار ہوتے ہیں۔
ہمارے اس عہدِ کم عیّار کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ پچھلے بیس برسوں میں دنیا بہت تیزی سے بدلی ہے اور اجتماعی زوال کے ساتھ ہماری زندگیوں میں ابتذال کا ایک عجیب و غریب تماشا رونما ہوا ہے۔ سیاست اور معاشرت ہی نہیں ہمارے ادب، ادیب اور اخلاق بھی اس آشوب سے نہیں بچ سکے۔ یہ ”عہدِ ظلمت“ پچھلے تمام اندھیروں سے زیادہ گہرا اور ڈراﺅنا ہے۔ اسی لیے محمود الحسن نے بجا طور پر اپنی کتاب کے ابتدائیے کا اختتام نفسیات کے ممتاز عالم اور استاد ڈاکٹر محمد اجمل کے ان الفاظ پر کیا ہے : ”یاد ہی تو اصل انسانیت ہے۔“
احمد فواد نے ایک عرصہ پہلے اپنے شعری مجموعے کو نام دیا تھا کہ ”یہ کوئی کتاب نہیں“، محمو دالحسن کے ان نیم دستاویزی مضامین کے مطالعے نے بھی میرے اندر اسی سے ملتے جلتے تأثّر کو جنم دیا ہے، یہ کوئی کتاب نہیں۔ شاید ایک سندیسہ ہے!



